آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
Showing posts with label Common Sense. Show all posts
Showing posts with label Common Sense. Show all posts
Friday, June 19, 2026
Thursday, June 4, 2026
کتے بلی کے بچے
کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔
Monday, June 1, 2026
ہوم سولر انرجی پراجیکٹ
یہ آرٹیکل ہمارے مرحوم دوست دانش احسن لوہار المعروف از دانست نے 2022 میں شمسی توانائی سے بجلی کے حصول کے سلسلے میں لکھا تھا ۔ لہذہ اس میں دیا گیا تخمینہ اس وقت کی قیمتوں کے حساب سے ہے۔
-------------------------------------------------
آجکل ملک کے جو حالات چل رہے ہیں، ایک تو شدید گرمی، ہیٹ ویو، دوسری جانب لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ جو پہلے کے مقابل بڑھ گیا ہے۔ اسی مسئلے کو لے کر ایک بات زیر غور آئی کہ جو لوگ ایسے گھر میں رہتے ہیں جہاں انہیں چھت میسر ہے تو وہ سولر پینل کیوں نہیں لگاتے؟ متبادل توانائی اس وقت ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک متوسط گھرانے کے لئے میرا ذاتی تجربہ ہے کہ 2 سے 3 کلوواٹ کا سولر پینل کافی ہے۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ سولر کی کوسٹ بہت زیادہ ہے۔ دیکھا جائے تو یہ بات غلط بھی نہیں۔ ایک مڈل کلاس گھر کے لئے چار سے پانچ لاکھ روپے لگانا آسان بات نہیں۔ لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ کوئی بھی چیز جب آپ خریدنے جائیں تو صرف کوسٹ ہی فیکٹر نہیں ہوتا بلکہ اس کے فوائد بھی معنی رکھتے ہیں۔
اسے ہم cost benefit analysis کہتے ہیں۔ اگر ایک چیز کی قیمت زیادہ ہے تو آپ نے اس کے فوائد کا قیمت سے موازنہ کرنا ہے، pros & cons دیکھنے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پہ سولر پاور کے فوائد قیمت سے زیادہ لگے۔
Friday, May 29, 2026
ایوولیوشن
یا شاید ڈیوولیوشن، کنفرم نہیں ہے، لیکن ،،
ایک زمانہ تھا میں ہر ایشو پہ بحث کرتی رہتی تھی۔ اورہر ایک سے، اس وقت حب الوطنی کا کیڑا بھی بہت بے چین رہتا تھا اور ایمان کا بھی۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر کسی بات کا جواب نہ دیا تو یہ تو میری ہار ہوگئی گویا کوئی بہت ہی شرمندگی والی بات ہوگئی۔ یا کسی موضوع پر اظہار خیال نہ کیا تو کوئی انقلاب آتے آتے کہیں رک نہ جائے۔ کبھی غور نہیں کیا لیکن کافی لوگوں کی دل آزاری کی ہوگی یا غصہ دلانے کا سبب بنی ہونگی۔
Labels:
Abstract,
Behavior,
Biograph,
Common Sense
Sunday, May 24, 2026
ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں
باعثِ تحریر
اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:
اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔
Sunday, May 3, 2026
من کہ ایک فالور ہوں
ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔ اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]
Friday, May 1, 2026
ہیومن ملک بنک: قسط III
مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں
سن دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی کراچی میں یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک قائم کیا گیا۔ جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔ ابتدا میں جامعہ دارالعلوم کراچی نے ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر مخالفانہ مذہبی اور عوامی رد عمل کے بعد اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔
ہیومن ملک بنک: قسط II
ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔
اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
ہیومن ملک بنک:قسط I
پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک
کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔
Tuesday, April 14, 2026
فاطمہ کی اماں
اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،
Friday, April 10, 2026
کاہے کو بیاہی بدیس
شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔
Labels:
Behavior,
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Gender,
Pakistan,
Society,
Values
Friday, April 3, 2026
Period. End of Sentence
ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال
Friday, March 27, 2026
