Showing posts with label Values. Show all posts
Showing posts with label Values. Show all posts

Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط III

مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں 

 سن  دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف  چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی  کراچی  میں  یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا  ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک  قائم  کیا گیا۔   جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے  ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔  ابتدا میں جامعہ  دارالعلوم  کراچی نے  ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر  مخالفانہ مذہبی اور عوامی  رد عمل کے بعد  اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔  

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ہیومن ملک بنک:قسط I

پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک

کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔

محبت ایسا دریا ہے

کل رات امجد اسلام امجد کا لکھا شاندار ڈرامہ دریا مکمل دیکھا

مائی گاڈ ۔۔۔ اٹ از اے ماسٹر پیس ۔

پلاٹ، 

کہانی ، 

اورکہانی کی بنت میں مقامی روایتیں، رسم و رواج ، فوک متھ، 

زبان، اور سرائیکی لہجے میں مکالموں کی ادائیگی، 

لوکیشن، کاسٹیوم ، مقامی جیولری، آرٹ ڈائرکٹر نے بہت جان ماری ہوگی ان سب کے لیے 

اور بیک گراؤنڈ میوزک ، ہائے وہ بانسری جسے سن کر لگتا ہے کہ بندہ صحرا کے بیچوں بیچ پیاسا کھڑا ہو جیسے ۔ 

اتنا خوبصورت ڈرامہ روہی پر شاید ہی کوئی ہو۔

Friday, April 10, 2026

کاہے کو بیاہی بدیس

شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔

Friday, April 3, 2026

Period. End of Sentence

ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال

Thursday, February 19, 2026

جنریشن الفا، اردو اور ہماری خواہشیں

بچے اردو پڑھنے سے کتراتے ہیں، ابا نے ڈیوٹی لگائی کہ بچوں کو ایک گھنٹہ اردو پڑھانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ بچے صبح سے دوپہر اسکول اور تین سے چھ تک ابا سے پڑھنے اور سات بجے قران کلاس کے بعد پڑھنے کے نام سے ہی بدکتے ہیں۔ اب آٹھ سے نو انہیں مزید پڑھانے کے لیے اسکول کی اردو/ اسلامیات کی کتب سے اردو پڑھانا تو بالکل ہی آوٹ آف کوئسچن تھا۔ ایکسپو سے خریدی ہوئی کتب میں ایک کتاب تھی "چچا چھکن نے تصویر ٹانگی" اسے پڑھ کر بچے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے۔

Friday, November 14, 2025

فلمی شاعری میں صنفی تضاد

اردو شاعری میں عورت یعنی محبوب کو بہت ہی ظالم اور بے وفا ظاہر کیا جاتا ہے۔ گو کہ شاعری میں محبوب کو اسم مذکر سے مخاطب اور تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن بہرحال شاعر مخاطب نسوانی محبوب و معشوق سے ہی ہوتے ہیں مرد شعرا اپنی شاعری سے خواتین کی نمائندگی نہیں کرتے. لہذہ وہ ہمارے اس تھیسیس سے خارج ہیں کہ عمومی شاعری میں شعراء اپنے کلام میں خواتین کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں خواتین کا نہیں۔ خواتین کے جذبات اور خیالات کے اظہار کے لیے پروین شاکر اور فہمیدہ ریاض جیسی شاعرات موجود ہیں۔ جن کی شاعری پڑھ کر لوگ انگلیاں دانتوں تلے داب لیتے ہیں۔

Saturday, October 11, 2025

سر ِ راہ: تو اڑ جا بے فکر

کچھ عرصے سے فیس بک ریلز میں ایک ڈرامے کی جھلکیاں آرہی تھیں جن میں صبا قمر کو ٹیکسی چلاتے دیکھایا گیا تھا ۔ پچھلے ویک اینڈ یو ٹیوب پر تلاش کر کے ڈرامہ دیکھا۔ دل خوش ہوگیا۔ چھ قسطوں اور پانچ اہم موضوعات پر مبنی پانچ کہانیوں کی ایک منی سیریز جو ہمارے سماجی نظام اور اقدار پر کئی سوال اٹھاتی ہے۔

