Showing posts with label Society. Show all posts
Showing posts with label Society. Show all posts

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔

Sunday, May 3, 2026

من کہ ایک فالور ہوں

ونس اپون زمانہ قبل ا ز ٹائم ایک اخبار ہوتا تھا یا پھر ٹی وی جس سے ہر قسم کی خبریں اور اینٹر ٹینمنٹ عوام تک پہنچتی تھی۔  اور ان دونوں فورمز پر نظر آنے والے، لکھنے والے، بولنے والے ، اداکاری کرنے والے اور فنکاریاں کرنے والے تمام لوگ عوام کی نظر میں سلیبرٹی ہوتے تھے ۔ جن تک پہنچنا، اپنے رائے پہنچانا ایک کار عظیم ہوا کرتا تھا۔ [دیگرفورمزبھی ہوتے تھے جیسے سینما لیکن وہ اتنے ارزاں اور ہر ایک کی پہنچ میں نہیں ہوتے تھے اور ریڈیو کی اس دور تک وہ اہمیت نہیں رہی تھی جس دور کی ہم بات کررہے ہیں۔ زمانہ انیس سو پتھر میں تو ریڈیو کے صدا کار بھی سلیبرٹی اسٹے ٹس انجوائے کیا کرتے تھے]

Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط III

مختلف مذاہب کی ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے ہے اور دیگر مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کررہے ہیں 

 سن  دو ہزار چوبیس میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف  چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹلوجی  کراچی  میں  یونیسیف کے تعاون سے پاکستان کا پہلا  ہیومن ملک بنک یا مدر ملک بنک  قائم  کیا گیا۔   جس کا مقصد وقت سے پہلے یا اوسط پیدائشی وزن سے کم وزن پیدا ہونے والے اور شدید بیمار نوزائیدہ بچوں کی جان بچانے کے لیے  ماں کے دودھ کی فراہمی تھا۔  ابتدا میں جامعہ  دارالعلوم  کراچی نے  ہیومن ملک بنک کے حق میں فتوی دیا لیکن پھر  مخالفانہ مذہبی اور عوامی  رد عمل کے بعد  اپنا فتویٰ واپس لے لیا۔ اور نتیجے میں ہیومن ملک بنک جیسا قیمتی جانیں بچانے والا پراجیکٹ طاق پر رکھ دیا گیا۔  

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ہیومن ملک بنک:قسط I

پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک

کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔

Friday, April 10, 2026

کاہے کو بیاہی بدیس

شاید ازل سے یا جب سے پدرسری سماج کا ظہور ہوا ہے ہر معاشرے میں لڑکی ہی رخصت ہوکر سسرال یا نئے گھر جاتی ہے۔ زیادہ تر ایک ہی شہر میں لیکن بعض اوقات کسی اور سسرالی شہر میں جا بستی ہیں۔ عموماً سسرال میں اور بعض اوقات نیا جوڑا الگ آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔ اور یہ نیا آشیانہ عموماً لڑکے کے گھر کے نزدیک یا کم از کم لڑکے کے شہر میں ہوتا ہے۔ اور اس کے انتظام کی ذمہ داری بھی لڑکے پر ہی ہوتی ہے ۔اور جسےسامان سے بھرنا لڑکی کی ، خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر الگ سے بات کی جانی چاہیے۔

