ٹمبکٹو کے بدمعاش لائبریرینز
جب ہماری اصلی فیس بک کسی نے ہیک کرلی تھی اور ہم موجودہ پروفائل بنا رہے تھے تو ہم نے اس میں ساری انفارمیشن غلط سلط ڈالی تھی۔ فیس بک کے مطابق ہماری عمر ایک سو دس سال بلکہ اس سے بھی اوپر ہوچکی ہے۔ جب فیس بک نے شہر کا پوچھا تو ہم نے مزےسے ٹمبکٹو لکھ دیا ۔ بچپن میں اطہر شاہ خان سے سنا تھا یہ نام بس یہی ذہن میں آیا اس وقت۔
چند سال پہلے ایک دوست نے ہمیں یہ کتاب گفٹ کی۔ دراصل یہ کتاب شان کے لیے تھی جو ہمارے لیے تھی وہ شان کے پاس چلی گئی اور یہ ہمارے حصے میں آئی۔ اور جو ہماری تھی وہ شان نے کہیں اوبر یا کریم میں سفر کرتے گم کردی۔ تو ہم نے اسی پر قبضہ کرلیا۔ پہلی مرتبہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن دس صفحے پڑھ کر چھوڑ دی ہمیں ویسے بھی ناول شاول نہیں سمجھ آتے۔
پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ پڑھنی شروع کی۔ تو پتا چلا کہ ٹمبکٹو کس قدر شاندار شہر رہ چکا ہے جس کی اپنی ہی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے۔ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا تو ٹمبکٹو نام نہاد سیاہ براعظم، افریقہ میں علم کا سورج بن کر چمک رہا تھا یہاں قاہرہ اور بغداد سے علماء درس و تدریس کے لیے آیا کرتے تھے اوریہاں کے علماء اور اساتذہ دنیا بھر کے موضوعات پر ہاتھوں سے کتب لکھ رہے تھے۔ مذہب، سائینس، فلسفہ، ریاضی، طب دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس پر ٹمبکٹو میں کتب نہ لکھی گئی ہوں۔ یا دنیا بھر سے ان کے قلمی نسخے جمع نہ کیے گئے ہوں۔

