Friday, September 11, 2026

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے 

ہماری زندگی میں پہلے پہل ریڈیو آیا۔ بی بی سی اردو ہمارا مرغ باد نما ہوتا تھاجس سے ہم اپنی گھڑیاں ملاتےاور ہر خبر کی تصدیق بھی اسی سے کرتے تھے، گانے آل انڈیا ریڈیوسے سنتے تھے اور بناکا گیت مالا ریڈیو سیلون سے۔ پاکستانی فلموں کے ریڈیو پروگرامز"آجشبکو" دوپہر گیارہ سے بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے، اور دوپہر تین بجے  حسن شہید مرزا اور ساتھی خاتون میزبان حفیظ فاطمہ / شہلا صدیقی سے "کالا کولا کی محفل نامی میگزین پروگرام میں" ملاقات کرتے۔ شام ساڑھے پانچ بجے فوجی بھائیوں کے لیے خصوصی پروگرام سنتے اور رات آٹھ بجے ڈرامہ۔   بالآخر ایک دن  ریڈیو ہمارا دل بہلا کر رخصت ہوا۔

پھر ٹی وی بلکہ پی ٹی وی نے ہمیں اپنا دیوانہ بنایا ، اور تادیر بنائے رکھا یہاں تک کہ ہم طلعت حسین، خالدہ ریاست، شکیل، نیلوفر علیم، فاطمہ ثریا بجیا، سلیم ناصر، معین اختر، انور مقصود، بشری انصاری، عابد علی، عظمی گیلانی سے لے کر آصف رضامیر ، شہناز شیخ و مرینہ خان تک کے دیوانے ہوگئے ، لیکن ایک روز وہ بھی پیچھے رہ گیا۔ 



ٹی وی کے ساتھ ہی ٹیپ ریکارڈر بھی طاق پر در آیا، ہم نے اسے بڑے زور و شور سے چلایا، محلے والوں کا سکون برباد کیا، ساتھ لہک لہک کر خود بھی گنگنائے، بہت گیت سنے، رفیع، لتا، نورجہاں، مہدی حسن، نازیہ زوہیب۔ سجاد علی، ظفر اقبال، عطااللہ عیسیٰ خیلوی و پٹھانے خان کے کیسٹوں سے شیلف بھر لیے۔  بہت سارے ٹی وی پروگرام سونی اور ٹی ڈی کے کے ٹیپس پہ ریکارڈ کیے ۔۔ اب وہ سب کیسٹیں اسٹور روم کے ایک کارٹن میں دفن ہیں۔ ہم ہی وہ نسل ہیں جس نے اسٹیریو سسٹم پر ایسی کیسٹیں بھی سنیں جن میں دائیں اور بائیں اسپیکر پر ایک ہی وقت میں الگ الگ گانے سنائی دیتے تھے۔ 

 
پھر ہماری زندگیوں میں سینما آیا ہم محمد علی زیبا، ندیم شبنم، رانی وحید مراد، صبیحہ سنتوش، نیر سلطانہ، بابرہ دیبا اور نشو کے اسیر ہوگئے۔  ہم نے گلیوں میں سفید چادریں تان کر ان پر فلمیں دیکھیں۔ اور سینما تو ایک جادو تھا ٹی وی سے کئی گنا بڑی اسکرین، اندھیرا، ٹارچوں کی روشنی میں سیٹیں تلاش کرنا، پھر پہلے ایک پردہ سلو موشن میں اوپر اٹھتا، پھر دوسرا پردہ درمیان سے دونوں جانب سکڑتا جات اور اسکرین جگمگا اٹھتی، فلم شروع ہونے سے پہلے قومی ترانا۔ کیپری، پرنس، نشاط کی اسکرینیں اگر جین زی دیکھ لے تو دانتوں تلے انگلیاں داب لے، آج تینوں مرحوم ہوچکے ہیں۔ اور ملٹی پلیکس کے نام پر ایک چوتھائی سائز کی اسکرینوں میں فلموں کو قید کردیا گیا ہے جن تک عام آدمی کی رسائی بھی مشکل ہے۔ لیکن پھر سینما بھی ہار گیا اور  وی سی آرجیت گیا۔ 

