Wednesday, April 22, 2026

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے


یہ کتاب ہم نے آنکھوں سے نہیں پڑھی بلکہ کانوں سے سنی ہے۔ ہم نے اس کا ایک ایک لفظ معین اختر کی آواز میں ان کے شرارتی لہجے اور مخصوص انداز میں سنا ہے۔ ایسے جیسے وہ سامنے بیٹھے یہ فقرے ادا کررہے ہوں۔ 

اس کتاب میں وہ سارے پیارے لوگ ہیں جنہیں ہم اپنی فیملی کہتے ہیں، پاکستان ٹیلی وژن اور فلم کے اداکار، گلوکار، مصنف، ڈرامہ نگار، ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، بالی ووڈ کے ہیروز

یہ کتاب معین اختر کی زندگی کے بارے میں نسبتاً کم معلومات فراہم کرتی ہے لیکن یہ ضرور بتاتی ہے کہ وہ کس قدر محبت کرنے والے انسان تھے۔ وہ اپنی فیملی، دوستوں اوراپنے  ارد گرد بسنے والے افراد سے کتنی محبت کرتے تھے۔

معین اختر نے کس قدر محبت سے مہدی حسن اور دلیپ کمار کا تذکرہ کیا ہے پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ اسی طرح بھارتی اداکار متھن، اکشے کمار اور انوپم کھیر کے ساتھ اپنی دوستی اور امریکہ میں ان کے شوز کی میزبانی کا تذکرہ کیا ہے۔ ہم سوچ رہے تھے کہ آج اگر وہ زندہ ہوتے اور متھن اور انوپم کھیر کی پاکستان دشمنی اور اکشے کمار کی اینٹی پاکستان موویز دیکھ کر انہیں یقیناً دکھ ہوتا۔

معین اختر نے کتاب میں پاکستان ہجرت کے بعد کے حالات کا تذکرہ بھی کیا اور اپنے غربت کے دنوں کے دوستوں اور ان کی مہربانیوں کا بہت کھلے دل سے اعتراف بھی ۔ایک بہت مزے دار انکشاف انہوں نے اس کتاب میں کیا کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد ان کے بہت قریبی اپنوں جیسے دوست تھے دونوں کے والد ہجرت سے پہلے سے ایک دوسرے کے پڑوسی اور دوست تھے اور پاکستان ہجرت کے بعد ایک بار جب معین اختر کے والد بے روزگار ہوگئے تو عشرت العباد کے والد ان کی فیملی کو زبردستی اپنے گھر لے گئے۔ معین اختر کی فیملی دو سال تک عشرت العباد کے ساتھ ان کے گھر پر مقیم رہی اور ان کا کھانا پینا بھی تقریباً مشترکہ تھا جس کا خرچ عشرت العباد کے والد ہی اٹھاتے تھے۔ دوسال بعد ان کے والد کی ملازمت دوبارہ شروع ہونے پر ان کے بہت زیادہ اصرار پر عشرت العباد کے والد نے انہیں اپنے گھر سے جانے کی اجازت دی۔

ایک کمی جو اس کتاب میں محسوس ہوئی وہ یہ کہ معین نے کچھ مضامین یا خاکوں میں تذکرہ کیا ہے کہ فلاں نے میرے بارے میں فلاں اخبار یا میگزین میں مضمون لکھا ۔۔ وہ مضامین اس کتاب کا حصہ ہونے چاہئیں تھے۔۔ ایک شاید انور مقصود کا لکھا ہوا تھا دوسرا ضیاء محی الدین کا ۔۔

معین کے اپنے دوستوں کے بارے میں لکھے ہوئے مضامین غالباً ان کی ڈائیریز سے لیے گئے ہیں ان مضامین پر تاریخ یا کم از کم مہینہ اور سال درج ہونا چاہیے تھا۔ ایک آدھ مضمون اچانک ایسے ختم ہوگیا جیسے بندہ لکھتے لکھتے کسی کام سے اٹھا ہو اور پھر دوبارہ مضمون پورا نہ کرسکا ہو ۔

خدا ان کی مغفرت کرے اور اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ آمین

💖💖💔💖💖




Friday, April 17, 2026

اڈی جا ~ اڈی جا

کوک اسٹوڈیو سے ہمارا ویسے ہی اللہ واسطے کا بیر رہتا ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے فیورٹ سریلے گیتوں کا ریپ کرتے رہتے ہیں۔ روحیل حیات نے کوک اسٹوڈیو کو ایک معیار پر پہنچایا اور پہنچا کر چھوڑ دیا۔ ان کے بعد کئی میوزک ڈائریکٹرز نے کوک اسٹوڈیو کو سنبھالا دیا اس بیچ میں ایک وقت ایسا آیا کہ ہر ایرا غیرا بطور گلوکار کوک اسٹوڈیو میں گانے گاتا دکھائی دینے لگا۔ کوک اسٹوڈیو بہت ہی سیلیکٹو گانے ہیں جو ہمیں پسند ہیں۔ یوٹیوب پر سرفنگ کرتے کوک اسٹوڈیو کے مختلف ان سنے ان جانے گانے نظر آتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی ان پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Friday, April 10, 2026

کاہے کو بیاہی بدیس

شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔

Friday, April 3, 2026

Period. End of Sentence

ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال

Wednesday, April 1, 2026

کٹ کیٹ ہائیسٹ

اور ہم غریبوں کی محرومیاں 😋

اٹلی اور پولینڈ کے درمیان بارہ ٹن کٹ کیٹ غائب ہوگئی جسے یورپ میں کٹ کیٹ / چاکلیٹ کی سب سے بڑی چوری یا ڈکیتی قرار دیا جارہا ہے ۔یہ خبر سن کر جو پہلا خیال آیا کہ اتنی ساری چاکلیٹس جس کو مفت ملی ہونگی اس کے تو عیش ہوگئے ہونگے اس خیال کے پیچھے بچپن کی کئی  محرومیاں ہیں۔ 

بچے بڑے حیران ہوتے ہیں جب ان کو بتایا جائے کہ جب ہم آپ کی عمر کے ہوتے تھے تو آئسکریم، چپس، پاپ کارن، کولڈ ڈرنک، "ڈبے" والے بسکوٹ  اور چاکلیٹ اس طرح ہر گلی کے نکڑ پر دستیاب نہیں ہوتے تھے۔ یہ اشیاء  ہمارے لیے عیاشی ہوا کرتی تھیں۔

Friday, March 27, 2026

ٹی وی واچ 1.0

بات کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن ڈرائینگ روم کی صفائی کرتے ٹی وی کھلا تھا ایک چینل پر فیس بک کے نو فلٹر پیج والی خاتون وی لاگر ایک ڈرامے میں بٹو آپا بنی نظر آئیں ، ایک کامیڈی سیریل کی کوئی قسط تھی۔ ان کی اداکاری وی لاگز کی طرح ہی بے ساختہ تھی۔ڈرامہ بھی ہلکا پھلکا لگا، نو ساس بہو، نو ایکسٹرا میریٹل افئیر۔ ڈرامے کا نام نوٹ کیا، یوٹیوب پر ڈرامہ تلاش کر کے جب تک کی ساری قسطیں دیکھ ڈالیں۔ اور سلسلہ چل پڑا۔۔ ۔