Saturday, September 20, 2025

دی اسٹوری آف گائیڈ

دیو آنند کی مشہور فلم گائیڈ ناول نگار آر کے نارائین کے ناول دی گائیڈ پر مبنی تھی جسے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ یہ دیو آنند کا کا پہلا اور آخری یعنی اکلوتا انٹرنیشنل پراجیکٹ تھا۔

گائیڈ بیک وقت دو زبانوں اردو اور انگریزی میں بنائی گئی تھی۔ اردو / ہندی ہندوستان کی آڈئینس کے لیے اور انگریزی انٹرنیشنل آڈئینس کے لیے ۔ لہذہ ناول سے دو اسکرپٹ لکھے گئے ایک اردو اور ایک انگلش ۔ پہلے یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں ورژنز ایک ساتھ فلمبند کیے جائیں ۔ایک ہی سین پہلے اردو میں ریکارڈ ہو پھر وہیں اسی وقت وہی سین انگریزی میں ریکارڈ کیا جائے ۔ اور دونوں فلموں کے مشترکہ یعنی بغیر ڈائلاگز والے سین بیک وقت دونوں کیمروں پر ریکارڈ کرلیے جائیں۔ انگریزی ورژن کے ہدایت کار ان کے بڑے بھائی چیتن تھے جب کہ اردو ورژن کے ہدایت کار ان کے چھوٹے بھائی گولڈی / وجے آنند تھے۔


Sunday, September 15, 2024

کبھی میں کبھی تم : ایک ہاف وے تبصرہ

ونس اپون اے لائف ٹائم ایک پی ٹی وی ہوتا تھا۔ جس پر ایک دن میں ایک ہی ڈرامہ آتا تھا اور وہ ڈرامہ پورےگھر والے مل کر ایک ساتھ دیکھتے تھے۔ہم ڈرامےسے ایسے کنیکٹ ہوجاتےتھے کہ ڈرامے کے ہر موڑ سے ہماری خوشی اور اداسی جڑی ہوتی تھی۔ ڈرامے کے خوشگوار موڑ پر مل کر خوش ہوتے تھے تو کسی غلط موڑ پر سب ایک ساتھ غم زدہ بھی ہوجاتے تھے۔

یاد کریں ان کہی میں جب فراز ثنا کو تیمور کے گھرچھوڑ کر واپس آجاتا ہے تو ایک لمحے کے لیے ہم سب کے دل رک گئے تھے کہ اب ثنا کیا فیصلہ کرے گی۔ اور جب ثنا فراز کی طرف واپس لوٹ آتی ہے تو ہم ظاہر کریں نہ کریں تیمور کے لیے افسردہ ہونے کے باوجود ہم سب خوش ہوئے تھے کہ فراز جیسے ہنس مکھ لڑکے کا دل ٹوٹنے سے بچ گیا۔ ❤️
تنہائیاں میں جب ہمیں زین کی منگیتر کا علم ہوا اور جب زارا نے اس منحوس مارے سعد سلمان سے منگنی کر لی تھی ہم سب کا دل کتنا خراب ہوا تھا اور جب وہ منگنی ختم ہوگئی تو ہم ایسے خوش ہوگئے تھے جیسے ہمارے من کی مراد پوری ہوگئی ہو۔❤️
دھوپ کنارے میں ڈاکٹر احمر اور اور ڈاکٹر زویا کے درمیان ناچاقی نے ہمیں کتنا دکھی کیا تھا اور جب ڈاکٹر احمر کی ملک سے باہر جاتے جاتے اپنے پرانے گھر پہ زویا سے ملاقات ہوجاتی ہے ، ہائے وہ لمحہ ،، کیسےدل میں سکون اترا تھا۔ ❤️

سیم وہی فیلنگ وہی کنیکشن ہمیں پچھلے ہفتے فیل ہوا جب شرجینہ اور مصطفیٰ کے درمیان ایک جھڑپ کے بعد شرجینہ گھر چھوڑ گئی، ہائے دل ہی ٹوٹ گیا جیسے 💔 اتنے پیارے لوگ اور ایک دوسرےسے ایسے خفا۔ ایک ہفتہ بے کلی میں گزرا کہ آگے کیا ہوگا ، ان کی صلح ہوگی یا نہیں ہوگی ۔ اور جب مصفیٰ اور شرجینہ کے درمیان غلط فہمیوں کی دھند چھٹ گئی تو جیسے ہمارے دل سے بھی ایک بوجھ ہٹ گیا ہو
❤️❤️‍🩹