Wednesday, May 13, 2020

Money Heist

کیا آپ نے کسی کو قرض دے رکھا ہے اور اب اس امید پر بیٹھے ہیں کہ یہ رقم آپ کو واپس بھی ملے گی تو سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی بندہ قرضہ واپس کرنے کی نیت سے نہیں مانگتا۔ کسی ایک بندے کی نیت بھی آپ کے پیسے واپس کرنے کی نہیں ہوتی۔ لہذہ اگر کوئی آپ سے پیسے ادھار مانگتا ہے تو یا تو آپ اسے صاف انکار کردیں۔ کیونکہ ادھار دینے کے بعد بندہ اور رقم دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں۔ لہذہ رقم بچائیے برے وقت میں آپ کے اپنے کام آئے گی بندہ تو رقم لے کر بھی بھاگ ہی جانا ہے تو بہتر ہے اسے بھاگ ہی جانے دیں۔ 

دوسری صورت یہ ہے کہ  فرض کریں کہ بندہ آپ سے ایک لاکھ ادھار مانگتا ہے اور آپ کہیں کہ اتنا تو نہیں میں تو صرف پانچ دس ہزار دے سکتا ہوں یقین کریں وہ ان پانچ ہزار پر بھی راضی ہوجائے گا۔ کیونکہ مال مفت دل بے رحم۔ اس نے نہ آپ کے ایک لاکھ واپس کرنے تھے نہ ہی پانچ ہزار تو جو مفت میں ہاتھ لگ رہے ہیں اس نے انکار نہیں کرنا۔

اب آپ نے پانچ ہزار دے دیے ہیں تو ان پر فاتحہ پڑھ لیں کیونکہ واپس تو ایک روپیہ بھی نہیں آنا۔ جتنے دن کا وعدہ کیا گیا تھا آپ شرافت سے اس مدت کے پورے ہونے کا انتظار کرتے رہیں گے وہ تاریخ آکر گزر بھی جائے گی لیکن اگلا بندہ ایسے ظاہر کرے گا جیسے اسے یہ تاریخ یا آپ سے لیے گئے پیسے یاد ہی نہ ہوں۔ اور واقعی اسے یاد نہیں ہونگے کیونکہ اس نے کب واپس کرنے کی نیت سے لیے تھے۔

اب آپ انتظار کرتے رہیے کہ کبھی تو وہ اپنے منہ سے نام لے گا کم از کم کوئی ایکسکیوز ہی کرے گا کہ یہ وجہ ہے کہ وہ وقت پر ادائیگی نہیں کرپائے گا لیکن اسے تو ادائیگی کرنی ہی نہیں ہے۔ آپ اپنی طرف سے بہت ہی بے شرم بن کر خود کہیں گے تب حیلوں بہانوں کی ایک ایسی لمبی لائن آپ کے سامنے آئے گی کہ آپ شرمندہ ہوکر رہ جائیں گے کہ بے کار آپ نے ایک پہلے سے پریشان شریف آدمی کو اپنے پیسے مانگ کر مزید پریشان کر دیا۔ 

قرضہ لے کر واپس نہ کرنے کی ایک اور ترکیب بھی ہوتی ہے کہ اچھا اگر آپ کو ضرورت ہے تو میں کچھ کرتا ہوں۔ کیا مطلب ہے اس بات کا ۔ مطلب ایک بندہ آپ کی ضرورت کے وقت آپ کے کام آیا، اپنی ضرورت پوری ہونے کے بعد آپ نے اس کی رقم اسے واپس کرنی ہے چاہے اسے ضرورت ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ وہ رقم اس کی ہے آپ کی نہیں۔ اگر کسی کی تنخواہ پانچ لاکھ بھی ہے تو آپ اس کے پانچ ہزار دبا کر نہیں بیٹھ سکتے کہ اسے کیا ضرورت ہے ان پیسوں کی۔ بات ضرورت کی نہیں ہوتی بات اصول کی ہوتی ہے۔