وی سی آر نے ہمیں اپنا گرویدہ بنالیا، ہم نے لیڈوں پر ایک ایک رات میں چار چار موویز دیکھی ہیں۔ رینبو سینٹر کی خیر ہو جس نے ہمیں ہمارے فیورٹ اداکاروں کی فیورٹ موویز،  اور گیت مالاوں کی سپلائی جاری رکھی۔ ہم نے ہینڈی کیم پر فیملی فنکشنز اور دوستوں کی ویڈیوز ریکارڈ کیں اور وی  سی آر پر چلائیں، خود کو ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر خوش ہوئے لیکن اب ان ویڈیو ٹیپس کو چلانے کے لیے اب کوئی ایکوئپمنٹ موجود نہیں۔ ہم نے شادیوں میں ویڈیو بنانے کا ٹرینڈ شروع ہوتے دیکھا۔ 

پھر آیا اینٹڑٹینمنٹ کا بادشاہ، کمپیوٹر جو بیک وقت ہمارا آڈیو ویڈیو پلئیر ہوتا تھا جس کے آگے ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر، سینما سب ہیچ تھے۔ ہم نے ونڈو 98 اور ونڈو ایکس پی یوز کیں، ونڈوز ایکس پی کے آگے ہر ونڈو بے کار ہے لیکن آخر وہ بھی ایکسپائر ہوتے دیکھی۔
ہم نے ڈائل اپ کنیشن پر انٹڑ نیٹ کنیکٹ کیا اور ایک چار سے پانچ ایم بی ایم پی تھری گانے یا پکچر ڈاونلوڈ ہونے کا گھنٹوں انتظار کیا۔ جس کے درمیان میں یا تو فون کا تار ہل جاتا تھا یا پھر کسی کا فون آجاتا تھا جس کے بعد دوبارہ نئے سرے سے گانا ڈاونلوڈ کرنا پڑجاتا تھا۔

ہم نے فلاپی ڈسک کو ڈسکارڈ ہوتے دیکھا۔ ہم نے فلاپی کو سی ڈی سے، سی ڈی کو ڈی وی ڈی سے ، ڈی وی ڈی کو یو ایس بی سے اور یو ایس بی کو مائکرو ایس ڈی کارڈ سے شکست کھاتے دیکھا۔ ہم نے سی ڈی روم، ڈی وی ڈی روم، ڈی وی ڈی رائٹر تک کو ڈسکارڈ ہوتے دیکھا۔

ہم نے ہی  کمپیوٹر کو ڈیسک ٹاپ سے لیپ ٹاپ اور لیپ ٹاپ سے ٹیبلٹ بنتے دیکھا

ہم نے فون کو لینڈ لائن سے کارڈ لیس اور کارڈ لیس سے وائرلیس/ سیلولر ہوتے دیکھا۔ اور  ڈائل والے فون سے بٹنوں والے فون میں تبدیل ہوتے دیکھا، جس کے بٹنوں پر لکھی اے بی سی ڈی کا مقصد ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا۔
 ہم وہ آخری نسل ہیں جنہوں نے پبلک کال آفس دیکھا، استعمال کیا  اور   ٹیلپس اور ٹیلی کارڈ یوز کیے۔

ہم نے نوکیا 3310 یوز کیا، اور اس پر بہت اترائے بھی ۔ ہم نے 3310 پر  اپنے فیورٹ گانوں کی رنگ ٹونز کے کوڈ ٹائپ کیے، ہم نے سیل فون کو بلیک اینڈ وائٹ، مونو ٹیون نوکیا سے رنگین پولی فونک/ ملٹی ٹون اور پھر اینڈرائیڈ میں تبدیل ہوتے دیکھا۔

بھائیو ہم وہ ہیں جنہوں نے تین سے چھ ہزار روپے میں پہلی سم خریدی جو آج کمپنیاں مفت بانٹ رہی ہوتی ہیں۔😭 اور ہم نے ہی اندرون ملک رومنگ پر بھی ان کمنگ کال پر اپنا بیلنس کٹوایا ہے۔😒 لہذہ ہم ہی وہ نسل ہیں جنہوں نے موبائل پر سانپ والے گیم کے علاوہ مسڈ کال مسڈ کال والا گیم بھی بہت کھیلا تھا۔ اور ہمارے لیے ہی وہ جادوئی بیک لائٹ ایجاد ہوئی تھی جو رنگ بجنے سے پیشتر ہی یہ بتا دیتی تھی کہ مسڈ کال راستے میں ہے۔

ہم یوٹیوب کی اسٹریمنگ کے مارے ہوئے اب نیٹ فلکس دیکھتے ہیں۔

ہم ستر کی دہائی کے لوگ ہیں 

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں 

لیکن جتنا ڈائیورس اور بھرپور ہمارا زندگی کا سفر رہا شاید ہی کسی اور نسل کا ہو
              

👣   👣   👣