یہ کتاب ہم نے آنکھوں سے نہیں پڑھی بلکہ کانوں سے سنی ہے۔ ہم نے اس کا ایک ایک لفظ معین اختر کی آواز میں ان کے شرارتی لہجے اور مخصوص انداز میں سنا ہے۔ ایسے جیسے وہ سامنے بیٹھے یہ فقرے ادا کررہے ہوں۔
اس کتاب میں وہ سارے پیارے لوگ ہیں جنہیں ہم اپنی فیملی کہتے ہیں، پاکستان ٹیلی وژن اور فلم کے اداکار، گلوکار، مصنف، ڈرامہ نگار، ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، بالی ووڈ کے ہیروز
یہ کتاب معین اختر کی زندگی کے بارے میں نسبتاً کم معلومات فراہم کرتی ہے لیکن یہ ضرور بتاتی ہے کہ وہ کس قدر محبت کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنی فیملی، دوستوں اوراپنے ارد گرد بسنے والے افراد سے کتنی محبت کرتے تھے۔
معین اختر نے کس قدر محبت سے مہدی حسن اور دلیپ کمار کا تذکرہ کیا ہے پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ اسی طرح بھارتی اداکار متھن، اکشے کمار اور انوپم کھیر کے ساتھ اپنی دوستی اور امریکہ میں ان کے شوز کی میزبانی کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے اور متھن اور انوپم کھیر کی پاکستان دشمنی اور اکشے کمار کی اینٹی پاکستان موویز دیکھ کر انہیں یقیناً دکھ ہوتا۔
معین اختر نے کتاب میں پاکستان ہجرت کے بعد کے حالات کا تذکرہ بھی کیا اور اپنے غربت کے دنوں کے دوستوں اور ان کی مہربانیوں کا بہت کھلے دل سے اعتراف بھی ۔ایک بہت مزے دار انکشاف انہوں نے اس کتاب میں کیا کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ان کے بہت قریبی اپنوں جیسے دوست تھے دونوں کے والد ہجرت سے پہلے سے ایک دوسرے کے پڑوسی اور دوست تھے اور پاکستان ہجرت کے بعد ایک بار جب معین اختر کے والد بے روزگار ہوگئے تو عشرت العباد کے والد ان کی فیملی کو زبردستی اپنے گھر لے گئے۔ معین اختر کی فیملی دو سال تک عشرت العباد کے ساتھ ان کے گھر پر مقیم رہی اور ان کا کھانا پینا بھی تقریباً مشترکہ تھا جس کا خرچ عشرت العباد کے والد ہی اٹھاتے تھے۔ دوسال بعد ان کے والد کی ملازمت دوبارہ شروع ہونے پر ان کے بہت زیادہ اصرار پر عشرت العباد کے والد نے انہیں اپنے گھر سے جانے کی اجازت دی۔
ایک کمی جو اس کتاب میں محسوس ہوئی وہ یہ کہ معین نے کچھ مضامین یا خاکوں میں تذکرہ کیا ہے کہ فلاں نے میرے بارے میں فلاں اخبار یا میگزین میں مضمون لکھا ۔۔ وہ مضامین اس کتاب کا حصہ ہونے چاہئیں تھے۔۔ ایک شاید انور مقصود کا لکھا ہوا تھا دوسرا ضیاء محی الدین کا ۔۔
معین کے اپنے دوستوں کے بارے میں لکھے ہوئے مضامین غالباً ان کی ڈائیریز سے لیے گئے ہیں ان مضامین پر تاریخ یا کم از کم مہینہ اور سال درج ہونا چاہیے تھا۔ ایک آدھ مضمون اچانک ایسے ختم ہوگیا جیسے بندہ لکھتے لکھتے کسی کام سے اٹھا ہو اور پھر دوبارہ مضمون پورا نہ کرسکا ہو ۔
خدا ان کی مغفرت کرے اور اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ آمین
💖💖💔💖💖