Monday, October 19, 2026

مٹی دے باوے

چھوٹی اسکرین کا مولا جٹ جس پر فوری پابندی لگنی چاہیے 

ٹی وی ڈرامہ ہم دیکھتے ہیں تفریح کے لیے۔ ریلیکس ہونے کے لیے۔ لیکن یہ مٹی کے باوے نامی ڈرامہ جس،قدر قتل و غارت پرمبنی ہے اور اس کی اس قدر ریٹنگ ہے اس کا عوام کو کیا فائدہ ہورہا ہے ، کس قسم کی تفریح ہے یہ اور کیا سیکھ مل رہی ہے۔ قتل و غارت دیکھنا یا دکھانا اینٹرٹینمنٹ تو ہر گز نہیں ایسی ریٹنگ، ویسی اداکاری اور آسکر لیول پرفارمنس عوام تک ایکچوئلی کیا ڈیلیور کررہی ہیں۔
پی ٹی وی ہمیں پاکستان کے عمومی کلچر پر مبنی ڈرامے نیشنل نیٹ ورک پر دکھایا کرتا تھا، جن میں مزاحیہ ڈراموں سے لے کر سنجیدہ ترین ڈراموں تک موضوعات کی وسیع رینج ہوتی تھی لیکن پی ٹی وی نے کبھی اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ کہانی میں توازن ہوتا تھا۔ منفی اور مثبت دونوں طرح کے کردار کہانی کے ساتھ چلتے تھے۔ ان ڈراموں سے ہم نے زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سیکھا اور کافی حد تک ان ڈراموں نے ہماری کردار سازی بھی کی۔ اچھائی برائی میں تفریق کرنا سکھایا۔ مقامی ثقافت پر مبنی ڈرامے ہر صوبے کی مقامی زبان میں صوبائی نیٹ ورک پر ہی نشر کیے جاتے تھے۔ ایک آدھ مقامی یا صوبائی اسکرپٹ کو نیشنل نیٹ ورک پر بھی جگہ ملی لیکن ان میں بھی توازن برقرار رہا جیسے جنگل، دیواریں اور وارث وغیرہ

لیکن مٹی دے باوے اللہ کی پناہ،اب تک جتنی اقساط ہوچکی ہیں اس سے زیادہ تو اس میں قتل ہوچکے ہیں۔ ہر کہانی میں ایک مثبت ٹریک ہوتا ہے دوسرا منفی ، کچھ کردار مثبت ہوتے ہیں اور ایک آدھ منفی، لیکن اس ڈرامے میں تو ہر کردار ہی منفی ہے ہر کردار دوسرے سے بڑھ کر ولن ہے، چاہے وہ بلو ہو یا بالا ۔ ایسے ڈراموں پر فی الفور پابندی لگنی چاہیے۔ اور یہ کہاں کا کلچر پروموٹ کررہا ہے۔ یہ پاکستان کا کلچر تو نہیں۔ ہاں البتہ پنجاب کا کلچر ہوسکتا ہے۔

یہ لاہور کا کلچر بھی نہیں۔ لاہور کا کلچر تو بہت سافٹ ہے۔ کھانا پینا، ہنسنا کھیلنا، میلے منعقد کرنا، اور زندگی انجوائے کرنا اگر یہ پنجاب کے کسی ایک دور دراز کے کسی گاؤں کا کلچر ہے تو اسے آپ پورے پاکستان پر کیوں تھوپ رہے ہیں ۔ یہ کیوں نیشنل نیٹ ورک پہ چل رہا ہے۔ اسے کسی لوکل پنجابی چینل پہ ہونا چاہیے ۔ ایسے موضوعات اور ان کی پیش کش علاقائی چینلز تک ہونی چاہیے یا اگر دم ہے تو مووی بناؤ اور سینما پہ لگاؤ۔ جس کو شوق ہے قتل و غارت کا وہ وہاں جا کے دیکھے اور اگر کوئی اس قدر کشت و خون کے مناظر انجوائے کرتا ہے تو اسے اپنا دماغی معائنہ کروانا چاہیے۔

کیا پاکستان میں پیمرا کے علاوہ کوئی کسی قسم کا سنسر بورڈ ٹائپ ادارہ ہے جو تو پرائیوٹ چینلز سے نشر ہونے والے ڈراموں کو فلموں کی طرح سرٹیفیکیٹ ایشو کرتا ہو کہ اس میں عوام کے مفاد کے خلاف کوئی مواد شامل نہیں ، اگر نہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ایک ایسا ادارہ قائم کردے جو تمام چینلز سے نشر ہونے والے ڈراموں کی پری اسکریننگ کر کے ان کا مواد فلٹر کرے۔

📺🎬📺📹📺📼📺

دیگر ڈراموں پر تبصرہ جات کے لیے کلک کیجیے

رانجھا رانجھا کردی

سرِ راہ : تو اڑ جا بے فکر

کبھی میں کبھی تم

صرف تم

اسٹینڈ اپ گرل