میری دفتری ذمہ داریوں میں پرائیوٹ سیکٹر کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرنا بھی شامل ہے۔ جن میں پرائیوٹ میڈیکل پریکٹشنرز/پرائیوٹ کلینکس،، نجی میٹرنٹی ہومز، پرائیوٹ میڈیکل نیٹ ورکس جیسے آغا خان ہیلتھ سروسز یا انڈس ہیلتھ اینڈ ہاسپٹلز نیٹ ورک، ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ساتھ فیملی پلاننگ کی خدمات فراہم کرنے /کراوانے اور اس ضمن میں ان کی ٹریننگ، فیملی پلاننگ کی اشیاء / کموڈیٹیز کی مفت فراہمی ، ان کی مانیٹرنگ اور سپروائزنگ اور ان سے مختلف اقسام کی ماہانہ، سہ ماہی ، شش ماہی ، سالانہ رپورٹس لینا شامل ہے۔ اس کے لیے ہم ان تمام پرائیوٹ اداروں اور تنظیموں سے میمورینڈم آف انڈر اسٹینڈنگ سائن کرتے ہیں۔
Showing posts with label Hypocrisy. Show all posts
Showing posts with label Hypocrisy. Show all posts
Friday, July 10, 2026
Sunday, May 24, 2026
ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں
باعثِ تحریر
اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:
اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔
Tuesday, May 5, 2026
تھینکیو ایوری ون
شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ
شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔
فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔
Friday, May 1, 2026
ہیومن ملک بنک: قسط II
ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔
اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
ہیومن ملک بنک:قسط I
پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک
کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔
Friday, April 3, 2026
Period. End of Sentence
ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال
Monday, March 23, 2026
وطن کی مٹی گواہ رہنا
بچپن کا 23 مارچ
ونس اپان ان ڈریم ٹائمز 23 مارچ کے روز ہم بچے نہا دھو کے نئے کپڑے پہنتے تھے ، یہ نئے کپڑے وہ ہوتے تھے جو کہیں آنے جانے کے لیے پیٹی میں رکھے ہوتے تھے یعنی روز مرہ استعمال سے ہٹ کر خاص والے کپڑے۔ اماں 23 مارچ کو بریانی پکاتیں۔ ابا مٹھائی لاتے۔ اور سارا دن ٹیپ ریکارڈر پر فل آواز میں قومی نغموں کے کیسٹ بجائے جاتے، جتنی فل اس بے چارے ریکارڈر کی آواز بلند ہوسکتی تھی۔
Labels:
Behavior,
Common Sense,
Culture,
Ethics & Values,
Hypocrisy,
Music,
PTV
Friday, March 20, 2026
کمفرٹ واچ
یہ تذکرہ ہے ایسی دو سیریز کا جوہم عصر نارمل اربن مڈل کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان کو دیکھ کر آپ کو لگے گا کہ آپ بھی ان ساری سچویشنز سے گزر چکے ہیں یا یہ تجربے آپ کو بھی ہوسکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو درپیش آنے والے معاملات، مسائل اور ان کا تجزیہ، ان پر بات کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دونوں میں کچھ کچھ مزاح بھی استعمال کیا گیا ہے ، لیکن انہیں مزاحیہ کے بجائے لائٹ رومینٹک سیریز کہنا بہتر ہے۔ کمفرٹ واچ اس لیے کہا کہ ان میں کوئی ایڈونچر، تھرل، ہارر ، ایکشن نہیں ہے عام لوگوں کی عام سی خاص کہانیاں اور بس
پہلی سیریز ہے مس میچڈ،
کالج اسٹوڈنٹس کی زندگی سے لیے گئے ذاتی مسائل سے لے کر کالج میں ہونے والے جھگڑوں ، دوستوں کے درمیان نا اتفاقیوں میں گھری ہوئی پانچ لو اسٹوریز یا پانچ ریلیشن شپس کے الجھے دھاگے ۔ پانچوں کپلز کے پارٹنرز سوشل اسٹے ٹس،ذاتی پسند ناپسند اور عادات میں کہیں سے بھی آپس میں کہیں میچ نہیں کرتے۔
Friday, January 23, 2026
کرائے کی کوکھ (Surrogacy) اور بالی ووڈ
