Friday, October 20, 2017

گا میرے منوا گاتا جا رے


قراقرم ہائی وے: گا میرے منوا گاتا جارے، جانا ہے ہم کا دور
فوٹو  کرٹسی: نوید نواز

ٹریکنگ یا کوہ نوردی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سارے گانے اور شاعری جو شاعروں نے اپنی محبوباوں کے لیے لکھے اور ہیروز نے اپنی ہیروئنز کی شان میں گائے یا گانے کی اداکاری کی ، وہ سب کے سب لگتا ہے کسی نہ کسی پہاڑ کی چوٹی، کسی جھیل، کسی آبشار، کسی ٹریک کی شان اور اعزاز میں لکھے گئے اور گائے گئے ہیں یا ٹریکنگ کے مختلف مراحل کو ہی بیان کرنے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ 

Tuesday, October 3, 2017

مائے نی میں کنوں آکھاں

پرانے لاہور میں ایک نوجوان ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا، کبھی کبھی کسی گلی کوچے ، چھت یا چھجے پر ملاقات بھی ہوجاتی تھی۔ پھر قسمت اور رزق اس نوجوان کو یورپ لے گئی، خوب دولت کمائی وہیں شادی اور بچے ہوگئے۔ پیچھے لڑکی کی بھی شادی ہوگئی۔ 

برسوں بعد اپنے بچوں کے ساتھ واپس لاہور آگیا کیونکہ بچیاں جوان ہورہی تھیں۔ پرانے محلے میں واپس جاکر اس نے اپنی پرانی محبت پھر سے یاد کرنے کی کوشش کی ، ہر گلی کونے دیوار کو چھو کر دیکھا۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر دکھ میں مبتلا ہوگیا کہ جن چھتوں اور چھجوں پر وہ ملا کرتے تھے انہیں توڑ کر نیا بنا دیا گیا ہے، وہ اب اسکی مرحوم محبت کی یاد گار نہیں رہے۔ پرائے پرائے سے ہیں۔

Thursday, September 28, 2017

گائے گی دنیا گیت میرے

ملکہ ترنم نور جہاں: ایک ٹریبیوٹ


تنویر نقوی کا لکھا یہ گیت جب ملکہ ترنم نور جہاں نے گایا ہوگا ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ یہی گیت ایک دن ان کے فن کا بہترین تعارف بن جائےگا۔ پاکستان کی کوئی ایسی گلوکارہ نہیں ہوگی جس نے اپنے پورے دور گلوکاری میں ملکہ ترنم کا کوئی گیت نہ گایا ہو، صرف گلوکارہ ہی نہیں بہت سے گلوکار بھی ان کے گانے گا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔ جہاں جہاں اردو بولی اور سنی جاتی ہے، ممکن ہی نہیں کہ وہاں ان کی آواز کا نور نہ جگمگایا ہو۔

Friday, September 22, 2017

علاقائی زبانوں اور فنکاروں کا نوحہ

ونس اپون اے ٹائم ایک اکلوتا پی ٹی وی ہوتا تھا جسے گھر یا اکثر اوقات محلے کے اکلوتے ٹی وی سیٹ پر دیکھا جاتا تھا۔ وہ جہاں اردو نشریات دیتا تھا وہیں 6 بجے سے پہلے پہلے علاقائی زبانوں میں بھی نشریات ہوتی تھیں۔ روشن تارہ، ناٹک رنگ اور اسی قسم کے علاقائی زبانوں کے پروگرام پورے پاکستان میں نشر ہوتے تھے. پی ٹی وی ہی ہفتے یا مہینے میں ایک اردو اور باقی وقت سٹر ڈے نائٹ سینما یا ویک اینڈ سینما کے نام سے انگریزی موویز بھی دیتا تھا۔


Wednesday, September 13, 2017

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتے ہیں

[اینڈ ہاو مائی مائنڈ اسٹاپس می]

یہ ۔۔۔ لوگ کتنے بہن بھائی ہیں؟
[تمہیں کیا!]

کیوٹ والے بوائے فرینڈ کی دلہن کیسی ہوگی؟
[تمہارا کیا کھانا ہضم نہیں ہورہا دیکھے بغیر!]


