Friday, September 25, 2026

عجیب داستاں ہے یہ ~

ٹمبکٹو کے بدمعاش لائبریرینز 

جب ہماری اصلی فیس بک کسی نے ہیک کرلی تھی اور ہم موجودہ پروفائل بنا رہے تھے تو ہم نے اس میں ساری انفارمیشن غلط سلط ڈالی تھی۔ فیس بک کے مطابق ہماری عمر ایک سو دس سال بلکہ اس سے بھی اوپر ہوچکی ہے۔ جب فیس بک نے شہر کا پوچھا تو ہم نے مزےسے ٹمبکٹو لکھ دیا ۔ بچپن میں اطہر شاہ خان سے سنا تھا یہ نام بس یہی ذہن میں آیا اس وقت۔

چند سال پہلے ایک دوست نے ہمیں یہ کتاب گفٹ کی۔ دراصل یہ کتاب شان کے لیے تھی جو ہمارے لیے تھی وہ شان کے پاس چلی گئی اور یہ ہمارے حصے میں آئی۔ اور جو ہماری تھی وہ شان نے کہیں اوبر یا کریم میں سفر کرتے گم کردی۔ تو ہم نے اسی پر قبضہ کرلیا۔ پہلی مرتبہ پڑھنے کی کوشش کی لیکن دس صفحے پڑھ کر چھوڑ دی ہمیں ویسے بھی ناول شاول نہیں سمجھ آتے۔

پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ پڑھنی شروع کی۔ تو پتا چلا کہ ٹمبکٹو کس قدر شاندار شہر رہ چکا ہے جس کی اپنی ہی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے۔ جب یورپ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا تو ٹمبکٹو نام نہاد سیاہ براعظم، افریقہ میں علم کا سورج بن کر چمک رہا تھا یہاں قاہرہ اور بغداد سے علماء درس و تدریس کے لیے آیا کرتے تھے اوریہاں کے علماء اور اساتذہ دنیا بھر کے موضوعات پر ہاتھوں سے کتب لکھ رہے تھے۔ مذہب، سائینس، فلسفہ، ریاضی، طب دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں تھا جس پر ٹمبکٹو میں کتب نہ لکھی گئی ہوں۔ یا دنیا بھر سے ان کے قلمی نسخے جمع نہ کیے گئے ہوں۔

Friday, September 18, 2026

طلعت حسین | ایک خراج تحسین

"حسینہ کوبلائیے 
بٹھائیے سمجھائیے
کہ ملک کی سب بچیاں
ہیں دال دال کچیاں

سسر کو تھپڑ مار کر
دیوار گھر کی پھاند کر
کبھی بھی بھاگتی نہیں
ابھی بھی جاگتی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ 
یہ پی ٹی وی ایوارڈ ہے
ڈیزائن اس کا آڈ ہے"

پی ٹی وی کی بیسیوں سالگرہ کے موقعے پر یہ نظم معین اختر نے ضیاء صاحب کے انداز میں پڑھی تھی۔ اس میں جس لڑکی کے دیوار پھاندنے کا ذکر ہے وہ خالدہ ریاست تھیں اور ڈرامہ تھا حسینہ معین و محسن علی کا بندش [سسر کو تھپڑ مارنے والی نیلوفر علیم تھیں]۔ آج کل ہمیں خالدہ ریاست کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ لہذہ ہم آج کل بندش دیکھ رہے ہیں خالدہ ریاست کا حسن، شوخی اورشرارتیں تو اپنی جگہ ہے لیکن طلعت حسین کی وجاہت اور اداکاری نے ہمیں تقریباً کلین بولڈ ہی کرڈالا

Friday, September 11, 2026

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے 

ہماری زندگی میں پہلے پہل ریڈیو آیا۔ بی بی سی اردو ہمارا مرغ باد نما ہوتا تھاجس سے ہم اپنی گھڑیاں ملاتےاور ہر خبر کی تصدیق بھی اسی سے کرتے تھے، گانے آل انڈیا ریڈیوسے سنتے تھے اور بناکا گیت مالا ریڈیو سیلون سے۔ پاکستانی فلموں کے ریڈیو پروگرامز"آجشبکو" دوپہر گیارہ سے بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے، اور دوپہر تین بجے  حسن شہید مرزا اور ساتھی خاتون میزبان حفیظ فاطمہ / شہلا صدیقی سے "کالا کولا کی محفل نامی میگزین پروگرام میں" ملاقات کرتے۔ شام ساڑھے پانچ بجے فوجی بھائیوں کے لیے خصوصی پروگرام سنتے اور رات آٹھ بجے ڈرامہ۔   بالآخر ایک دن  ریڈیو ہمارا دل بہلا کر رخصت ہوا۔