Friday, April 3, 2026

Period. End of Sentence

ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال

Friday, March 20, 2026

کمفرٹ واچ

یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس

پہلی سیریز ہے مس میچڈ،

کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔

Monday, February 2, 2026

باپ سراں دے تاج محمد

 ہم اور ہمارے ابا : ایک لوو اسٹوری

جہاں تک ہماری یادداشت ڈاون میموری لین میں جاسکتی ہے وہاں تک ہمیں جو یاد آتا ہے کہ ہمیشہ سے ہم اماں سے زیادہ ابا سے اٹیچ تھے۔ بلکہ اماں ہمیں اماں کم ساس زیادہ لگتی تھیں۔ سب سے پرانی یاد جو ہمیں یاد ہے ہم شاید ڈھائی تین سال کے ہونگے اماں کو بخار تھا اور وہ بستر سے اٹھنے کے لائق نہیں تھیں ورنہ ابا باورچی خانے میں ہرگز نہ ہوتے۔ اور یہ اماں کی کسی بھی بیماری کی "سوپر لے ٹیو" ڈگری ہوتی تھی کہ اماں بستر پر لیٹ جائیں۔ ان کی ڈکشنری میں بیماری سے ہار ماننے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا یا اگر تھا تو شاید ایسا جس کے لیے پشتو میں بہت برا لفظ ہوتا ہوگا۔ تو ابا باورچی خانے میں ہیں اور غالباً ہمارے لیے یا شاید امی کے لیے چائے بنارہے ہیں اور ہم ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور اپنی بساط بھر برتن اٹھا کر دے رہے ہیں۔

Friday, January 23, 2026

کرائے کی کوکھ (Surrogacy) اور بالی ووڈ

کہا جاتا ہے کہ ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔ مشرقی معاشروں اور خصوصاً مسلمان معاشرے میں ماں کا درجہ بہت اونچاسمجھا جاتا ہے ، ماوں کے قدموں کے نیچے جنت پائی جاتی ہے۔ کہ ماں کی خدمت کر کے آپ جنت کما سکتے ہیں لیکن ماں بننا یا ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ بہت ساری میڈیکل کنڈیشنز ایسی ہیں جن کی وجہ سے کوئی عورت پریگننٹ نہیں ہوپاتی۔ اور ماں بننے سے رہ جاتی ہے۔ ایسی بھی خواتین ہیں جنہیں لگتا ہے کہ پریگننسی سے ان کا جسم خراب ہوجائے گا لہذہ وہ ماں بننے سے انکاری ہوتی ہیں۔
PC: Internet

Friday, January 9, 2026

ہمارے کچھ فیورٹ انڈین کامیڈی شوز

جب ہماری اماں اور بھاوج سونی، زی اور اسٹارپلس پر نشر ہونے والے ساس بہو کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر اپنی اپنی سسرائیلی خصوصیات پالش کررہی تھیں مطلب چھریاں تیز کررہی ہوتی تھیں تب ہمارا یعنی ہمارا اور بھائی کا فیورٹ چینل سونی گروپ آف کمپنیز کا سب چینل ہوتا تھا جس پر صرف اور صرف کامیڈی سوپ سیزنز نشر ہوا کرتے تھے ۔ ان ہی سیزنز میں سے چند ایک سیزنز جو ہم اور بھائی مل کر دیکھا کرتے تھے ان کا تعارف پیش ہے ۔۔

میں کب ساس بنوں گی

یہ ساس اور بہو کی تین نسلوں پر مشتمل فیملی کامیڈی تھی جس میں ساس اپنی بہو کو بہت نچائے رکھتی ہے اس سے خدمتیں کرواتی ہے، پیر دبواتی ہے، اور جب بھی بہو آرام کے موڈ میں ہوتی ہے تو اس کی ساس ایک زور دار اور لمبی آواز لگاتی ہے "بہووووووو" اور وہ بے چاری دوڑی جاتی ہے ۔
بہو کی بڑی آرزو ہوتی ہے کہ اس کی بھی ایک بہو ہو جس سے وہ ایسی ہی خدمتیں کروائے اور اسے ایسے ہی بہو کہہ کر پکارے ۔۔ جب اس کی بہو آتی ہے تو اس کی ساس اس کی بہو کے ساتھ دوستانہ لگا لیتی ہے اب جب بھی بہو ساس بن کر اپنی بہو کو کوئی حکم نامہ جاری کرتی ہے اس کی خود کی ساس آگے سے اپنا کوئی حکم نامہ جاری کردیتی ہے اور بہو بے چاری اپنی آرزوئیں دل میں دبا کر رہ جاتی ہے ۔۔ اور یہی سوچ کر رہ جاتی ہے کہ میں کب ساس بنوں گی۔