Thursday, September 7, 2017

ڈیسلآری 📷

 منظرکشی سے تصویر کشی اورفوٹو گرافی سے "فوٹوگرافری"  تک کا سفر

منظر کشی یا تصویر کشی کا خیال سب سے پہلے اس شخص کو آیا ہوگا جس نے کوئی خوبصورت یا انوکھا منظر دیکھا ہوگا اور اس نے اسکی خوبصورتی کو اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر اور سیلیبریٹ کرنا چاہا ہوگا۔ زمانہ قبل از تاریخ کے غاروں میں موجود ڈرائینگز اسی خیال کی عملی تصاویر ہیں۔ خاکہ کشی (Sketching)، خط کشی (Drawing) اور مصوری(Painting) سے گزر کر یہ خیال تصویر کشی (Photography) تک پہنچا۔ یہاں تک کہ حضرت انسان کو ڈی ایس ایل آر کیمرے نصیب ہوگئے۔ ڈی ایس ایل آر ہاتھ میں آتے ہی ہر ایرا غیرا  فوٹوگرافر کے عہدے پر فائز ہوگیا ۔ اور لگا دھڑا دھڑ تصویر کشی اور تصویر سازی(photo editing) کرنے.

Saturday, August 26, 2017

تفریح کے بدلتے ہوئے صنفی رجحانات

بطور ایک مشرقی معاشرہ پاکستانی معاشرے میں صنفی تقسیم کار اب بھی بہت واضح ہے، خواتین کا کام گھر سنبھالنا ہے اور مردوں کا کام معاشی بوجھ اٹھانا۔ تبدیلی آرہی ہے مگر بہت دھیرے دھیرے۔ شہروں میں یہ تبدیلی نسبتاً تیز رفتار ہے۔ خواتین تعلیم، ہنر اور معاشی سرگرمیوں میں مردوں کے شانہ بشانہ نہ سہی ان سے بہت پیچھے بھی نہیں ہیں  بلکہ بعض میدانوں میں مردوں کو پیچھے بھی چھوڑ گئی ہیں۔
Photo Credit: Usama Ali

Tuesday, August 22, 2017

تجسس، کن سوئیاں اور سانوں کیہہ

"آپ سسرال جا رہی ہیں"  برابر سے آواز آئی۔ 

ٹرین کی ہم سفر متجسس تھیں کہ 'اکیلی' لڑکی آخر کہاں جارہی ہے۔ ہم نے اس اچانک حملے پر کتاب سے منہ اٹھایا، ایک غائب دماغ قسم کی نظر ان پر ڈالی، دماغ کو سوتے سے جگایا اور جواب دیا۔ " جی جی اپنے گھر ہی جا رہی ہوں" اسکے بعد سوالوں کی لائن لگ گئی ، بچے کتنے ہیں، میاں کیا کرتے ہیں۔ میکہ کہاں ہے، سسرال کہاں ہے۔ ہماری اپنی ذات کی تو گویا کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ ساری اہمیت متعلقہ معلومات کی تھی۔

Tuesday, July 25, 2017

لاہور کی ادبی الف لیلہٰ

چراغوں کا دھواں : انتظار حسین
انتظار حسین کے بقول انکے پاس دوسروں کی طرح ہجرت کی مظلومیت کی کوئی ذاتی کہانی نہیں تھی جسے بیان کر کر کے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے۔ لہذہ انہوں نےتقسیم اور ہجرت کے بعد جو کچھ لاہور میں دیکھا، اسے بطور اپنی سوا نح کے بیان کردیا ۔ اس طرح یہ ان کی سوانح سے زیادہ دوسروں کی سوانح ہائے حیات ہے۔ ادب کی، ادیبوں کی، ادبی پرچو ں کی اور ادبی تنظیموں کی۔ 

Thursday, July 20, 2017

الف لیلہٰ


الف لیلہٰ و لیلہٰ یا ہزار داستان نامی کتاب کا دنیا بھر میں شہرہ ہے، وکی پیڈیا کے مطابق یہ مجموعہ قصائص دراصل عرب، عجم، فارس اور اطراف کے ممالک کی فوک ٹیلز یا لوک داستانوں کا مجموعہ ہے جن کا تانا بانا  شہزادہ شہریار اور شہرزاد کی مرکزی کہانی سے منسلک ہے جسے فارسی کی داستان "ہزار افسان" سے مستعار لیا گیا ہے ۔ ان داستانوں کا کوئی ایک مصنف نہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے مختلف ورژنز پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علی بابا چالیس چور، الہ دین کا چراغ اور سند باد جہازی کے سفر اوریجنل الف لیلیٰ کا حصہ نہیں تھے، انہیں بعد میں کتاب کے مغربی ایڈیٹرز نے شامل داستان کیا۔ اس طرح  عربین نائیٹس کے نام سے اسکا انگریزی ترجمہ اسے شہرت کی مزید بلندیوں پر پہنچا گیا۔ اس کتاب یا داستان کو دنیا بھر میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے

