Showing posts with label Behavior. Show all posts
Showing posts with label Behavior. Show all posts

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

Sunday, May 3, 2026

من کہ ایک فالور ہوں

ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔  اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]

Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

Friday, April 24, 2026

"ویک اینڈ برباد"

چھٹی کےدن کچھ پراڈکٹو کرنا،
اچیومنٹ کا احساس حاصل ہونےکے لائق کچھ نہ کچھ کرنا کیا لازمی ہے۔
کیا ایک دن بندہ فارغ نہیں رہ سکتا کچھ اچیو کیے بغیر،
کوئی ٹارگٹ پورا کیے بغیر۔
کسی روٹین پر عمل کیےبغیر۔ تھوڑا دیر سے اٹھ کر، تھوڑا وقت ضایع کر کےریلکس کرنا منع ہے کیا۔

Friday, April 17, 2026

اڈی جا ~ اڈی جا

کوک اسٹوڈیو سے ہمارا ویسے ہی اللہ واسطے کا بیر رہتا ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے فیورٹ سریلے گیتوں کا ریپ کرتے رہتے ہیں۔ روحیل حیات نے کوک اسٹوڈیو کو ایک معیار پر پہنچایا اور پہنچا کر چھوڑ دیا۔ ان کے بعد کئی میوزک ڈائریکٹرز نے کوک اسٹوڈیو کو سنبھالا دیا اس بیچ میں ایک وقت ایسا آیا کہ ہر ایرا غیرا بطور گلوکار کوک اسٹوڈیو میں گانے گاتا دکھائی دینے لگا۔ کوک اسٹوڈیو بہت ہی سیلیکٹو گانے ہیں جو ہمیں پسند ہیں۔ یوٹیوب پر سرفنگ کرتے کوک اسٹوڈیو کے مختلف ان سنے ان جانے گانے نظر آتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی ان پر کلک کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Friday, April 10, 2026

کاہے کو بیاہی بدیس

شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔

Friday, April 3, 2026

Period. End of Sentence

ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال

Friday, March 27, 2026

ٹی وی واچ 1.0

بات کچھ اس طرح ہے کہ ایک دن ڈرائینگ روم کی صفائی کرتے ٹی وی کھلا تھا ایک چینل پر فیس بک کے نو فلٹر پیج والی خاتون وی لاگر ایک ڈرامے میں بٹو آپا بنی نظر آئیں ، ایک کامیڈی سیریل کی کوئی قسط تھی۔ ان کی اداکاری وی لاگز کی طرح ہی بے ساختہ تھی۔ڈرامہ بھی ہلکا پھلکا لگا، نو ساس بہو، نو ایکسٹرا میریٹل افئیر۔ ڈرامے کا نام نوٹ کیا، یوٹیوب پر ڈرامہ تلاش کر کے جب تک کی ساری قسطیں دیکھ ڈالیں۔ اور سلسلہ چل پڑا۔۔ ۔

Monday, March 23, 2026

وطن کی مٹی گواہ رہنا

بچپن کا 23 مارچ

ونس اپان ان ڈریم ٹائمز 23 مارچ کے روز ہم بچے نہا دھو کے نئے کپڑے پہنتے تھے ، یہ نئے کپڑے وہ ہوتے تھے جو کہیں آنے جانے کے لیے پیٹی میں رکھے ہوتے تھے یعنی روز مرہ استعمال سے ہٹ کر خاص والے کپڑے۔ اماں 23 مارچ کو بریانی پکاتیں۔ ابا مٹھائی لاتے۔ اور سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر فل آواز میں قومی نغموں کے کیسٹ بجائے جاتے، جتنی فل اس بے چارے ریکارڈر کی آواز بلند ہوسکتی تھی۔

