Showing posts with label Child Abuse. Show all posts
Showing posts with label Child Abuse. Show all posts

Thursday, June 4, 2026

کتے بلی کے بچے

کل اخبار میں ایک خبر نظر سے گزری۔ اندرونی صفحات میں سوشل میڈیا پر وائرل کسی ویڈیو کے حوالے سے خبر تھی جس میں ایک باپ اپنے تین سالہ بچے کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا ہے جس پر عوامی رد عمل کی اطلاع تھی۔ ایسی خبریں پڑھ کر اور ایسے واقعات دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ اپنے بچوں پر کیسے ہاتھ اٹھا لیتےہیں۔ مجھ سےتو اپنے بھتیجا بھتیجی پر ہاتھ نہیں اٹھتا کبھی۔ ایک آدھ تھپڑ بھی نہیں، کجا کہ مارنا اور ایسے اذیتناک طریقے سے مارتے چلے جان۔ وہ بھی تین سالہ بچے کو، ایک تین سالہ بچہ ایسا کیا گناہ یا جرم کرسکتا ہے بھلا کہ اسے ایسے مارا جائے۔

Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،

Thursday, December 25, 2025

فاطمہ نامہ 1

فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