کہا جاتا ہے کہ ماں بننا کسی بھی عورت کے لیے اس کی زندگی کی معراج ہوتی ہے۔ مشرقی معاشروں اور خصوصاً مسلمان معاشرے میں ماں کا درجہ بہت اونچاسمجھا جاتا ہے ، ماوں کے قدموں کے نیچے جنت پائی جاتی ہے۔ کہ ماں کی خدمت کر کے آپ جنت کما سکتے ہیں لیکن ماں بننا یا ماں بننے کے مرحلے سے گزرنا ہر ایک کی قسمت میں نہیں ہوتا۔ بہت ساری میڈیکل کنڈیشنز ایسی ہیں جن کی وجہ سے کوئی عورت پریگننٹ نہیں ہوپاتی۔ اور ماں بننے سے رہ جاتی ہے۔ ایسی بھی خواتین ہیں جنہیں لگتا ہے کہ پریگننسی سے ان کا جسم خراب ہوجائے گا لہذہ وہ ماں بننے سے انکاری ہوتی ہیں۔
Friday, January 16, 2026
بیگم جان: تقسیم کے پس منظر میں ایک منفرد مووی
ریڈکلف باونڈری کمیشن کے فیصلے سرحد کے دونوں جانب قابل اعتراض رہے ہیں سیاسی، جغرافیائی، سماجی، جذباتی ہر لحاظ سے۔ کہیں خاندان تقسیم ہوگئے، کہیں گاوں تقسیم ہوگئے کہیں زمین تقسیم ہوگئی خاص کر بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر آج تک دونوں طرف کے لوگ نوحہ کناں ہیں۔
Friday, January 2, 2026
مرنے کے بعد کیا ہوگا
بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا
ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔
Friday, November 21, 2025
بھوانی جنکشن
پتا نہیں کہاں اور کس سے سنا تھا کہ ایوا گارڈنر نے پوری فلم کے دوران فل لینتھ اسکن کلر باریک جرابیں جس کو اب لیگی کہتےہیں پہن کر فلم کی شوٹنگ کروائی تھی اور ایک سین میں انہیں وہ جرابیں اتارتے دکھایا گیا تو لوگوں کو پتا چلا کہ وہ کتنی پردہ دار اداکارہ تھی۔
خیر جی ہم نے تب سے ہی پرسنل گولز میں یہ شامل کرلیا کہ ایک تو بھوانی جنکشن دیکھنی ہے اور اس میں بھی ایوا گارڈرنر کی ٹانگیں دیکھنی ہیں۔ [ہمارے ٹھرکی پن کا اندازہ کڑیں] لیکن جہاں تک ہماری فلمیں ڈھونڈنے کی پرواز تھی یعنی یو ٹیوب ، نووا موو وغیرہ وہاں یہ فلم کہیں ملتی نہیں تھی۔
Labels:
Drama,
Hypocrisy,
Movie Review,
Society,
Sociograph
Thursday, November 20, 2025
Anna Karenina: Status of Women (A Feminine Review)
There are three ladies in the novel. First one is married to a man for years and mother of many kids from him. He cheats on her, and goes to many ladies including governess of his kids but the wife could not leave him, coz where would she go if she leaves him, there is no future for her economically and socially.
اخبارات میں بچوں کے صفحات
فاطمہ کو جنگ کا بچوں کا صفحہ بہت پسند تھا جنگ کے بچوں کے ایڈیشن میں آدھے صفحے پر چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہوتیں, اور بقیہ آدھے صفحے پر مختلف سرگرمیاں اور گیمز جیسے کہ کچھ پزل ٹائپ چیزیں , فرق تلاش کیجیے, نقطے ملا کر رنگ بھریے, تصویروں کے حصوں پر نمبر ہوتے جنہیں پہلے جمع تفریق کر کے حل کرنا ہوتا پھر حل کیے حصوں میں جفت اعداد میں ایک رنگ, طاق میں دوسرارنگ , پہلیاں ہوتیں, لطیفے ہوتے۔ ہفتے کا اخبار کھولتے ہی آجاتی اور اپنا صفحہ لے کر بیٹھ جاتی ، سارا دن اسی میں لگی رہتی ۔
لیکن چند سال پہلے کاغذ کی کمی یا قیمت کی وجہ سے جنگ نے بچوں کا صفحہ بند کردیا۔ تین ہفتوں تک فاطمہ نے صبر کیا اور تین ہفتوں بعد اخبار میں بچوں کا صفحہ نہ دیکھ کر اسے جلال آگیا۔"ان کو پتا نہیں ہے میں یہ صفحہ پڑھتی تھی, کیوں بند کیا ہے۔ بچوں کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔"
Saturday, November 8, 2025
ایک مرحوم پروپوزل کی تقریباً برسی کے موقع پر
![]() |
| Photo Credit: Internet |
ونس اپون ان کورونا ٹائمز ایک بھائی صاب تھے ان کو بھائی صاب کہنا مناسب تو نہیں لیکن سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو خیر ہے۔ کتابوں سے متعلق ایک گروپ میں انہوں نے کسی کتاب کے بارے میں لکھا ، موضوع ہماری دلچسپی کا تھا ہم نے پوچھ لیا کہ کہاں سے ملے گی۔ اگلے دن ان کا جواب آنے تک ہم وہ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں سرچ اور ڈاونلوڈ کرچکے تھے، یہ اور بات پڑھنے کی باری ابھی تک نہیں آئی ۔ ان کے جواب کے جواب میں یہی فرما دیا ۔
