رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری
ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