Showing posts with label Learning. Show all posts
Showing posts with label Learning. Show all posts

Friday, June 19, 2026

میرا گھر میری مرضی

آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔

Saturday, June 13, 2026

ناسٹیلجیا 2

امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔

ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔

Monday, June 1, 2026

ہوم سولر انرجی پراجیکٹ

یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔  لہذہ اس میں دیا گیا  تخمینہ  اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔

ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔

اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔

Sunday, May 3, 2026

من کہ ایک فالور ہوں

ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔  اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Thursday, February 19, 2026

جنریشن الفا، اردو اور ہماری خواہشیں

بچے اردو پڑھنے سے کتراتے ہیں، ابا نے ڈیوٹی لگائی کہ بچوں کو ایک گھنٹہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ بچے صبح سے دوپہر اسکول اور تین سے چھ تک ابا سے پڑھنے اور سات بجے قران کلاس کے بعد پڑھنے کے نام سے ہی بدکتے ہیں۔ اب آٹھ سے نو انہیں مزید پڑھانے کے لیے اسکول کی اردو/ اسلامیات کی کتب سے اردو پڑھانا تو بالکل ہی آوٹ آف کوئسچن تھا۔ ایکسپو سے خریدی ہوئی کتب میں ایک کتاب تھی "چچا چھکن نے تصویر ٹانگی" اسے پڑھ کر بچے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے۔

Friday, June 12, 2015

ایڈ جسٹ منٹ

اماں تو چلی گئیں پر سب سے مشکل کام تھا کہ فاطمہ کو کیسے بتایا جائے اور سمجھایا جائے۔ ایک دن ابو نے پہلے بڑے دادو کو دادی پھپھو کے گھر سے آسمان پر پہنچایااور ستارہ بنا دیا ۔ اسطرح بڑے دادو کوچ کرنےکے تقریباً دو سال بعد ستارہ بن گئے ۔ بڑا والا ستارہ، جو ہماری چھت پر مغرب کی سمت نظر آتا ہے۔ 

پھر ابو نے اماں کو ستارہ بنانے کی کوشش کی تو آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو بھر آئے، 

" کیا ہماری اماں اب کبھی واپس نہیں آئیں گی ؟" ابو اماں کو ستارہ بناتے بناتے رک گئے۔