ریڈکلف باونڈری کمیشن کے فیصلے سرحد کے دونوں جانب قابل اعتراض رہے ہیں سیاسی، جغرافیائی، سماجی، جذباتی ہر لحاظ سے۔ کہیں خاندان تقسیم ہوگئے، کہیں گاوں تقسیم ہوگئے کہیں زمین تقسیم ہوگئی خاص کر بنگال اور پنجاب کی تقسیم پر آج تک دونوں طرف کے لوگ نوحہ کناں ہیں۔
تقسیم کے پس منظر میں بنائی گئی موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد مووی۔ بیگم جان کا کوٹھا ہندو، مسلم ، سکھ ساری بے سہارا لڑکیوں کی پناہ گاہ تھا وہ بھی جو اغوا ہوئیں اور پھر گھر والوں نے انہیں واپس قبول نہ کیا ، وہ بھی جو گھر سے بھاگ گئیں اور پھر رلتی ہوئی بیگم جان کے کوٹھے پر پہنچ گئیں۔ جہاں انہیں پناہ بھی ملی اور ایک خاندان بھی۔ ماں کی محبت بھی، بھائی کی حفاظت بھی اور بڑی بہن کا پیاراور نگرانی بھی۔ لیکن جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں اپنا جسم بیچنا پڑتا تھا۔
زندگی ایک ڈگر پر چل رہی تھی کہ بر صغیر ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم ہوگیا۔ باونڈری کمیشن کےپلان پر عمل درامد کے لیے جب ہندوستانی اور پاکستانی اہلکار نقشے کے مطابق تقسیم کی لکیر پر خاردار باڑ لگانے پہنچے تو پتا جلا کہ بیگم جان کا کوٹھا ہندوستان اور پاکستان کی سرحدی لکیر کے بالکل درمیان قائم ہے، آدھا ہندوستان میں اور آدھا پاکستان میں۔ اس جگہ سرحدی چوکی بنے گی جو ان لوگوں کی ہجرت پر نظر رکھے گی جو ایک رات پہلے سرحد کی درست جانب تھے لیکن سو کر اٹھے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ سرحد کی غلط جانب موجود ہیں اور انہیں اپنا گھر چھوڑ کر سرحد کی درست جانب ہجرت کرنی ہوگی۔ لہذہ بیگم جان یہ کوٹھا خالی کردیں ۔
بیگم جان نے کوٹھا خالی کیا یا نہیں اس کے لئے آپ مووی خود دیکھ لیں۔ بیگم جان کا کردار ودیا بالن نے ادا کیا ہے اور ہماری دانست میں خوب ادا کیا ہے۔ فلم سے کچھ ڈائلاگز
"بیگم ،، تم دیش کی آزادی سے خوش نہیں ہو"
"کیسی آزادی،،، یہاں آزادی صرف مردوں کو ملتی ہے، عورتوں کو نہیں"
"کون ہندو اور کون مسلمان، بتی بند ہونے کے بعد اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا"
کیونکہ مووی ہے ہی طوائفوں کےبارےمیں تو تھوڑی 18 پلس ہے۔ اپنی ذمہ داری پر دیکھیے گا۔
💃💃💃💃💃