Monday, July 10, 2017

راجہ اندر


کتاب کیا ہے پوری الف لیلیٰ ہے، ایک کے بعد ایک عشق جیسے کوئی ریس لگی ہو، یا مطلوبہ قسطیں پوری ہوجانے پر کوئی تمغہ ءِ حسن کار کردگی ملنا ہو۔ حال یہ کہ خود تو کم از کم ایک درجن سے زیادہ خواتین سے "خالص اور سُچا"  عشق فرمایا، جن میں اپنے سے بڑی عمر کی خواتین بھی تھیں اور ایک آٹھویں کلاس میں پڑھنے والی بچی بھی، مسلمان خواتین بھی تھیں، ہندو، عیسائی بھی۔ کسی کو نہیں بخشا۔  ہر خاتون بس انتظار میں تھی کہ محترم ان پر نظرکرم فرمائیں اور خاتون ان کا بستر گرم کرنے کو پلنگ پر بچھ جائیں یا ان کی چونچ میں چونچ ڈال دیں۔

Wednesday, June 28, 2017

Road To Mecca II : "Home-coming of the Heart

Hello Readers

Me searching for a soft copy of second part of Road To Mecca II : Home-coming of the Heart by Allama Mohammad Assad. If anyone has it or can find a pdf/ epub version, please email me at nasreenghori@gmail.com.

Thank you 😍


Monday, June 26, 2017

نمل از نمرہ احمد


تقریباً 1500 صفحات کا ناول پڑھنا مذاق نہیں ہے۔ اور یہ کارنامہ ہم انجام دے چکے ہیں تو اب آپ کو اس پر ری ویو بھی پڑھنا پڑے گا۔ 

ایک تو ناول کے سارے ہی کردار بلیک میلر ہیں۔ چاہے وہ ہیرو پارٹی سے ہوں یا ولن پارٹی سے یا پھر تھرڈ پارٹی سے۔ سب کے سب کمپیوٹر و ہیکنگ کے ماہر ہیں، سب کے سب انتہائی طاقتور ، بااثر اور روابط والے جن کے اندرون ملک اور بیرون ملک نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین ڈیجٹل گیجٹس کی لائن لگی ہے، اس لیے دروازوں اور ہتھکڑیوں کے لاکس کھولنا، ایک دوسرے کا ای میل ہیک کرنا، موبائلز بگ کرنا، جام کرنا اور اسکی لوکیشن کو کلون کرنا ، ایک دوسرے کا کرمنل ماضی چھان ڈالنا اور یک دوسرے کی خفیہ ویڈیوز بنانا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

روڈ ٹو مکہ : علامہ محمد اسد

ایک یوروپین بدوکی کہانی

لیوپولڈ آف عربیہ
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔ 

Saturday, June 24, 2017

آیا ہے بلاوہ مجھے دربارِ نبی سے

رمضان نشریات میں خاتون عمرے کا ٹکٹ ہاتھ میں لیے خوشی کے آنسو پوچھ رہی تھیں۔ میزبان انہیں مبارک باد دے رہا تھا اور بیک گراؤنڈ میں نعت خوانوں کا پینل لہک لہک کر 

آیا ہے بلاوہ مجھے دربار نبی سے
پڑھ رہا تھا۔


Wednesday, June 21, 2017

مکہ : بی بی ہاجرہ کا شہر


اللہ تعالی کے ایک پیارے نبی تھے، حضرت ابراہیم علیہ سلام۔ ان کی دو بیویاں تھیں۔ ایک حضرت سارہ علیہ سلام اور ایک حضرت ہاجرہ علیہ سلام۔ حضرت سارہ کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسحاق علیہ سلام اور حضرت ہاجرہ علیہ سلام کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسمعیل علیہ سلام۔

