Friday, November 6, 2026

یادداشتائیں

بگ باس  ٹائپ پروگرامز ریمائینڈ می آف مائی ہاسٹل ان قاہرہ

دوسری جنگ عظیم کے زمانے کا ہانٹڈ فلیٹ
چار تہذیبوں سے چھ خواتین
ایک واش روم، ایک کچن، ایک چولھا
یوروپینز،،، بے زار
افریقنز،،، خوش اور مہربان
ایشئینز ،،،، ڈھیٹ
عرب ،،، سانوں کیہہ
جارجئین ،،، کیوٹ اینڈ کرٹئیس
دوستیاں، مفادات، سازشیں
صفائی کرنے پر جھگڑے
کچن اور واش روم پر مسابقت
فرج اور کچن کیبنٹ میں شیلف لینے پر جھگڑے
ڈیٹیں
یوروپینز کے بوائے فرینڈز کی آمد
ایشئینز اور عرب کااعتراض اور پھڈا
"لڑکے ناٹ الاؤڈ ان گرلز ہاسٹل"
ہائے میشا معصوم کے داخلے پر بھی پابندی
کوئی گل نئیں نہ آنے دو
ہم خود بوائز ہوسٹل میں غڑاپ
بالکنی میں "لیٹس ہیو اے کپ آف ٹی" پارٹیز
ایک بابا آدم کے زمانے کا ٹی وی جو اپنی مرضی سے چلتا تھا
انتظامیہ سے بے سود شکایتیں
ہانٹڈ موویز ساتھ دیکھنا اور چیخیں مارنا
رومینٹک موویز دیکھنا اور آہیں بھرنا
لڑنا، بھڑنا، لیکن ساتھ ہی رہنا اور انجوائے کرنا

💕💙💖💚😍💛💝💜💞


Friday, October 23, 2026

تذکرہ دو مختلف قسم کی موویز کا


گزشتہ ویک اینڈ ایک فلم دیکھ کر عجیب سا محسوس ہوا۔ بظاہر تو ایک ٹپیکل ٹین ایج مووی ہے جس میں چند ٹین ایج لڑکے اور لڑکیاں اٹلی کے مشہور ساحلی سیاحتی قصبے امالفی/امافی میں چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بیچ ویکیشن مووی ہے تو اس میں رج کے ڈھیروں ڈھیر بکنیز، بیچ والی بال، پپیاں جھپیاں ہیں۔ لیکن ہم نے اس مقصد سے یہ مووی نہیں کلک کی تھی۔ ہم اس سے پہلے اٹلی سے متعلق ایک اور مووی "انڈر دی ٹسکن سن" دیکھ چکے تھے جس میں ایک امریکی حسینہ چھٹیاں گزارنے ٹسکنی جاتی ہے یا شاید بریک اپ کے بعد ٹسکنی جاتی ہے اور وہ قصبہ اسے اتنا اچھا لگتا ہے وہاں کے لوگ اسے ایسے بھاتےہیں کہ وہ وہیں رہ جاتی ہے۔ ہم سمجھے یہ مووی بھی اسی قسم کی ہوگی ہمیں کیا پتا تھا اندر سے کچھ اور، اور باہر سے کچھ اور

Monday, October 19, 2026

مٹی دے باوے

چھوٹی اسکرین کا مولا جٹ جس پر فوری پابندی لگنی چاہیے 

ٹی وی ڈرامہ ہم دیکھتے ہیں تفریح کے لیے۔ ریلیکس ہونے کے لیے۔ لیکن یہ مٹی کے باوے نامی ڈرامہ جس،قدر قتل و غارت پرمبنی ہے اور اس کی اس قدر ریٹنگ ہے اس کا عوام کو کیا فائدہ ہورہا ہے ، کس قسم کی تفریح ہے یہ اور کیا سیکھ مل رہی ہے۔ قتل و غارت دیکھنا یا دکھانا اینٹرٹینمنٹ تو ہر گز نہیں ایسی ریٹنگ، ویسی اداکاری اور آسکر لیول پرفارمنس عوام تک ایکچوئلی کیا ڈیلیور کررہی ہیں۔