ٹی وی واچ 1.0
بات کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن ڈرائینگ روم کی صفائی کرتے ٹی وی کھلا تھا ایک چینل پر فیس بک کے نو فلٹر پیج والی خاتون وی لاگر ایک ڈرامے میں بٹو آپا بنی نظر آئیں ، ایک کامیڈی سیریل کی کوئی قسط تھی۔ ان کی اداکاری وی لاگز کی طرح ہی بے ساختہ تھی۔ڈرامہ بھی ہلکا پھلکا لگا، نو ساس بہو، نو ایکسٹرا میریٹل افئیر۔ ڈرامے کا نام نوٹ کیا، یوٹیوب پر ڈرامہ تلاش کر کے جب تک کی ساری قسطیں دیکھ ڈالیں۔ اور سلسلہ چل پڑا۔۔ ۔
Labels:
Abstract,
Behavior,
Biograph,
Common Sense,
Drama
Monday, March 23, 2026
وطن کی مٹی گواہ رہنا
بچپن کا 23 مارچ
ونس اپان ان ڈریم ٹائمز 23 مارچ کے روز ہم بچے نہا دھو کے نئے کپڑے پہنتے تھے ، یہ نئے کپڑے وہ ہوتے تھے جو کہیں آنے جانے کے لیے پیٹی میں رکھے ہوتے تھے یعنی روز مرہ استعمال سے ہٹ کر خاص والے کپڑے۔ اماں 23 مارچ کو بریانی پکاتیں۔ ابا مٹھائی لاتے۔ اور سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر فل آواز میں قومی نغموں کے کیسٹ بجائے جاتے، جتنی فل اس بے چارے ریکارڈر کی آواز بلند ہوسکتی تھی۔
Labels:
Behavior,
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Hypocrisy,
Music,
PTV
Friday, March 20, 2026
کمفرٹ واچ
یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس
پہلی سیریز ہے مس میچڈ،
کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔
Friday, March 6, 2026
ہماری کائنات (Our Universe)
چھ قسطوں پر مبنی نیٹ فلکس سیریز
جس میں زمین پر موجود زندگی، پانی، وقت، لائف سائیکل، کشش ثقل, کیمیائی عناصر وغیرہ کا بگ بینگ سے تعلق بتایا گیا ہے۔جب کچھ نہیں تھا تو کیا تھا یعنی بگ بینگ سے پہلے کیا تھا، کتنے ارب سالوں میں کب کب کیا کیا مدارج آئے، کہکشائیں کیسے بنیں، ستارے کیسے بنے، سیارے کیسے بنے۔ پانی کہاں سے آیا۔
Monday, February 2, 2026
باپ سراں دے تاج محمد
ہم اور ہمارے ابا : ایک لوو اسٹوری
جہاں تک ہماری یادداشت ڈاون میموری لین میں جاسکتی ہے وہاں تک ہمیں جو یاد آتا ہے کہ ہمیشہ سے ہم اماں سے زیادہ ابا سے اٹیچ تھے۔ بلکہ اماں ہمیں اماں کم ساس زیادہ لگتی تھیں۔ سب سے پرانی یاد جو ہمیں یاد ہے ہم شاید ڈھائی تین سال کے ہونگے اماں کو بخار تھا اور وہ بستر سے اٹھنے کے لائق نہیں تھیں ورنہ ابا باورچی خانے میں ہرگز نہ ہوتے۔ اور یہ اماں کی کسی بھی بیماری کی "سوپر لے ٹیو" ڈگری ہوتی تھی کہ اماں بستر پر لیٹ جائیں۔ ان کی ڈکشنری میں بیماری سے ہار ماننے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا یا اگر تھا تو شاید ایسا جس کے لیے پشتو میں بہت برا لفظ ہوتا ہوگا۔ تو ابا باورچی خانے میں ہیں اور غالباً ہمارے لیے یا شاید امی کے لیے چائے بنارہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور اپنی بساط بھر برتن اٹھا کر دے رہے ہیں۔
Labels:
Adventure,
Biograph,
Common Sense,
Pakistan,
Society
Saturday, December 27, 2025
برادر بئیرز 2
اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہماری فیورٹ ترین بچوں کی مووی کون سی ہے تو ہمارا جواب ہوگا برادر بئیر 2۔ یہ برادر بئیر موویز کے تسلسل میں دوسرا حصہ ہے لیکن پہلا حصہ نہ بھی دیکھا ہو تب بھی برادر بئیرز 2 اپنے آپ میں ایک مکمل مووی ہے۔ اس کے گرافکس اور مناظر اس قدر خوبصورت ہیں کہ دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے ، جب فاطمہ چھوٹی تھی تو ہم دونوں یہ مووی بلا ناغہ دیکھا کرتے تھے ۔ مہینوں ہم نے یہ مووی روزانہ دیکھی ہے اتنی کہ زبانی رٹ گئی تھی۔
Thursday, December 25, 2025
فاطمہ نامہ 1
فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔
Friday, November 28, 2025
ایک والد کو خراج تحسین
سہیل احمد صاحب کی اداکارانہ صلاحیتوں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ جس وقت انہوں نے پی ٹی وی پر اداکاری شروع کی، ڈراموں میں کام کیا اس وقت ہم بہت چھوٹے تھے یا شاید بہت مصروف تھے۔ ہمیں بس یہ یاد ہے کہ وہ عابد کاشمیری صاحب کی طرح ہیرو کےدوست یا کامیڈین یا والد یا انکل ٹائپ رول ہی کرتے تھے جن پر ہم اس وقت دھیان نہیں دیتے تھے کیونکہ ہم وسیم عباس، راحت کاظمی۔ عثمان پیرزادہ اور آصف رضامیر پر زیادہ فوکس کرتے تھے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)