Friday, March 20, 2026

کمفرٹ واچ

یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس

پہلی سیریز ہے مس میچڈ،

کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔

Friday, January 23, 2026

کرائے کی کوکھ (Surrogacy) اور بالی ووڈ

کہا جاتا ہے کہ ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔ مشرقی معاشروں اور خصوصاً مسلمان معاشرے میں ماں کا درجہ بہت اونچاسمجھا جاتا ہے ، ماوں کے قدموں کے نیچے جنت پائی جاتی ہے۔ کہ ماں کی خدمت کر کے آپ جنت کما سکتے ہیں لیکن ماں بننا یا ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ بہت ساری میڈیکل کنڈیشنز ایسی ہیں جن کی وجہ سے کوئی عورت پریگننٹ نہیں ہوپاتی۔ اور ماں بننے سے رہ جاتی ہے۔ ایسی بھی خواتین ہیں جنہیں لگتا ہے کہ پریگننسی سے ان کا جسم خراب ہوجائے گا لہذہ وہ ماں بننے سے انکاری ہوتی ہیں۔
PC: Internet

Friday, January 9, 2026

ہمارے کچھ فیورٹ انڈین کامیڈی شوز

جب ہماری اماں اور بھاوج سونی، زی اور اسٹارپلس پر نشر ہونے والے ساس بہو کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر اپنی اپنی سسرائیلی خصوصیات پالش کررہی تھیں مطلب چھریاں تیز کررہی ہوتی تھیں تب ہمارا یعنی ہمارا اور بھائی کا فیورٹ چینل سونی گروپ آف کمپنیز کا سب چینل ہوتا تھا جس پر صرف اور صرف کامیڈی سوپ سیزنز نشر ہوا کرتے تھے ۔ ان ہی سیزنز میں سے چند ایک سیزنز جو ہم اور بھائی مل کر دیکھا کرتے تھے ان کا تعارف پیش ہے ۔۔

میں کب ساس بنوں گی

یہ ساس اور بہو کی تین نسلوں پر مشتمل فیملی کامیڈی تھی جس میں ساس اپنی بہو کو بہت نچائے رکھتی ہے اس سے خدمتیں کرواتی ہے، پیر دبواتی ہے، اور جب بھی بہو آرام کے موڈ میں ہوتی ہے تو اس کی ساس ایک زور دار اور لمبی آواز لگاتی ہے "بہووووووو" اور وہ بے چاری دوڑی جاتی ہے ۔
بہو کی بڑی آرزو ہوتی ہے کہ اس کی بھی ایک بہو ہو جس سے وہ ایسی ہی خدمتیں کروائے اور اسے ایسے ہی بہو کہہ کر پکارے ۔۔ جب اس کی بہو آتی ہے تو اس کی ساس اس کی بہو کے ساتھ دوستانہ لگا لیتی ہے اب جب بھی بہو ساس بن کر اپنی بہو کو کوئی حکم نامہ جاری کرتی ہے اس کی خود کی ساس آگے سے اپنا کوئی حکم نامہ جاری کردیتی ہے اور بہو بے چاری اپنی آرزوئیں دل میں دبا کر رہ جاتی ہے ۔۔ اور یہی سوچ کر رہ جاتی ہے کہ میں کب ساس بنوں گی۔

Friday, January 2, 2026

مرنے کے بعد کیا ہوگا

بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا

ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔

Wednesday, December 31, 2025

نکے نکے سے عظیم دکھ ورژن 3.0

ہماری برادری کافی روایتی ہے۔ جس میں شادی بیاہ وغیرہ پر بھات لینے دینے کا بڑا رواج تھا، کسی حد تک اب بھی ہے ۔ بھات ان کپڑوں/ ملبوسات چوڑیوں ، مہندی، مٹھائی وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر شادی والے گھر میں لڑکی یا لڑکے کے ماموں چچا وغیرہ ایک بڑی ساری پرات یا سینی میں سجا کر خوان پوش سے ڈھک کر تحفہ کے طور پر لاتے تھے اس میں دلہا / دلہن کے کپڑے، ان کے والدین کے کپڑے یا کم از کم والدہ کا دوپٹہ اور والد کا تولیہ صافہ یا کندھے پر ڈالنے کا رومال اور غیر شادی شدہ بھائی بہنوں، بھتیجیوں  اوربھتیجوں وغیرہ کے لیے تحائف جیسے دوپٹے چوڑیاں مہندی رومال وغیرہ ہوتے تھے۔