Friday, January 2, 2026

مرنے کے بعد کیا ہوگا

بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا

ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔

Friday, November 21, 2025

بھوانی جنکشن

پتا نہیں کہاں اور کس سے سنا تھا کہ ایوا گارڈنر نے پوری فلم کے دوران فل لینتھ اسکن کلر باریک جرابیں جس کو اب لیگی کہتےہیں پہن کر فلم کی شوٹنگ کروائی تھی اور ایک سین میں انہیں وہ جرابیں اتارتے دکھایا گیا تو لوگوں کو پتا چلا کہ وہ کتنی پردہ دار اداکارہ تھی۔

خیر جی ہم نے تب سے ہی پرسنل گولز میں یہ شامل کرلیا کہ ایک تو بھوانی جنکشن دیکھنی ہے اور اس میں بھی ایوا گارڈرنر کی ٹانگیں دیکھنی ہیں۔ [ہمارے ٹھرکی پن کا اندازہ کڑیں] لیکن جہاں تک ہماری فلمیں ڈھونڈنے کی پرواز تھی یعنی یو ٹیوب ، نووا موو وغیرہ وہاں یہ فلم کہیں ملتی نہیں تھی۔

Thursday, November 20, 2025

اخبارات میں بچوں کے صفحات


فاطمہ کو جنگ کا بچوں کا صفحہ بہت پسند تھا جنگ کے بچوں کے ایڈیشن میں آدھے صفحے پر چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہوتیں, اور بقیہ آدھے صفحے پر مختلف سرگرمیاں اور گیمز جیسے کہ کچھ پزل ٹائپ چیزیں , فرق تلاش کیجیے, نقطے ملا کر رنگ بھریے, تصویروں کے حصوں پر نمبر ہوتے جنہیں پہلے جمع تفریق کر کے حل کرنا ہوتا پھر حل کیے حصوں میں جفت اعداد میں ایک رنگ, طاق میں دوسرارنگ , پہلیاں ہوتیں, لطیفے ہوتے۔ ہفتے کا اخبار کھولتے ہی آجاتی اور اپنا صفحہ لے کر بیٹھ جاتی ، سارا دن اسی میں لگی رہتی ۔

لیکن چند سال پہلے کاغذ کی کمی یا قیمت کی وجہ سے جنگ نے بچوں کا صفحہ بند کردیا۔ تین ہفتوں تک فاطمہ نے صبر کیا اور تین ہفتوں بعد اخبار میں بچوں کا صفحہ نہ دیکھ کر اسے جلال آگیا۔"ان کو پتا نہیں ہے میں یہ صفحہ پڑھتی تھی, کیوں بند کیا ہے۔ بچوں کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔"

Saturday, October 25, 2025

م سے محبت: ان کہی، تنہائیاں اوردھوپ کنارے کا مربہ

مجھے یہ پاری / پواری گرل بالکل بھی اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔ٹک ٹاکر ٹائپ لڑکیوں سے مجھے اللہ واسطے کا بیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اس نے پہلا ڈرامہ کیا تو میری رائے یہی تھی کہ اسے کیا اداکاری آتی ہوگی ویسے بھی اب ایران طوران کی فوجوں سے وہ محبت نہیں رہی کہ ان کے "ڈرامے" دیکھیں۔


Saturday, October 18, 2025

رانجھا رانجھا کردی


بھولا: ایک ذہنی طور پر پسماندہ نوجوان ، جس کی جبلی اور نفسانی خواہشات ابھر رہی ہیں۔
نوری: ایک کمتر ذات کی لڑکی جو اپنا مستقبل بدلنا چاہتی ہے۔ عزت اور مقام حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ساحر: ایک مطلبی اور خود غرض انسان جو ایک کم ذات لڑکی سے فلرٹ کرنے کو تو تیار ہے لیکن شادی کرنے میں اس کی کم تر ذات سامنے آجاتی ہے۔
بھولا کی ماں: جسے ہر مشرقی ماں کی طرح لگتا ہے کہ شادی کے بعد اس کا پاگل بیٹا بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔
چچا: ایک بزدل اور مکار رشتے دار اور مینجر
چچی: ایک عام مڈل کلاس گھریلو عورت جسے صرف اپنا، اپنے گھر اور اپنی اولاد کا مفاد عزیز ہے


