چھٹی کےدن کچھ پراڈکٹو کرنا،
اچیومنٹ کا احساس حاصل ہونےکے لائق کچھ نہ کچھ کرنا کیا لازمی ہے۔
کیا ایک دن بندہ فارغ نہیں رہ سکتا کچھ اچیو کیے بغیر،
کوئی ٹارگٹ پورا کیے بغیر۔
کسی روٹین پر عمل کیےبغیر۔ تھوڑا دیر سے اٹھ کر، تھوڑا وقت ضایع کر کےریلکس کرنا منع ہے کیا۔
لیکن جونہیں ہوسکا وہ مسلسل دماغ میں ہتھوڑے کی طرح بجے جاتا ہے۔
ہفتےبھر جو دماغ میں کاموں کی لسٹ بنائی ہوتی ہےکہ ویک اینڈ پر یہ یہ کام کرنے، وہ بھوت بن کر سر پر سوار رہتے۔
ہم ورکنگ ویمن بس اپنی ناکامیوں پر، رہ جانے والے کاموں پر ہی گلٹی فیل کر کر کے اپنا ویک اینڈ بھی ورکنگ بنا لیتی ہیں نہیں تواپنا سکون برباد تو کر ہی لیتی ہیں ساتھ بچوں کو بھی برا بھلا کہتی رہتی ہیں جو دیر سے اٹھے اور ہر کام میں دیر ہوئی۔ حالانکہ وہ تو بچے ہیں ہفتے میں دو دن تو ریلیکس کرلیں۔ روز صبح چھ بجے اٹھتے ہیں۔
😑😑😑😑😑