Monday, February 2, 2026

باپ سراں دے تاج محمد

 ہم اور ہمارے ابا : ایک لوو اسٹوری

جہاں تک ہماری یادداشت ڈاون میموری لین میں جاسکتی ہے وہاں تک ہمیں جو یاد آتا ہے کہ ہمیشہ سے ہم اماں سے زیادہ ابا سے اٹیچ تھے۔ بلکہ اماں ہمیں اماں کم ساس زیادہ لگتی تھیں۔ سب سے پرانی یاد جو ہمیں یاد ہے ہم شاید ڈھائی تین سال کے ہونگے اماں کو بخار تھا اور وہ بستر سے اٹھنے کے لائق نہیں تھیں ورنہ ابا باورچی خانے میں ہرگز نہ ہوتے۔ اور یہ اماں کی کسی بھی بیماری کی "سوپر لے ٹیو" ڈگری ہوتی تھی کہ اماں بستر پر لیٹ جائیں۔ ان کی ڈکشنری میں بیماری سے ہار ماننے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا یا اگر تھا تو شاید ایسا جس کے لیے پشتو میں بہت برا لفظ ہوتا ہوگا۔ تو ابا باورچی خانے میں ہیں اور غالباً ہمارے لیے یا شاید امی کے لیے چائے بنارہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور اپنی بساط بھر برتن اٹھا کر دے رہے ہیں۔
جیسا کہ ہم نے کہا کہ ہم ابا کی چمچی تھے تو ابا جو بھی کام کررہے ہوتے ہمارا اس میں شامل ہونا لازمی تھا، ایک طرح سے ہم ابا کا چھوٹا تھے۔ ابا بائک ٹھیک کررہے ہیں ہم پانے پکڑا رہے ہیں۔ ابا نلکالگا رہے ہیں ہم ساتھ ہتھوڑی پلاس لیے کھڑے ہیں۔ ابا بلب لگا رہے ہیں ہم سیڑھی پکڑے کھڑے ہیں۔ابا مرغی ذبح کر رہے ہیں ہم مرغی کی ٹانگیں قابو کیے ہوئے ہیں۔ ابا کو باہر جانا ہے بائک نکلوانے کے لیے دروازہ کھولنا ہمارا کام ہے ، واپس آئے ہیں تو دروازہ کھولنا ہمارا کام ہے۔ اور ہر بار ابا کی آمد پر زور دار اسلام علیکم بھی کرنا ہے چاہے وہ گلی کے نکڑ سے دہی لانے ہی گئے ہوں۔بائک دھونا ہماری ذمہ داری ہے۔ ابا کی دیکھا دیکھی بائک کا ٹول باکس کھولنا، بیٹری نکالنا، بیٹری کا پانی بدلنا اور پانی بدل کر بیٹری واپس انسٹال کرنا ہمارے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔

ابا کو شکار خصوصاً مچھلی کے شکار کا بہت شوق تھا ۔ شکار کے سارے سامان کی دیکھ بھال، شکار کی تیاری، واپس آنے کے بعد سارے سامان کی دھلائی ، سکھائی اور واپس جگہ پر رکھنا ہماری ذمہ داری تھی۔بندوق کے شکار کے بعد شاٹ گن کی صفائی، تیل لگانا، اور تیل لگا کے پلاسٹک میں ریپ کرکے رکھنا۔ ابا کے پاس مچھلی پکڑنے کے کئی جال تھےجو شکار کے دوران پھٹ بھی جایا کرتے ، ابا انہیں برامدے کی چھت سے لٹکا کر ان کی مرمت کرتے ، بانس کی چار پانچ انچ کی دو تیلیاں اور دھاگہ، ایک تیلی پر دھاگہ لپٹا ہوتا اور دوسری جال کے خانے کا ناپ کرنے کے کام آتی، ابا کے ساتھ لگے لگے ہم نے جال میں گرہ لگانا سیکھ لیا اب جال کی مرمت بھی ہمارا کام ہوگیا۔

ہمارے گھر میں ایک زمانے میں بہت سارے پرندے تھے فنچ، لال، پدیاں، بجری، آسٹریلین طوطے وغیرہ جو پہلے شوق میں پالے بعد میں وہ معاشی سرگرمی میں تبدیل ہوگئے۔ ان کے لیے بڑا پنجرہ درکار تھا ، پنجرہ بنانے کے لیے ابا کہیں سے ایک پورٹیبل ویلڈنگ پلانٹ اٹھا لائے اور لوہے کی سلاخوں کو ویلڈنگ سے جوڑ جوڑ کر پنجرے کا اسٹرکچر بنانا شروع کیا، ابا نے تو سن گلاسز لگائے ہوئے تھے ہم ابا کے ساتھ بیٹھے پورا دن ویلڈنگ کا معائنہ لائیو آنکھوں سے کرتے رہے نتیجہ رات کو ہماری آنکھیں شدید آشوب کا شکار ہوگئیں۔پھر جب اسٹرکچر تیار ہوگیا تو اس پر جالی منڈھنا اور جالی کو سلاخوں کےساتھ دھاتی تار کی مدد سے "سینا" ہمارا کام تھا۔انگلیاں زخم زخم ہوگئیں لیکن سینہ فخر سے چوڑا ہوتا رہا کہ ہم ابا کی مدد کر رہے تھے۔ ان پرندوں کی دیکھ بھال ، ابا کے ساتھ مل کر پرندوں کو بیچنے جانا، لالو کھیت میں اتوار کے اتوار بہت بڑا پرندوں کا بازار لگتا تھا شاید اب بھی لگتا ہو۔ بھانت بھانت کےپرندے اور جانور ہوتے ۔

