Tuesday, April 14, 2026

فاطمہ کی اماں

اماں فاطمہ کی زمین بھی تھیں اور آسماں بھی۔ ایک ماں، ایک دوست، ایک رفیق، سہیلی اور ہم جولی۔ ایک غیر مشروط محبت کا رشتہ۔ تین سال تک فاطمہ دن رات اماں کے ساتھ رہی، مشکل سے سونے کے لیے یا جب بھوک لگتی تو اپنی امی کے پاس جاتی۔ پھر اسکول شروع ہوگیا، فاطمہ اسکول کے لیے تیار ہوکر نیچے آتی، اماں کے ساتھ ان کی چارپائی پر بیٹھ کر کارٹون دیکھتی، ناشتہ کرتی، پھر اسکول جاتی۔ اسکول سے واپس آتی، وہیں اماں کے پاس ہی بیگ پھینک کر سیدھی اماں کی گود میں، وہیں کھانا کھاتی،
پھر وہیں نیچے ہی اماں قیلولہ کرتیں اور فاطمہ اپنی پلاسٹک کی میک اپ کٹ سے اماں کا میک اپ شروع کردیتی، اماں کولائنر لگایا جاتا، پپ اسٹک لگائی جاتی، جیولری پہنائی جاتی، اور اماں کے بالوں میں خوب خوب برش کرکے رولر لگائے جاتے ۔ کبھی میڈیکل کٹ سے اماں کا علاج ہوتا، انجکشن اور ڈرپ لگتی۔ ساتھ ساتھ اماں سے باتیں بھی ہوتی رہتیں۔ اماں نیند میں ہوں ہاں کرتی جاتیں۔ شام کو اماں کے ساتھ "چیز" لینے جاتی۔ رات گئے تک اماں کے ساتھ ساتھ ، اماں کے ارد گرد

اماں کے جانے سے باقی سب کا جو نقصان ہوا ہے وہ اپنی جگہ، لیکن سب سے بڑا نقصان فاطمہ کا ہوا ہے۔ اس نے اپنا دن رات ساتھ دینے والا، ہمیشہ پیار کرنے والا ، مارنے کا تو ذکر ہی کیا، کبھی ڈانٹنے تک نہ والا دوست کھو دیا ہے۔ اس نے کبھی نہیں پوچھا کہ اماں کہاں گئیں، ہم نے اپنے طور پر جو کچھ باتوں باتوں میں سمجھا دیا اس کے آگے کچھ نہیں کہا نہ کوئی سوال کیا۔ بس کبھی کبھی اچانک کہہ دیتی ہے کہ اماں تھیں تو ہم وہاں گئے تھے، یا ہم یہ کرتے تھے ناں جب اماں تھیں۔

ہم میں سے شعوری طور پر شاید کبھی کسی نے بھی اس کا غیر مشروط پیار کرنے والا دوست بننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ والدین ، دادا، پھپو کوئی بھی اماں کا بدل نہیں بن سکا۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی جگہ بہت مصروف ہے، پتا نہیں کیا مصروفیات ہیں جو ہمیں بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ کبھی کبھی وہ کوئی شرارت ضرورت سے زیادہ کرجائے تو اسے سب سے ہی ڈانٹ پڑ جاتی ہے، ایک بار اس نے تنگ آکر کہا کہ میری اماں نہیں ہیں ناں اب تو سب مجھے ڈانٹتے ہیں۔ سب سے بڑا ظلم جو ہم اس پر کرتے ہیں وہ یہ کہ ہم اسے اپنا ہم عمر سمجھ کر اس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہماری طرح لاجیکلی بات اور کام کرے۔

مجھ سے اس کے آنسو برداشت نہیں ہوپاتے،اس کو کسی سے بھی ڈانٹ یا مار پڑ رہی ہو تو میں بیچ میں آجاتی ہوں، اسے بھی یہ پتا ہے کہ پھپھو مجھے روتا نہیں دیکھ سکتیں، سو جذباتی بلیک میلنگ بھی چلتی رہتی ہے۔ میری محبت اس کے لیے لا محدود شاپنگ، ضرورت کی ہر چیز مہیا کردینے تک ہے، میرا بس نہیں چلتا کہ میں اس کے لیے حقیقتاً تارے توڑ لاوں۔ لیکن وقت اور غیر مشروط وقت میں بھی اسے نہیں دے پاتی۔ وہ روز شام کو مجھے کہتی ہے پھپھو میرے ساتھ کھیلو لیکن مجھے فیس بک سے فرصت نہیں ہوتی، کوئی پوسٹ کرنی ہوتی ہے، کوئی کمنٹ کرنا ہوتا ہے، کسی ان باکس کا جواب دینا ہوتا ہے۔ کتنے بے حس ہیں ہم سب۔ پھر بھی میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اسے ٹائم دے سکوں۔ کم از کم سونے سے پہلے ہمارا کہانی سیشن ہوتا ہے، تین سے چار کہانیاں پھپھو فاطمہ کو سناتی ہیں، دو تین نظمیں فاطمہ پھپو کو سناتی ہے پھر اللہ حافظ اور گڈ نائیٹ کر کے سونے جاتی ہے۔

لیکن آج میں نے بہت ہی گھٹیا حرکت کی ، ایک بہت ہی چھوٹی سی شرارت بلکہ غیر ارادی حرکت پر میں نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے پیچھے ہٹایا۔۔۔ دوسرے ہی لمحے مجھے احساس ہوا کہ یہ میں نے کیا کیا، فوراً اسے گود میں لے کر پیار کیا، سوری کیا، بار بار سوری کیا ۔۔ لیکن اس حرکت کا ملال ہے کہ کم ہی نہیں ہورہا۔ مجھے لگ رہا ہے جیسے فاطمہ کی اماں آج مری ہوں۔

تحریر 2015

💔💝💔💝💔💝

فاطمہ نامہ

برادر بئیر 2

کچھ بچے کبھی بڑے نہیں ہوتے

چائلڈ میرج پر ایک بہترین فلم