Tuesday, May 5, 2026

تیرے باجوں وے میں ۔ ۔ ۔

ویسے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں نے فیملی کے ساتھ بچپن ہی سے بہت تفریح کی ہے، ہر وہ جگہ جہاں ہم اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ پہنچ سکتے تھے ہم نے نہیں چھوڑی۔ لیکن میری انفرادی سیر و تفریح کی شروعات 2010 سے شروع ہوئی۔ جب مجھے اسکالر شپ پر تین سال کے لیے مصر جانے کا موقع ملا۔

نیا ملک، نئی زبان، الگ تہذیب، بھانت بھانت کے لوگ۔ وہاں نہ ابا تھے نہ بھائی کہ آرڈر جاری کردو، دفتر سے واپسی پر مطلوبہ شے سامنے ٹیبل پر رکھی ملے گی۔ سب کچھ خود ہی کرنا تھا، حقیقت میں آٹے اور دال کا ہی نہیں آلو، پیاز، ہری مرچ، ٹماٹر کا صرف بھاو ہی نہیں معلوم ہوا اچھے برے کی بھی پہچان ہوگئی۔ روز ایک نیا تجربہ، روز ایک نئی دریافت۔ صرف یہی نہیں، انجان سڑکوں اور شہر میں تفریح بھی خود ہی کرنی تھی۔کب تک ہانٹڈ ہوسٹل میں بیٹھے رہتے۔ لہذہ چار زبانیں بولنے والی چار لڑکیاں کبھی مل کر کہیں چل دیتیں ، کبھی کہیں۔ صرف قاہرہ میں ہی نہیں ، کبھی مل کر الیکزینڈریا چلے جاتے، کبھی لکسر اور اسوان

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

Sunday, May 3, 2026

من کہ ایک فالور ہوں

ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔  اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]

Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط III

مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں 

 سن  دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف  چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی  کراچی  میں  یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا  ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک  قائم  کیا گیا۔   جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے  ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔  ابتدا میں جامعہ  دارالعلوم  کراچی نے  ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر  مخالفانہ مذہبی اور عوامی  رد عمل کے بعد  اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔  

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ہیومن ملک بنک:قسط I

پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک

کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔

محبت ایسا دریا ہے

کل رات امجد اسلام امجد کا لکھا شاندار ڈرامہ دریا مکمل دیکھا

مائی گاڈ ۔۔۔ اٹ از اے ماسٹر پیس ۔

پلاٹ، 

کہانی ، 

اورکہانی کی بنت میں مقامی روایتیں، رسم و رواج ، فوک متھ، 

زبان، اور سرائیکی لہجے میں مکالموں کی ادائیگی، 

لوکیشن، کاسٹیوم ، مقامی جیولری، آرٹ ڈائرکٹر نے بہت جان ماری ہوگی ان سب کے لیے 

اور بیک گراؤنڈ میوزک ، ہائے وہ بانسری جسے سن کر لگتا ہے کہ بندہ صحرا کے بیچوں بیچ پیاسا کھڑا ہو جیسے ۔ 

اتنا خوبصورت ڈرامہ روہی پر شاید ہی کوئی ہو۔