ہم اور ابا مل کر منہ اندھیرے کبوتروں کےشکار پر جاتے۔ صدر میں پرانی عمارتوں پر بہت سے جنگلی کبوتر بسیرا کیے ہوتے ، اور عمارات کی کھڑکیوں اور جھروکوں میں کبوترسو رہے ہوتے۔ ابا ائر گن سے کبوتر پر فائرکرتے کبوتر نیچے گرتے ہی ہم دوڑ کر پھڑپھڑاتا کبوتر اٹھا کر لاتے اور ابا اس کی گردن پر چھری پھیر دیتے۔ ایک ایک کر کے ہم ٹوکری بھر کر کبوتر جمع کرلیتے۔ روشنی ہونے پر کووں کو خبر ہوجاتی اور وہ ہمارے ارد گرد شور مچانا شروع کردیتے انہیں کالے کبوتر اپنے بھائی بند نظر آتے اور وہ ہمارے کان کھا جاتے ۔ تب ہم واپس آتے اور پھر کبوتروں کے تکے بناتے اور دونوں ابا بیٹی دعوت اڑاتے ۔

ایسا نہیں ہے کہ ابا کی چمچی ہونے کے فائدے ہی فائدے تھے۔ کیونکہ ہم ابا کے "آڑی" تھے تو کبھی اماں ابا کی کھٹ پٹ ہوتی تو ہمیں لگتا اماں ابا کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں ہم ابا کی سائیڈ لینے کی کوشش کرتے اور نتیجے میں اماں سے مار کھاتے ۔ زیادہ تر کھٹ پٹ کی وجہ ابا کا مچھلی کا شکار ہوتا۔ یہ واحد لت ہے جو ابا کو ابھی تک لگی ہے۔ ابا کو آلموسٹ ہر ہفتے شکار پر جانا ہوتا وہ بھی بلوچستان میں۔ خواہ کرفیو لگا ہو، شہر میں ہنگامے ہورہے ہوں۔ سردی ہو، گرمی ہو، برسات ہو۔ اماں کو شکار اپنی سوکن سا لگا کرتا، اوپر سے اماں کو مچھلی کی بو پسند نہیں تھی،کھانا تو دور ہاتھ تک نہ لگائیں۔ ادھر ابا شکار سے واپس آتےاور ادھر اماں ناک پر دوپٹہ رکھ کر اپنی چارپائی پر چڑھ کر بیٹھ جاتیں۔ ہم سامان سنبھالتے، ابا مچھلی سنوارتے، بناتے، فرائی کرتے اور ہم سب کو کھلاتے۔ اماں بس یہ احسان کرتیں کہ نمک مرچ وغیرہ ملا کر خشک مسالہ بنا کر دے دیتیں۔ اور برتن دھلنے تک باورچی خانے میں قدم رکھنے کو تیار نہ ہوتیں۔ ہمیں اس وقت اماں بے حد ظالم لگتیں۔ لیکن اماں کے جانے کے بعد ،خصوصاً بھائی کے بھی جانے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ ابا کو کنٹرول کرنا کس قدر مشکل کام ہے ہاتھ سے نکلے جاتے ہیں۔ ابھی یہ لائنز ٹائپ ہونے کے دوران بھی دبئی اور استنبول کے درمیان کہیں ہیں۔

خیر بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ ہم دنیا میں کہیں بھی کچھ بھی کر کے آئیں ابا کے گوش گزار کر کے ہی پیٹ کا درد کم ہوتا ہے۔ یونی ورسٹی، اسکول کالج میں کوئی "کارنامہ " کر دیا ابا کے کان میں ڈال دیا۔ دفتر میں کسی سے جھڑپ ہوگئی ، ڈرائیونگ کرتے کچھ خاص ہوگیا، [ ایکسی ڈنٹ نہیں، ہمارا ریکارڈ ہے کہ ہم نے بس ڈرائیونگ سیکھنے کے دوران ایک آلٹو کو ٹکر ماری تھی وہ بھی حسن اسکوائر کے پل پر چڑھتے ٹریفک جام ہوگیا تھا اور بس ]کسی سے پھڈا ہوگیا جب تک ابا کو بتا نہیں لیا سکون نہیں پڑتا۔

اباسے اس دوستی کا نتیجہ ہے کہ ہمیں کبھی کسی ٹریک، کسی ٹرپ، کسی بھی قسم کی ایکٹویٹی کے لیے کبھی اجازت لینے کی ضرورت نہیں پڑی، ہم بس بتا دیتے ہیں کہ ابا فلاں تاریخ کو ہم فلاں جگہ جارہے ہیں، اور ادھر سے " اچھا جاو"۔ ہمارا مسئلہ اماں سے اپروول کا ہوتا تھا۔ اور یہ ابا کی ذمہ داری تھی۔

دفتر سے اسکالرشپ کے لیے ہماری نامی نیشن ہوئی، تین سال کے لیے قاہرہ جانا تھآ۔ اسلام آباد سے فون آیا:

"جی آپ فلاں بات کر رہی ہیں؟"
"ہاں جی۔"

"آپ کا نام قاہرہ کے کورس کے لیے آیا ہے"
"جی"

"آپ کا نام فائنل کردیں؟ آپ چلی جائیں گی ؟"
"جی کردیں"

"ایک بار گھر میں پوچھ تو لیں، بعد میں آپ کہیں گی گھر سے اجازت نہیں ملی ۔"
"ہمیں اجازت کی ضرورت نہیں ہے، آپ بھیج دیں ہمارا نام ۔"

اگلا سوچتا ہوگا کہ اس کا کوئی ہے نہیں شاید یا پھر گھر والے تنگ آئے ہو ئے ہیں ۔

🎓✈✈🎓✈✈🎓

چند سال قبل فادرز ڈے پر لکھی ہوئی تحریر ابا کی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر