Wednesday, April 1, 2026

کٹ کیٹ ہائیسٹ

اور ہم غریبوں کی محرومیاں 😋

اٹلی اور پولینڈ کے درمیان بارہ ٹن کٹ کیٹ غائب ہوگئی جسے یورپ میں کٹ کیٹ / چاکلیٹ کی سب سے بڑی چوری یا ڈکیتی قرار دیا جارہا ہے ۔یہ خبر سن کر جو پہلا خیال آیا کہ اتنی ساری چاکلیٹس جس کو مفت ملی ہونگی اس کے تو عیش ہوگئے ہونگے اس خیال کے پیچھے بچپن کی کئی  محرومیاں ہیں۔ 

بچے بڑے حیران ہوتے ہیں جب ان کو بتایا جائے کہ جب ہم آپ کی عمر کے ہوتے تھے تو آئسکریم، چپس، پاپ کارن، کولڈ ڈرنک، "ڈبے" والے بسکوٹ  اور چاکلیٹ اس طرح ہر گلی کے نکڑ پر دستیاب نہیں ہوتے تھے۔ یہ اشیاء  ہمارے لیے عیاشی ہوا کرتی تھیں۔

ہاں بھئی آئس کریم  بلکہ "پولکا" عید کے عید عیدی کے پیسوں سے کھائی جاتی تھی وہ بھی بہن کے ساتھ آدھے آدھے پیسے ملاکر۔ اس لکڑی کے چمچ کا ذائقہ آج بھی زبان کو یاد ہے۔  باقی دنوں میں گلی میں آواز لگا کر لالی پاپ بیچنے والے سے اورنج لالی پاپ کھا کر کام چلایا جاتا تھا یا پھر گولہ گنڈہ اور وہ گولہ گنڈہ ہی ہوتا تھا فالودہ نہیں یعنی گلاس میں نہیں بلکہ سرکنڈے کے ایک سرے پر برف لگا کر اس پر لال ہرے شربت کی پچکاریاں مار کر تھوڑا سا کمیل چھڑک دیا جاتا تھا۔ اسے گرنے سے پہلے چوس چوس کر ختم کرنا ہی اصل کامیابی ہوتی تھی۔

چپس اور پاپ کارن کوئی دبئی یا سعودیہ سے تحفہ لا دیتا تھا تب کھاتے تھے۔ ان کے بجائے امی مہینے کے سودے یعنی گراسری میں مرمرے، بتاشے، کھیلیں، اور پُھلّے منگواتی تھیں وہی ہمارے چپس اور پاپ کارن ہوتے تھے۔

چاکلیٹ تو بس گائے والی ٹافی تک محدود تھی۔ یا پھر کوئی دبئی/ سعودیہ سے واپسی پر دو چار چاکلیٹس عنایت کردیتا تھا تو ایک ایک ہر بچے کے  حصے میں  آجاتی تھی۔ 

کولڈ ڈرنک مہمانوں کے لیے منگوائی جاتی تھی۔ مہمانوں کے لیے کانچ والی ریگیولر بوتل میں کولڈ ڈرنک آتی تھی اسی لیے  کولڈ ڈرنک کے بجائے یہ بوتل کہلاتی تھی۔ اور یہ بوتل دکاندار کو واپس کرنی ہوتی تھی۔ بوتلیں  واپس کرنے جاتے تو بچے ہوئے چند قطرے زبان پہ ٹپکا لیتے تو جیسے عید ہوجاتی ۔ یا عید پر پیسے ملا کر آئسکریم کی جگہ بوتل پی لی جاتی آدھی آدھی۔ خود اپنے گھر میں گھر والوں کے لیے یا گراسری میں "بوتل" لانے کا کوئی سین نہیں تھا۔ 

کیک بھی اسی کیٹیگری میں شمار ہوتا تھا۔ آج کی طرح سال میں چھ مرتبہ تو کیا ایک مرتبہ بھی کیک خریدنے کی اوقات نہیں ہوتی تھی۔ سالگرہ وغیرہ منانے کے نخرے نہیں ہوتے تھے۔ کس کی سالگرہ،  کیسی سالگرہ۔  ہماری ایک پڑوسن اللہ بخشے انہیں اپنے بچوں کی سالگرہیں منانے کا بہت شوق تھا وہ اپنے بچوں کی سالگرہ دھوم دھام سے منایا کرتی تھیں ساری پڑوسنوں اور ان کے بچوں کو جمع کرکے۔ ان کے بچوں کی سالگرہوں میں ہم ندیدے پن کے ساتھ شریک ہوتے کہ کیک کا ایک انچ کا ٹکڑا بھی کھانے کو ملے گا نمکو کے ساتھ۔  اس کمی کو ہم اسکول کے باہر ملنے والے کریم والے کیک رس سے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ 

 ڈبے والے بسکٹس بھی بس دکان پر رکھے ہی دیکھے تھے۔کسی مہمان کے لیے پنی والے نائس "بسکوٹ" آتے تھے اور جو چورا پلیٹ میں بچ جاتا تھا وہی عیاشی ہوتی تھی۔ کبھی کبھار بہن بھائی پیسے ملا کر ایک پیکٹ لاکر شرافت سے برابر برابر بانٹ لیتے تھے۔ پھر جس کے بسکٹ جلدی ختم ہوجاتے دوسرا کفایت شعار بعد میں اسے دکھا دکھا کر اترا اترا کر کھاتا تھا کہ دیکھو کتنے مزے کے ہیں۔ 


ان ساری محرومیوں کے باوجود ہم نے یونین کے بسکٹ کھائے ہوئے ہیں، چار آنے کے آٹھ بسکٹ، خستہ اور کرارے۔  یہ جین زی اور ملینئلز یونین کے بسکٹوں کا ذائقہ کیا جانیں بھلا 
🍫🍫🍨🍫🎂🍫🍟🍫🍫