اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،
Showing posts with label Gen Alpha. Show all posts
Showing posts with label Gen Alpha. Show all posts
Tuesday, April 14, 2026
Thursday, February 19, 2026
جنریشن الفا، اردو اور ہماری خواہشیں
بچے اردو پڑھنے سے کتراتے ہیں، ابا نے ڈیوٹی لگائی کہ بچوں کو ایک گھنٹہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ بچے صبح سے دوپہر اسکول اور تین سے چھ تک ابا سے پڑھنے اور سات بجے قران کلاس کے بعد پڑھنے کے نام سے ہی بدکتے ہیں۔ اب آٹھ سے نو انہیں مزید پڑھانے کے لیے اسکول کی اردو/ اسلامیات کی کتب سے اردو پڑھانا تو بالکل ہی آوٹ آف کوئسچن تھا۔ ایکسپو سے خریدی ہوئی کتب میں ایک کتاب تھی "چچا چھکن نے تصویر ٹانگی" اسے پڑھ کر بچے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے۔
Thursday, December 25, 2025
فاطمہ نامہ 1
فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔
Subscribe to:
Comments (Atom)