Friday, October 16, 2026

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کےبدلنے کا

گزشتہ عید کے دوسرے دن ہم ڈام گئے تھے ڈام بلوچستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک جانب صحرا ہے اور دوسری جانب سمندر اور اس کے درمیان اکلوتی سڑک کے ساتھ کچھ گوٹھ ہیں۔ ان گوٹھوں میں سے ایک گوٹھ میں جانا ہوا۔دوپہر کا وقت تھا شدید گرمی تھی ۔ میں نے صاحب خانہ سے کہا کہ یہاں سمندر بھی ہے اور صحرا بھی آپ لوگ گھر کے ارد گرد کھجور اور ناریل کے درخت کیوں نہیں لگاتے۔ سایہ بھی ملے گا اور پھل بھی ۔ دونوں کے لیے ساز گار موسم اور ماحول ہے۔ ابا نے کہا کہ میں آپ کو ناریل کے پودے لا دیتا ہوں۔
پکچر کریڈٹ : ابا حضور

Friday, October 9, 2026

عجیب و غریب شوق

ہمارا ایک بہت پرانا شوق لائبریری سے استفادے کا ہے۔ ہمیں جب بھی کہیں کوئی لائبریری نظرآجاتی ہے یا گھر کے قریب، دفتر کے راستے میں دریافت ہوتی ہے ہمیں یک لخت یاد آجاتا ہے کہ ہم اب تک کتنی ہی کتب پڑھنے سے محروم رہ گئے ہیں اور اپنا اتنا وقت ضایع ہوجانے کا افسوس ہونے لگتا ہے۔
اسکندریہ لائبریری، مصر

Friday, September 25, 2026

عجیب داستاں ہے یہ ~

ٹمبکٹو کے بدمعاش لائبریرینز 

جب ہماری اصلی فیس بک کسی نے ہیک کرلی تھی اور ہم موجودہ پروفائل بنا رہے تھے تو ہم نے اس میں ساری انفارمیشن غلط سلط ڈالی تھی۔ فیس بک کے مطابق ہماری عمر ایک سو دس سال بلکہ اس سے بھی اوپر ہوچکی ہے۔ جب فیس بک نے شہر کا پوچھا تو ہم نے مزےسے ٹمبکٹو لکھ دیا ۔ بچپن میں اطہر شاہ خان سے سنا تھا یہ نام بس یہی ذہن میں آیا اس وقت۔

چند سال پہلے ایک دوست نے ہمیں یہ کتاب گفٹ کی۔ دراصل یہ کتاب شان کے لیے تھی جو ہمارے لیے تھی وہ شان کے پاس چلی گئی اور یہ ہمارے حصے میں آئی۔ اور جو ہماری تھی وہ شان نے کہیں اوبر یا کریم میں سفر کرتے گم کردی۔ تو ہم نے اسی پر قبضہ کرلیا۔ پہلی مرتبہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن دس صفحے پڑھ کر چھوڑ دی ہمیں ویسے بھی ناول شاول نہیں سمجھ آتے۔

پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ پڑھنی شروع کی۔ تو پتا چلا کہ ٹمبکٹو کس قدر شاندار شہر رہ چکا ہے جس کی اپنی ہی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے۔ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا تو ٹمبکٹو نام نہاد سیاہ براعظم، افریقہ میں علم کا سورج بن کر چمک رہا تھا یہاں قاہرہ اور بغداد سے علماء درس و تدریس کے لیے آیا کرتے تھے اوریہاں کے علماء اور اساتذہ دنیا بھر کے موضوعات پر ہاتھوں سے کتب لکھ رہے تھے۔ مذہب، سائینس، فلسفہ، ریاضی، طب دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس پر ٹمبکٹو میں کتب نہ لکھی گئی ہوں۔ یا دنیا بھر سے ان کے قلمی نسخے جمع نہ کیے گئے ہوں۔