فوراً ہی ان باکس آیا کہ آپ کو کیسے ملی۔ بھیا وہیں پوچھ لیتے ایسی بھی کیا راز داری
جواب دیا "ڈھونڈنے سے
Saturday, October 18, 2025
رانجھا رانجھا کردی
بھولا: ایک ذہنی طور پر پسماندہ نوجوان ، جس کی جبلی اور نفسانی خواہشات ابھر رہی ہیں۔
نوری: ایک کمتر ذات کی لڑکی جو اپنا مستقبل بدلنا چاہتی ہے۔ عزت اور مقام حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ساحر: ایک مطلبی اور خود غرض انسان جو ایک کم ذات لڑکی سے فلرٹ کرنے کو تو تیار ہے لیکن شادی کرنے میں اس کی کم تر ذات سامنے آجاتی ہے۔
بھولا کی ماں: جسے ہر مشرقی ماں کی طرح لگتا ہے کہ شادی کے بعد اس کا پاگل بیٹا بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔
چچا: ایک بزدل اور مکار رشتے دار اور مینجر
چچی: ایک عام مڈل کلاس گھریلو عورت جسے صرف اپنا، اپنے گھر اور اپنی اولاد کا مفاد عزیز ہے
Saturday, October 11, 2025
سر ِ راہ: تو اڑ جا بے فکر
کچھ عرصے سے فیس بک ریلز میں ایک ڈرامے کی جھلکیاں آرہی تھیں جن میں صبا قمر کو ٹیکسی چلاتے دیکھایا گیا تھا ۔ پچھلے ویک اینڈ یو ٹیوب پر تلاش کر کے ڈرامہ دیکھا۔ دل خوش ہوگیا۔ چھ قسطوں اور پانچ اہم موضوعات پر مبنی پانچ کہانیوں کی ایک منی سیریز جو ہمارے سماجی نظام اور اقدار پر کئی سوال اٹھاتی ہے۔
Saturday, October 4, 2025
پی ٹی وی کا انقلابی قدم
وہی جسے انگریزی میں کوانٹم لیپ کہتے ہیں
کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی کے نئے شو "ان کہی ود شہناز شیخ" میں ڈاکٹرمحروب معیز اعوان کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ اٹ واز اے پلیزینٹ سرپرائز۔ پی ٹی وی اور ایک خواجہ سرا کا انٹرویو ، وہی پی ٹی وی جہاں خاتون اداکارہ سوتے میں بھی سر پر دوپٹہ لیے ہوتی تھی اور مرد اداکار کسی خاتون اداکار کا ہاتھ ڈرامے میں بھی نہیں تھام سکتا تھا۔میں نے بہت عرصے سے پی ٹی وی نہیں دیکھا ہے، یقیناً موجودہ پی ٹی وی اس پی ٹی وی سے بہت مختلف ہوچکا ہے جسے دیکھنے کی میری نسل عادی رہی ہے۔
Saturday, September 27, 2025
لاپتہ لیڈیز کون ہیں
لاپتہ لیڈیز وہ خواتین اور لڑکیاں ہیں :
جن کی شادی کم عمری میں کر دی جاتی ہے:
"گھونگٹ میں سے کیا نظر آئے گا؟"
پھول کماری
وہ جن کی تعلیم روک کر انکی مرضی کے برخلاف شادی کردی جاتی ہے۔
"لڑکیوں کو موقع کیوں نہیں دیتے؟"
جیا
جن کے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی لہذہ انہیں خود بھی لگنے لگتا ہے کہ ان کا ٹیلنٹ فضول شے ہے:
"کلا فضول ہوتی ہے کیا؟"
دیپک کی بھابھی
Monday, September 19, 2022
ٹرانس جینڈر [پروٹیکشن آف رائٹس] ایکٹ 2018 : قانون اور اعتراضات
نوٹ: یہ مضمون ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حق میں ہے، آپ اگر آنکھیں بند کرکے مخالفت کرنے کے عادی ہیں تو نہ ہی پڑھیں
آج کل سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے خلاف ایک طوفان برپا ہے۔ مذہبی رحجان رکھنے والی سیاسی پارٹیاں اور ان سے متاثر افراد دھڑا دھڑ جینڈر ایکٹ کے خلاف پوسٹیں کر رہے ہیں لہذہ میں نے ضروری سمجھا کہ میں پہلے ٹرانس جینڈرایکٹ کو پڑھ ڈالوں کہ ایسا اس میں کیا ہے جس پر اتنا شور و غوغا ہے۔ جماعت اسلامی اس ایکٹ میں ترمیم کی خواہاں ہے۔ اس پوسٹ کے آخر میں اس ایکٹ کا اردو میں خلاصہ بھی دیا گیا ہے ساتھ کمنٹ میں لنک بھی ہے جو چاہے وہ جا کر قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے اس ایکٹ کا پورا متن ڈاونلوڈ کر کے خود پڑھ سکتا ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