Saturday, October 11, 2025

سر ِ راہ: تو اڑ جا بے فکر

کچھ عرصے سے فیس بک ریلز میں ایک ڈرامے کی جھلکیاں آرہی تھیں جن میں صبا قمر کو ٹیکسی چلاتے دیکھایا گیا تھا ۔ پچھلے ویک اینڈ یو ٹیوب پر تلاش کر کے ڈرامہ دیکھا۔ دل خوش ہوگیا۔ چھ قسطوں اور پانچ اہم موضوعات پر مبنی پانچ کہانیوں کی ایک منی سیریز جو ہمارے سماجی نظام اور اقدار پر کئی سوال اٹھاتی ہے۔

Saturday, October 4, 2025

پی ٹی وی کا انقلابی قدم

وہی جسے انگریزی میں کوانٹم لیپ کہتے ہیں

کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی کے نئے شو "ان کہی ود شہناز شیخ" میں ڈاکٹرمحروب معیز اعوان کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ اٹ واز اے پلیزینٹ سرپرائز۔ پی ٹی وی اور ایک خواجہ سرا کا انٹرویو ، وہی پی ٹی وی جہاں خاتون اداکارہ سوتے میں بھی سر پر دوپٹہ لیے ہوتی تھی اور مرد اداکار کسی خاتون اداکار کا ہاتھ ڈرامے میں بھی نہیں تھام سکتا تھا۔میں نے بہت عرصے سے پی ٹی وی نہیں دیکھا ہے، یقیناً موجودہ پی ٹی وی اس پی ٹی وی سے بہت مختلف ہوچکا ہے جسے دیکھنے کی میری نسل عادی رہی ہے۔

Saturday, September 27, 2025

لاپتہ لیڈیز کون ہیں

لاپتہ لیڈیز وہ خواتین اور لڑکیاں ہیں :

جن کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے:
"گھونگٹ میں سے کیا نظر آئے گا؟"
 پھول کماری

وہ جن کی تعلیم روک کر انکی مرضی کے برخلاف شادی کردی جاتی ہے۔ 
"لڑکیوں کو موقع کیوں نہیں دیتے؟"
جیا

جن کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لہذہ انہیں خود بھی لگنے لگتا ہے کہ ان کا ٹیلنٹ فضول شے ہے:
"کلا فضول ہوتی ہے کیا؟"
 دیپک کی بھابھی

Saturday, September 20, 2025

دی اسٹوری آف گائیڈ

دیو آنند کی مشہور فلم گائیڈ ناول نگار آر کے نارائین کے ناول دی گائیڈ پر مبنی تھی جسے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ یہ دیو آنند کا کا پہلا اور آخری یعنی اکلوتا انٹرنیشنل پراجیکٹ تھا۔

گائیڈ بیک وقت دو زبانوں اردو اور انگریزی میں بنائی گئی تھی۔ اردو / ہندی ہندوستان کی آڈئینس کے لیے اور انگریزی انٹرنیشنل آڈئینس کے لیے ۔ لہذہ ناول سے دو اسکرپٹ لکھے گئے ایک اردو اور ایک انگلش ۔ پہلے یہ فیصلہ ہوا کہ دونوں ورژنز ایک ساتھ فلمبند کیے جائیں ۔ایک ہی سین پہلے اردو میں ریکارڈ ہو پھر وہیں اسی وقت وہی سین انگریزی میں ریکارڈ کیا جائے ۔ اور دونوں فلموں کے مشترکہ یعنی بغیر ڈائلاگز والے سین بیک وقت دونوں کیمروں پر ریکارڈ کرلیے جائیں۔ انگریزی ورژن کے ہدایت کار ان کے بڑے بھائی چیتن تھے جب کہ اردو ورژن کے ہدایت کار ان کے چھوٹے بھائی گولڈی / وجے آنند تھے۔