گزشتہ عید کے دوسرے دن ہم ڈام گئے تھے ڈام بلوچستان کا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک جانب صحرا ہے اور دوسری جانب سمندر اور اس کے درمیان اکلوتی سڑک کے ساتھ کچھ گوٹھ ہیں۔ ان گوٹھوں میں سے ایک گوٹھ میں جانا ہوا۔دوپہر کا وقت تھا شدید گرمی تھی ۔ میں نے صاحب خانہ سے کہا کہ یہاں سمندر بھی ہے اور صحرا بھی آپ لوگ گھر کے ارد گرد کھجور اور ناریل کے درخت کیوں نہیں لگاتے۔ سایہ بھی ملے گا اور پھل بھی ۔ دونوں کے لیے ساز گار موسم اور ماحول ہے۔ ابا نے کہا کہ میں آپ کو ناریل کے پودے لا دیتا ہوں۔
| پکچر کریڈٹ : ابا حضور |
اگلا بندہ کہتا ہے کہ نہیں رہنے دیں دیکھ بھال کرنی پڑے گی۔ اب مجھے نہیں پتا کہ ناریل اور کھجور کو کتنی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ میرے خیال میں تو یہ ایک طرح سے خود رو قسم کے درخت ہیں تھوڑی بہت دیکھ بھال سے چل پڑتے ہیں ان دو قسم کے درختوں سے اس ساحلی پٹی پر رہنے والوں کے حالات کم از کم موسمی حالات بدل سکتے ہیں۔ لیکن
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
باسٹرڈ آف استنبول میں صرف ایک پیرا گراف کام کا تھا جس میں ایک کردار کہتا ہے کہ آرمینیا کے لوگوں کو ترکی کے ساتھ اپنا سرحدی مسئلہ حل کرنا نہیں ہے صرف اس کے متعلق شور کرنا ہے کیونکہ یہ وہ مسئلہ ہے جس کو وہ دن رات گاتے رہتے ہیں اگر مسئلہ حل ہوگیا تو وہ کس مسَلے پر دن رات روئیں گائیں گے۔ یہاں بھی یہی حال ہے لوگوں نے اپنے حالات بدلنے نہیں ہوتے صرف رونا ہوتا ہے۔ اگر ہاتھ پیر ہلا کر حالات ٹھیک کرلیں گے تو پھر دن رات گریہ کرنے کو تو کچھ بچے گا نہیں۔
ان لوگوں نے اپنی غربت دور نہیں کرنی ہوتی، بلکہ غربت کی مارکیٹنگ کر کے مفت کی روٹیوں کا انتظام کرنا ہوتا ہے۔
O O O O O O O