Friday, January 2, 2026

مرنے کے بعد کیا ہوگا

بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا

ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔
دوسری طرف جنازے میں آئے خواتین وحضرات کے اپنے عجیب و غریب رویے دیکھنے میں آتے ہیں ، کوئی میت اور جنازے کی رسموں کا انچارج بن جاتا تو کوئی وہاں متوقع بہو یا داماد کا شکار کرنے آیا ہوتا۔ کسی کے ہاتھ میں گھٹلیاں اور زبان پر چغلیاں جاری ہوتی ہیں۔ مرحوم کے سب سے قریب ترین افراد یعنی شریک حیات ، مرحوم کا خاندان، عزیز و اقارب ، پڑوسی اور دوست کس قسم کے جذباتی اور سماجی رویوں کا اظہار کرتے ہیں ۔ پلس آج کی ماڈرن فیملی جو تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں ایک سے زائد شہروں میں فاصلوں پر مقیم ہے۔ ان کا بر وقت جنازے میں پہنچ پانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں، جنازے کے ساتھ ساتھ اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کے مسائل، پیچھے رہ جانے والے اکلوتے والدین کا مسئلہ، سب مل کر ایک پیچیدہ معاملہ بن جاتے ہیں۔

موت سے جڑی ایسی ہی رسموں اور رویوں سے متعلق تین بالی ووڈ موویز کا تعارف پیش ہے۔ یہ موویز بتاتی ہیں کہ اکیسویں صدی میں روایت پسند پچھلی نسل، اور جدت پسند نئی نسل کیسے موت سے جڑی رسموں پر ایک دوسرے سے ایک سو اسی ڈگری پر کھڑے مکالمہ بلکہ مقابلہ کررہے ہیں۔
پگلیٹ:
ایک روایت پسند خاندان کےتعلیم یافتہ بیٹے کے انتقال کے بعد خاندان اور اس کی نوجوان تعلیم یافتہ بیوہ کے مابین سوگوار ماحول میں رویوں اور جذبات کی کش مکش ۔ خاندان روایتی ہے اور نئی نوجوان نسل باغی۔ خاندان بیوہ بہو کو صدیوں پرانی رسموں اور رواجوں کے مطابق رکھنا اور دیکھنا چاہتے ہیں ۔ہندو رسوم کے مطابق بیوہ کو گھر کے ایک کمرے میں محدود رہتے ہوئے گھر کا بنا ہوا دال ساگ کھانا ہے جب کہ بیوہ بہو کو گول گپے ، کوک اور چپس کھانے ہوتے ہیں۔ کہانی میں ٹوئسٹ اینڈ ٹرن ہیں لیکن مجموعی طور پر کہانی کا بنیادی آئیڈیا یہی ہے کہ وقت بدل گیا ہے۔بیوہ ہوجانا اب ایک لڑکی کے لیے از ناٹ اینڈ آف لائف۔ اب بیوہ لڑکی کی زندگی ایک کمرے میں قید نہیں گزر سکتی، اسے آگے بڑھنے، اور اپنی زندگی خوش و خرم گزارنے کا پورا حق ہے۔

رام پرساد کی تیرہویں:

موجودہ دور کی ایک فیملی جہاں سارے پنچھی اپنے اپنے پر آزمانے کے لیے گھونسلہ چھوڑ چکے ہیں اور بوڑھے والدین بڑی سی حویلی میں اکیلے رہتے ہیں ۔ چار بیٹے، چار بہویں، دو بیٹیاں، داماد اور ان سب کے نوجوان بچوں کی ایک فوج گھر کے سربراہ کے انتقال پر اس پرانی حویلی میں جمع ہیں اور ساتھ جمع ہیں بھانت بھانت کے رشتے دار اور دوست۔ ہر کسی کے اپنے اپنے ٹچی پوائنٹس ہیں۔ بہووں کے درمیان خاندانی سیاست، میت کے گھر میں سب کو کھانے اور سونے کی فکر، بیٹوں اور بیٹیوں کو مرحوم سے شکایت ، فلاں کو زیادہ رقم دی ، مجھے کم، اب باپ کا قرض اتارنے میں بھی وہ زیادہ پیسے دے، نوجوان بچوں کی اپنی دنیا اور ایکٹیوٹیز، رشتے داروں کے اپنے مسئلے، آپس کی رنجشیں، اور ان سب کے درمیان سب کا ٹکر ٹکر منہ دیکھتی ہوئی رام پرساد کی بیوہ

گڈ بائی:

پرانی اور نئی نسل کے درمیان موت سے متعلق رسم و رواج پر کش مکش۔ ایک اور ماڈرن فیملی جو پانچ مختلف شہروں میں بکھری ہوئی ہے بہ مشکل ماں کی موت پر ایک ساتھ جمع ہوپاتے ہیں ۔ فیملی غم سے نڈھال انتظامات میں مصروف اور میت میں شریک لوگوں کے اپنے اپنے مسَلے۔ کسی کو چائے نہیں کافی چاہیے تو کوئی زمین پر نہیں بیٹھ سکتا کرسی چاہیے، کوئی خود کو نائب پنڈت کے عہدے پر خود ہی فائز کرلیتا ہے۔ پرانی نسل ہر رسم کے حق میں ہے اور نئی نسل ہر روایت کو چیلنج کرنے کو تیار، "تم کیوں چتا کو آگ لگاو گے، میں کیوں نہیں لگا سکتی میری بھی تو ماں ہے ناں" باپ کو اپنے اکیلے رہ جانے کا خوف "تیرہویں کے بعد جب سب چلے جائیں گے اور میں اکیلا رہ جاوں گا تم جب آجانا"بیٹے کو اپنی ڈائریکٹرز میٹنگ کی فکر " میں بال نہیں کٹواسکتا" بہن بھائی کو جانے کتنے سالوں بعد ایک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت ماں کے انتقال پر ملی ہے۔

ہم سب بھی ایسے ہی مصروف ہیں اپنی اپنی زندگیوں میں، صبح سے شام تک بھاگم بھاگ ، ایک کے بعد دوسرا کام ، کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی ذمہ داری میں مصروف، ہمیں بھی اپنے پیاروں سے قریبی دوستوں سے بات کرنے کی فرصت اب جنازوں پر ہی ملتی ہے۔ تینوں موویز سوچ کا در کھولتی ہیں۔
---------------------------
پی ایس: نینا گپتا اپنی ہیروئن شپ کے دور میں بھی اتنی حسین نہیں لگتی تھی جتنی وہ اب پچھلی دو تین فلموں میں لگی ہے۔ شاید اب کیمرے اچھے آگئے ہیں یا میک اپ اچھا ہونے لگا ہے۔ مووی کا سب سے مزے دار حصہ امیتابھ اور نینا گپتا کی نوجوانی کے دور کا اینی میشن والا حصہ ہے۔ زنجیر مووی والا امیتابھ بچن لوٹ آیا ہو جیسے