اللہ میاں دنیا جہان کے خزانوں کا مالک ہے تو کیا مطلب ہے میں زکواۃ نکالنا بند کردوں کہ اللہ میاں تو خزانوں کا مالک ہے میرے چند ہزار کی اسے کیا ضرورت ہے۔ زکواۃ ہم اس لیے دیتے ہیں کہ ہمیں اللہ میاں سے اپنا حساب صاف رکھنا ہوتا ہے نہ کہ اس لیے کہ اللہ میاں کو ہمارے چند ہزار یا چند لاکھ کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ ایسے بھی ہونگے جو آپ سے قرضہ لینے کے بعد غائب ہی ہوجائیں گے بالکل گدھے کے سینگوں کی طرح، آپ کو کہیں راستے میں مل جائیں تو ایسے برابر سے گزر جائیں گے کہ جیسے جانتے ہی نہیں۔ مکمل اجنبی۔ کچھ ایسے ہوشیار بھی ہونگے کہ جیسے ہی آپ کو دیکھیں گے آپ سے مزید قرضہ مانگنا شروع ہوجائیں گے اس سے پہلے کہ آپ ان سے پچھلے قرض کا مطالبہ کریں۔ کیونکہ ایک بندہ جو بظاہر پہلے ہی تنگی کا شکار ہے اس سے آپ جیسا شریف انسان اپنی پچھلی رقم کا تقاضہ نہیں کرسکتا۔

اچھا اگر آپ نے کسی اور سے ان کی شکایت بطور کتھارسس کردی اور ان کے کانوں تک یہ بات پہنچ گئی تو آپ سے ایسے لڑنے آجائیں گے جیسے آپ نے ان کی عزت لوٹ لی ہو " اتنی حقیر رقم کے لیے آپ نے میری بے عزتی کردی فلاں کے سامنے" بندہ پچھے اتنی ہی حقیر رقم تھی تو اتنے سالوں میں آپ نے میرے منہ پر مار کر اپنی جان آزاد کیوں نا کروالی۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ مقروض کے ہاں شادیاں ہورہی ہیں، بچے ہورہے ہیں، گیارہویں کی دیگ ہورہی ہے، بقر عید پر ایک لاکھ کا بیل دروازے پر جھوم رہا ہے لیکن صرف آپ کے پیسے واپس کرنے کے لیے اس کےپاس پیسے نہیں ہیں۔

آپ انہیں یاد کروائیں تو انہیں یاد ہی نہیں آئے گا کہ آپ سے قرضہ لیا تھا۔ اور یاد بھی آئے تو دس کے پانچ یاد آئیں گے اور پانچ کے تین۔ لہذہ یاد دہانی کرواتے وقت قرضے کی رقم کو کم از کم دو سے ضرب دینا نہ بھولیں۔ ہٹلر کے وزیر مواصلات گوئبلز کا کہنا تھا جھوٹ اتنی بار بولیں کہ سچ معلوم ہونے لگے۔ لہذہ ہر بار ڈبل رقم کی ہی یاد دہانی کروائیں تاکہ اصل تو یاد رہے یا با مشکل تمام مل سکے۔ اگر ڈبل مل جائے تو مقروض کے نام سے صدقہ کردیں۔ لیکن یہ آپ کی خام خیالی ہی ہے کہ کچھ ملے گا۔ کیونکہ قرضہ واپسی کی نیت سے تو لیا ہی نہیں گیا تھا، پہلی لائن دھیان میں رکھیں۔

اگر آپ کے پاس بہت فالتو پیسے ہیں تو خیرات کردیں، اللہ کے نام پر دے دیں لیکن کسی کو قرض ہرگز نہ دیں۔ لہذہ یاد رکھیں کہ ادھار محبت، تعلقات اور دوستی کی قینچی ہے اور یہ قینچی اس دن چل جاتی ہے جس دن آپ اپنی رقم واپس مانگ لیں۔ 
"زمانہ" کرتا ہے پرورش برسوں
بندہ ایسے ہی کمینہ نہیں ہوتا

PC: Internet