Friday, August 14, 2026

تقسیم کے موقعے پر ہندو اور مسلم جائدادوں کا وٹہ سٹہ

رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری

ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔

Friday, August 7, 2026

روایتی گیتوں کا فیمنسٹ تجزیہ

ہم ایسے ہی ساون کے گانے سنتے سنتے "اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا" تک جاپہنچے۔ یہ گانا بچپن میں سنا تھا کیونکہ فاطمہ ثریا بجیا کے ہر ڈرامے میں آدھی درجن شادیوں میں ضرور گایا جاتا تھا۔ تو لازمی طور پر اس سے ناسٹیلجیا کی خوشبو آئی ۔

Friday, July 31, 2026

محمد رفیع کے چند پسندیدہ گیت

آج محمد رفیع صاحب کی کوئی سی ویں برسی ہے ۔ محمد رفیع کے پسندیدہ ترین گانوں میں سے چند ایک ، یہ وہ گانے ہیں جن کو سنتے ہوئے ہم خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور ایک مرحلہ آتا ہے جب ہم ساتھ سر ملانے پر مجبور ہوجاتےہیں۔ لیکن اس بات کا خیال کر کے کہ کوئی آس پاس تو نہیں ۔ گانے تو ان گنت ہیں جو ہمیں پسند ہونگے ۔ لیکن ہمارے موبائل کلیکشن میں سے چند ایک گانے آپ بھی سنیں اور سر دھنیں

Friday, July 24, 2026

کچھ انڈر ریٹڈ بالی ووڈ موویز

آج پیش ہے کچھ ہماری فیورٹ انڈر ریٹیڈ بالی ووڈ موویز کا تعارف۔ ہمیں سپر اسٹارز کی موویز کے بجائے ایسی فلمیں زیادہ بھاتی ہیں جن کے اداکار چاہے غیر معروف ہی ہوں یا اداکاروں کی لسٹ میں پہلی کے بجائے دوسری یا تیسری قطار میں ہی آتے ہوں کیونکہ دوسری یا تیسری قطار میں آنے والے اداکار اپنی شہرت اور اپنے اسٹارڈم کے قیدی نہیں ہوتے۔ اور آزادی سے اداکاری کرتے ہیں ایسی اداکاری جس میں وہ اپنے کردار میں سما جاتے ہیں ، گم ہوجاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں اسی کردار کی ادائیگی کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔

دو دونی چار

ایک مڈل کلاس اسکول ٹیچر جو اپنی سفید پوشی کا بھرم بمشکل قائم رکھے ہوئے ہے،صبح اسکول ، شام کو کوچنگ سینٹر میں پڑھاتا ہے۔ دو بچے جو گھر کے معاشی حالات سے خوش نہیں۔ ایک چھوٹی سی فیملی جن کا فریج ٹھیک کام نہیں کررہا لیکن وہ فرج کے لیے جو پیسے جوڑ رہے ہوتے ہیں درمیان میں پھپھو کے سسرال میں شادی آجاتی ہے جہاں جانا بھی ہے اوقات سے بڑھ چڑھ کر لینا دینا بھی کرنا ہے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی رکھنا ہے۔ ایک ایماندار ٹیچر اور ایک پریشان حال سفید پوش باپ کی کشمکش پر مبنی ایک بہترین مووی

Friday, July 17, 2026

عدنان شاہ ٹیپو: ایک باکمال اداکار

میں نے جب ٹی وی باقاعدگی سے دیکھنا چھوڑا اور پروفیشنل لائف کی ذمہ داریاں سر پر پڑیں تو اس وقت ٹی وی پر اداکاروں کی سیکنڈ یا شاید تھرڈ جنریشن آرہی تھی ۔۔ یعنی شکیل، عابد علی، روحی بانو، عظمی گیلانی، ساحرہ کاظمی والی جنریشن  کے بعد فضیلہ قاضی،اسد، نعمان اعجاز، عتیقہ اوڈھو وغیرہ بھی اپنا سکہ جما چکے تھے ۔ اور کچھ نئے پدے پدے سے لوگ کچھ نئےنئے عجیب و غریب شوز لے کر ٹی وی پر آنے لگے تھے وی جے ختم ہوچکا تھا لیکن آڑے بانگے اداکاروں اور فنکاروں کی ایک کھیپ ٹیلی وژن پر نظر آنے لگی تھی جن میں مانی، اس کی سابقہ بیگم [اسےبھی ماں کے کردار میں دیکھ کر شاک لگا مجھے]۔ ڈاکٹر اور بلا کے کچھ ارکان، ٹیپو، ایک وہ فیض احمد فیض کا نواسہ اور اسی قسم کے لوگ کالج جینز ٹائپ ڈرامے لے کر ٹی وی پر آتے تھے ۔۔ اس نسل کے فنکاروں کو میں نے پہلی اور دوسری جنریشن کے سامنے کبھی بھی سیریس نہیں لیا تھا ۔۔

Sunday, July 12, 2026

ملالہ :بطور ایک روایتی پاکستانی خاتون

مجھے ملالہ کی بہت سی باتوں، بیانات پر اعتراض ہے سر کی چوٹ ، سرجری اور حیرت انگیز تیز ترین ریکوری پر تحفظات ہیں لیکن ایک چیز جو مجھے پسند ہے وہ اس کا بطور ایک اسٹینڈرڈ/ روایتی پاکستانی خاتون دنیا کے ہر فورم پر پاکستانی خواتین کی نمائندگی ہے۔

Friday, July 10, 2026

کیڑا

میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