ہم بہت بچپن سے دیکھتے آئے تھے کہ جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو دلہا یا دلہن کی بھتیجیوں، پھپھیوں ، بھابھیوں وغیرہ کو ان کے اپنے خاندان کی طرف سے بھی اور دوسری پارٹی کی طرف سے بھی ہر رسم میں یاد رکھا جاتا جیسے ہمارے ماموں یا خالہ کی شادی ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے  میری خالاوں،  ممانیوں اور میری ماموں زاد بہنوں کے لیے جوڑے/ دوپٹے، چوڑیاں اور مہندی وغیرہ بھات یا نیگ میں ضرور آتے۔ اور مہندی مایوں کی رسومات میں جو پیسے جمع ہوتے ان میں سے بھی حصہ ملتا اورہماری ماموں زاد کزنز ہمارے سامنے اترا اترا کر ان چوڑیوں کی نمائش کرتیں۔ جوڑا سی کر شادی میں پہن لیتیں، شادی کی رسموں میں بھی انہیں آگے آگے رکھا جاتا۔

Saturday, December 27, 2025

برادر بئیرز 2

اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہماری فیورٹ ترین بچوں کی مووی کون سی ہے تو ہمارا جواب ہوگا برادر بئیر 2۔ یہ برادر بئیر موویز کے تسلسل میں دوسرا حصہ ہے لیکن پہلا حصہ نہ بھی دیکھا ہو تب بھی برادر بئیرز 2 اپنے آپ میں ایک مکمل مووی ہے۔ اس کے گرافکس اور مناظر اس قدر خوبصورت ہیں کہ دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے ، جب فاطمہ چھوٹی تھی تو ہم دونوں یہ مووی بلا ناغہ دیکھا کرتے تھے ۔ مہینوں ہم نے یہ مووی روزانہ دیکھی ہے اتنی کہ زبانی رٹ گئی تھی۔

Thursday, December 25, 2025

فاطمہ نامہ 1

فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔

Saturday, December 13, 2025

اقبال: ایک اور لوو اسٹوری

محبوب، ، ، ہر وہ ہستی جس سے آپ کی اٹیچمنٹ آپ کا لگاو بے لوث ہے، جس کے بغیر آپ کو زندگی زندگی نہ لگے آپ کا محبوب ہے۔ جس کے درد پر آپ کی آنکھوں میں آنسو آجائیں، جس کی خوشی پر آپ اس سے زیادہ ہواوں میں اڑتا محسوس کریں۔ چاہے اس سے آپ کا رشتہ کچھ بھی ہو یا کوئی بھی رشتہ نہ ہو۔
محبت کیا ہوتی ہے اس کا احساس مجھے مووی "اقبال" دیکھ کر ہوا۔ ایک نامور کرکٹر بننے کا خواب تعبیر کرنے کے لیے ایک گونگے لڑکے کی جدو جہد ۔ جس میں اس کی چھوٹی بہن خدیجہ ہر لمحہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ اپنے والد کے غصے سے اسے بچاتی ہے، ایک سابق کرکٹر سے اپنے بھائی کی ٹریننگ کے لیے لڑ پڑتی ہے۔ اس کی زندگی بس اپنے بھائی کی خواہش کو پورا کرنے کے ارد گرد گھومتی ہے۔

Friday, November 28, 2025

ایک والد کو خراج تحسین

سہیل احمد صاحب کی اداکارانہ صلاحیتوں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ جس وقت انہوں نے پی ٹی وی پر اداکاری شروع کی، ڈراموں میں کام کیا اس وقت ہم بہت چھوٹے تھے یا شاید بہت مصروف تھے۔ ہمیں بس یہ یاد ہے کہ وہ عابد کاشمیری صاحب کی طرح ہیرو کےدوست یا کامیڈین یا والد یا انکل ٹائپ رول ہی کرتے تھے جن پر ہم اس وقت دھیان نہیں دیتے تھے کیونکہ ہم وسیم عباس، راحت کاظمی۔ عثمان پیرزادہ اور آصف رضامیر پر زیادہ فوکس کرتے تھے۔

Thursday, November 20, 2025

Anna Karenina: Status of Women (A Review)

There are three ladies in the novel. First one is married to a man for years and mother of many kids from him. He cheats on her, and goes to many ladies including governess of his kids but the wife could not leave him, coz where would she go if she leaves him, there is no future for her economically and socially.