حضرت ابراہیم علیہ سلام اپنے بیٹوں سے بہت محبت کرتے تھے لیکن حضرت اسمعیل علیہ سلام سے زیادہ محبت کرتےتھے۔ حضرت سارہ علیہ سلام ،حضرت ہاجرہ علیہ سلام اور ان کے بیٹے کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے کئی بار حضرت ابراہیم علیہ سلام سے کہا کہ وہ ہاجرہ علیہ سلام اور اسمعیل علیہ سلام کو کہیں اور چھوڑ آئیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ سلام ان کی بات نہیں مانتے تھے۔ 

Wednesday, June 14, 2017

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

ایک شادی کے گھر میں ایک کھاتے پیتے گھرانے کی ادھیڑ عمر خاتون سب سے الگ ایک پلنگ پر بیٹھی تھیں ۔ میز بان خواتین سمیت کوئی بھی انکی طرف متوجہ یا مخاطب نہ ہوتاتھا۔ مہمانوں میں سے ایک خاتون کو ان کا اس طرح الگ تھلگ بیٹھنا عجیب سا لگا انہوں نے خاتون سے دعا سلام کے بعد دریافت کیا کہ وہ سب سے الگ تھلگ کیوں بیٹھی ہیں۔

Monday, June 5, 2017

ایک رات 🌟

یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی


پہلا منظر:

آٹھ رمضان کی نویں رات کا آدھے سے کچھ زیادہ چاند پوری چھت کو منور کیے ہوئے ہے۔ایک روشن ستارہ چاند کے ساتھ ساتھ ہے، چاروں طرف سفید چٹے بادلوں کے پرے کے پرے  چھت پر امڈتے چلے آرہے ہیں۔ درمیان میں کہیں کہیں نیلا آسمان  ایک پزل کے ٹکڑوں کی طرح بکھرا ہوا ہے ۔ لیکن بادل اور چاندنی انہیں ترتیب میں آنے کا موقع دینے کو تیار نہیں۔ چھت پر اتنی چاندنی ہے کہ باآسانی کتاب پڑھی جاسکتی ہے ۔

یہ رات یہ چاندنی پھر کہاں
سن جا دل کی داستاں

Sunday, May 14, 2017

ایک شام


سورج ایک اورنج طشتری کی صورت میں پہاڑیوں کے پیچھے ڈوبنے والا تھا۔ غروب کی سمت بادلوں کی کئی پرتیں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ، اوپر نیچے اس طرح ترتیب میں تھیں جیسے پہاڑوں کے کئی خوابناک سے سلسلے ایک دوسرے کے آگے پیچھے دور تک چلے گئے ہوں۔ ڈوبتے سورج میں بادل ایسا ہی تاثر دے رہے تھے۔ ان پہاڑی سلسلوں کے درمیان کبھی سورج پورا غائب ہوجاتا کبھی ایک کرن کی صورت دوبارہ طلوع ہوجاتا ۔کبھی آدھا بادل کے پیچھے چھپ جاتا اور آدھا باہر نکل آتا۔

Sunday, April 23, 2017

ہاتھ اور شرٹ

دفتر کے راستے میں میری گاڑی کے برابر سے ایک موٹر سائکل گزری جس پر ایک جوڑا براجمان تھا۔ ایک پل کے لیے میری نظر ادھر گئی۔ خاتون کا دایاں ہاتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب کے زانو پر پشت کے بل ایسے دھرا تھا جیسے ان کے ہاتھ سے صاحب کی قمیص بے دھیانی میں  نکل گئی ہو۔ بس ایک لمحے میں یہ منظر آنکھ سے اوجھل ہوگیا لیکن وہ ہاتھ آج بھی میرے دھیان میں ویسے ہی وہیں دھرا ہے۔ 


Tuesday, April 18, 2017

ترقی ءِ معکوس

انسانوں کی طرح شہروں اور مکانات کی بھی نسلیں ہوتی ہیں ۔ ضمیر جعفری

موجودہ مکان ہمارے گھر کی پانچویں پشت ہے۔ جو پچھلی پانچ دہائیوں میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتے کرتے ایک چٹائی کی جھونپڑی سے تین منزلہ مکان میں تبدیل ہوگیا ہے ۔

پہلی پشت میں گھر ایک جھونپڑی اور ایک بڑے سارے مشترکہ صحن پر مشتمل تھا۔ جس کا آنگن سارے محلے کا مشترکہ صحن تھا ساری خواتین گھر کے مختلف کام نپٹاتے ہوئے ایک دوسرے سے گپیں بھی لگاتی جاتی تھیں اور سب کے بچے بھی اسی "آنگن" میں ایک دوسرے کی نظروں کے سامنے اچھلتے کودتے، گرتے پڑتے ، چوٹیں کھاتے اور روتے گاتے رہتے۔ سردیوں میں جھونپڑی کے اندر اور گرمی میں جھونپڑیوں کے باہر بستر ڈال کر رات بسر کی جاتی۔

Friday, March 24, 2017

حوالوں کی کتاب



اختر بلوچ کی کتاب "کرانچی والا" ان کے ڈان ڈاٹ کام پر شایع شدہ منتخب بلاگز پر مشتمل کتاب ہے جن میں زیادہ تر کراچی شہر، شہر کی تاریخ، کراچی سے منسلک تاریخی شخصیات اور شہر کی عمارات اور مقامات پر ان کی تحقیق و تلاش کے تذکرہ جات شامل ہیں۔  کتاب کیا ہے کراچی کی ابتداء اور ابتدائی پاکستان کی سوانح حیات ہے کیونکہ پاکستان کی ابتداء میں کراچی ہی ملک کا دارالخلافہ تھا لہذہ تمام سیاسی او سماجی سازشیں بھی کراچی میں ہی تیار اور عمل پذیر ہوتی تھیں۔ 

Monday, March 13, 2017

پاکستان چوک: اِک آغازِ نو

فوٹو آف دی ڈے

ہم وہاں جاکر کیا کریں گے؟

یہ وہ سوال تھا جو باری باری ہماری تینوں ہمراہیوں نے پہلے خود سے، پھر ایک دوسرے سے اور فائنلی ہم سے کیا کہ ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں۔ ہمیں تو خود نہیں معلوم تھا کہ  ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں ، سو ہم نے کہا ہم یہی تو معلوم کرنے جارہے ہیں کہ ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں, یہ وہیں جا کر پتا چلے گا ۔

Tuesday, February 14, 2017

سیون ائیرز ان تبت

ایک لو اسٹوری

سب سے پہلے تو اس کا سفر ہی کراچی سے اسٹارٹ ہوا ۔ ہمارا اپنا کراچی ، ہاں جی اور ہمارا اپنا نانگا پربت بھی ۔ بندے کی آنکھیں اور دل کھل نہ جائے تو اور کیا ہو بھلا ۔ چار کوہ نورد جو نانگا پربت کا دیا میر فیس اور ٹریک دریافت کرنے کی مہم سے فارغ ہوکر اپنے وطن واپس جانے کے لیے کراچی میں بحری جہاز کے انتظار میں تھےدوسری جنگ عظیم شروع ہونے پر سرکار انگلیشہ کے جنگی قیدی بنا لیے گئے کیونکہ انکا تعلق جرمنی سے تھا۔ اور جیل بھیج دئیے گئے جو تقریباً تبت کے بارڈر پر ہی سمجھیں ۔ اب بندہ اور وہ بھی کو ہ نورد,  انگریز کی جیل سے فرار ہوگا تو بھاگ کے اور کہاں جائے گا, تبت اور کہاں ۔ سو یہی ہوا۔

تبت اب تک ہمارے لیے بس اتنا ہی تھا کہ دنیا کا بلند ترین پلیٹو یعنی کہ سطح مرتفع ہے ، چین کا حصہ ہے، جو ذرا چین سے ناراض سا ہے اوروہاں کے حکمران ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

Tuesday, February 7, 2017

میں ساحر ہوں

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جب سے "رسیدی ٹکٹ" پڑھی تھی ۔ اور "میں ساحر ہوں" مارکیٹ میں آئی تھی، ساحر کی سوانح پڑھنے کی بے چینی لگی تھی۔ ادبی دنیا میں امرتا پریتم اور ساحر کے رومان کا بڑا چرچا پڑھا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو شذرے نظر سے گزرے لگتا تھا کہ کوئی فیری ٹیل تھی لیکن" میں ساحر ہوں" پڑھ کر احساس ہوا کہ عاشق ہوجانا ان کی عادت تھی۔ وہ تو تھے ہی عاشق مزاج، امرتا سے پہلے بھی اور بعد میں بھی کتنی ہی خواتین پر ریشہ خطمی ہوئے۔ کوئی خاتون ذرا نظر آئی نہیں اور وہ اس پہ زارو قطار قربان ہونے کو تیار۔ 

Wednesday, February 1, 2017

الجھے سلجھے انور: عمرانہ مقصود



انور مقصود کے بارے میں پڑھ کر بالکل بھی ایسا نہیں لگا کہ میں کچھ ایسا پڑھ رہی ہوں جو میں پہلے سے نہیں جانتی تھی, شاید میرے تصور میں ان کی ایسی ہی شخصیت تھی جیسی اس کتاب سے ظاہر ہوتی ہے۔

My Father's Notebook: Kader Abdolah

ایران کے سیاسی پس منظر میں لکھا ہوا ناول جس میں ایک گونگے بہرے شخص کی کہانی اسکے بیٹے کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ یہ گونگا بہرا انسان پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا لیکن ایک علاماتی خود ساختہ زبان میں اپنے خیالات ایک نوٹ بک میں قلمبند کرتا رہتا تھا۔ اس شخص کو غالباً عوام سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جسے شہنشایت اور اسلامی انقلاب دونوں نے ہی نقصان پہنچایا لیکن وہ صمً بکمً ہر دو کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا رہا اور اپنی دکان میں باری باری پہلے شاہ اور پھر خمینی کی تصویر ٹانگتا رہا۔

خواتین مزاح نگاروں کا انسائیکلوپیڈیا

لینے تو ہم گئے تھے "بذلہ سنجانِ دو عالم" جس پر عرصے سے ہماری نیت خراب تھی اور جسے ہماری یار غار نے ہمیں گفٹنے سے انکار ہی نہیں کیا تھا ،ہمیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیا تھا اور کرنا بھی چاہیے تھا۔ انہوں نے ہم سے دو کتابوں کے بارے میں پوچھا کہ یہ تمہیں بھیج دوں اور ہم نے کہا ایک ہم نے پڑھنی نہیں اور دوسری ہمارے پاس ہے، سو تم ہمیں بذلہ سنجان دو عالم بھیج دو یا پھر شفیق الرحمان کا مجموعہ یا پھر شام شعر یاراں یا پھر یہ ساری ۔ اور اس نے کہا کہ" ہیں تم کون ، میں تمہیں نہیں جانتی" اور ہمیں نہ تو خدا ملا ، نہ ہی وصال صنم۔ البتہ سنا ہے کہ ہمیں ایک ڈائری کراچی سے بذریعہ ساہیوال آرہی ہے، لیکن وہ ابھی تک آ ہی نہیں چک رہی۔ 

Wednesday, January 25, 2017

چرس

چرس صرف ایک "چرس" ہی تو نہیں ہوتی۔ پتا نہیں کتنی ساری قسم کی چرسیں بندے کو زندگی کے مختلف ادوار میں خوار کرتی ہیں۔ ہم بھی پرانے چرسی ہیں۔ سب سے پہلی چرس جو یاد ہے وہ چند صفحات پر مشتمل مختصر سائز کی ٹارزن کی کہانیاں اور عمران سیریز تھیں۔ نیا نیا پڑھنا آیا تھا ، محلے کے لڑکوں سے لے لے کر خوب پڑھے ،عمران سیریز پڑھتے ہوئے تو ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے۔ اس دور کی لڑکیاں پتا نہیں کیا کرتی تھیں۔ ہماری لڑکیوں سے کبھی نہیں بنی۔

Wednesday, January 4, 2017

ان سنگ ہیروز اور ہیروئن ز

بہن نے چائے بنائی ، موڈ نہیں تھا ، انکار کردیا۔ بھئی پوچھ کر بنانی چاہیے تھی ناں

حسن نے مستقل "پھپھو میرے ساتھ کھیلو پلیج" کی رٹ لگائی ہوئی تھی۔ ہم فیس بک پر دوستوں کے ساتھ گپیں لگا رہے تھے۔ اسے کہا پھپھو "کام " کر رہی ہیں۔ آپ جاو ممی کے پاس۔ وہ مایوس ہوکر "بھائی گچھہ [غصہ] آرا ہے" کہہ کر منہ بسور کر چل دیا۔

ابو نے کہا کہ چائے بنا کر مس کال کردینا۔ چائے بنائی اور اسکے بعد موبائل میں منہ ڈال کر بیٹھ گئے۔ ابو انتظار ہی کرتے رہے مس کال کا۔

فاطمہ اوپر سے دو بار نیچے آئی، پھپھو کا منہ موبائل میں ہی تھا۔ فائنلی کہہ گئی کہ پھپھو تو موبائل میں ہی گھسی رہتی ہیں۔