Showing posts with label Relationships. Show all posts
Showing posts with label Relationships. Show all posts

Friday, October 23, 2026

تذکرہ دو مختلف قسم کی موویز کا


گزشتہ ویک اینڈ ایک فلم دیکھ کر عجیب سا محسوس ہوا۔ بظاہر تو ایک ٹپیکل ٹین ایج مووی ہے جس میں چند ٹین ایج لڑکے اور لڑکیاں اٹلی کے مشہور ساحلی سیاحتی قصبے امالفی/امافی میں چھٹیاں گزارنے جاتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک بیچ ویکیشن مووی ہے تو اس میں رج کے ڈھیروں ڈھیر بکنیز، بیچ والی بال، پپیاں جھپیاں ہیں۔ لیکن ہم نے اس مقصد سے یہ مووی نہیں کلک کی تھی۔ ہم اس سے پہلے اٹلی سے متعلق ایک اور مووی "انڈر دی ٹسکن سن" دیکھ چکے تھے جس میں ایک امریکی حسینہ چھٹیاں گزارنے ٹسکنی جاتی ہے یا شاید بریک اپ کے بعد ٹسکنی جاتی ہے اور وہ قصبہ اسے اتنا اچھا لگتا ہے وہاں کے لوگ اسے ایسے بھاتےہیں کہ وہ وہیں رہ جاتی ہے۔ ہم سمجھے یہ مووی بھی اسی قسم کی ہوگی ہمیں کیا پتا تھا اندر سے کچھ اور، اور باہر سے کچھ اور

Sunday, May 24, 2026

ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں

باعثِ تحریر

 اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:


PC: BBC Urdu

اس پر ہماری رائے


اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Thursday, December 25, 2025

فاطمہ نامہ 1

فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔

Friday, June 12, 2015

ایڈ جسٹ منٹ

اماں تو چلی گئیں پر سب سے مشکل کام تھا کہ فاطمہ کو کیسے بتایا جائے اور سمجھایا جائے۔ ایک دن ابو نے پہلے بڑے دادو کو دادی پھپھو کے گھر سے آسمان پر پہنچایااور ستارہ بنا دیا ۔ اسطرح بڑے دادو کوچ کرنےکے تقریباً دو سال بعد ستارہ بن گئے ۔ بڑا والا ستارہ، جو ہماری چھت پر مغرب کی سمت نظر آتا ہے۔ 

پھر ابو نے اماں کو ستارہ بنانے کی کوشش کی تو آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے، 

" کیا ہماری اماں اب کبھی واپس نہیں آئیں گی ؟" ابو اماں کو ستارہ بناتے بناتے رک گئے۔