ایک رات نیٹ فلکس پر چکراتے ہوئے یہ مختصردستاویزی فلم نظر آئی۔ دورانیہ دیکھا ، تقریباً آدھا گھنٹہ تھا۔ سونے میں بھی اتنا ہی وقت باقی تھا۔ کیونکہ صبح دفتر بھی جانا تھا۔ کوئی پوری مووی یا سیزن دیکھنے کا ٹائم نہیں تھا ۔ یہ اوریجنل پیڈ مین آف انڈیا کے ایجادکردہ پیڈ مشین اور بنائے گئے پیڈز کے بارے میں ہے کہ کس طرح گاوں دیہات میں نیڈ اسسٹمنٹ کی جاتی ہے اور کس طرح خواتین کو یہ پیڈز تیار کرنا سکھایا جاتا ہے اور پھران کو بیچنا۔ اس طرح ایک طرف خواتین کو صاف ستھرے سینٹری نیپکنز میسرہورہےہیں دوسری طرف خواتین کو روزگار بھی میسر آرہا ہے اور ان کا سماج میں کردار اور رویہ بدل رہا ہے ۔ یہ تو اس کا فارمل تعارف تھا ۔ یعنی مرکزی خیال
میرے لیے اس میں کیا دلچسپی تھی۔ سب سے پہلے تو میں نے شکر ادا کیا کہ میں کراچی جیسے شہری معاشرے میں ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئی۔ یہ ایک لڑکی کے لیے ہمارے جیسے معاشروں میں سب سے بڑا پری ولیج ہے اردو میں بولیں تو سب سے بڑی نعمت ۔ جیسا اس دستاویزی فلم میں دہلی سے ساٹھ کلومیٹر دور ایک گاوں کا حال دکھایا گیا ہے ، مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے گاوں دیہات میں بھی خواتین کو پیریڈز کے حوالے سے ان ہی مسائل کا سامنا ہوگا۔ کپڑا استعمال کرنا، اور کپڑے کےپیڈز کو بھی تبدیل کرنے کے لیے کھیت یا جنگل میں تنہائی کا مل جانا ، استعمال شدہ کپڑوں کو تلف کرنا ، گاوں کے کتوں کا ان پیڈز کو کچرے سے اٹھا لانا، کپڑے کےپیڈ کا لیک ہوجانا اس لیکیج کی وجہ سے بچیوں کا اسکول چھوڑ دینا کیونکہ اسکول میں بچے مذاق اڑاتے ہیں۔ پیریڈز کے دوران اسکول جانے میں پریشانی ہوتی ہے، لہذہ اسکول ہی چھوڑ دو۔
دوسری خوشی کی بات جو مجھے اس مووی میں ملی ۔ کہ کسی ایک گاوں کسی ایک بستی میں جب کوئی ایک لڑکی آگے بڑھتی ہے تو کیسے گاوں کی دوسری لڑکیاں اپنی آنکھوں میں بھی آگے بڑھنے کے خواب سجا لیتی ہیں۔ لیکن ان خوابوں کا بیک گراونڈ بڑا تکلیف دہ ہوتاہے۔ ایک لڑکی گاوں کی دوسری لڑکی کے بارے میں بتاتی ہے کہ وہ پولیس میں نوکری کرنے گئی ہے، پہلے اسے لوگ اس کے باپ کے نام سے پہچانتے تھے اب اس کے ابا کو لوگ اس کے نام سے جانتے ہیں۔ اس لڑکی کا ذکر کر کے اس نے اپنا خواب بھی بتایا کہ وہ بھی چاہتی ہے کچھ کر کے دکھائے، اپنا کمائے، پولیس میں ہی نوکری مل جائے پھر وہ سادہ لباس میں کہیں جارہی ہو اور کوئی اس پر آواز کسے یا تنگ کرے پھر وہ اس کی دھنائی کردے۔ اس خواب کے پیچھے ایک تو آگے بڑھنے کی لگن ہے۔ دوسرے جانے بچیوں کو سڑکوں پر، گلیوں میں، اسکول آتے جاتے، باہر نکلتے کیا کچھ بھگتنا پڑتا ہے جس کا اظہار اس نے اس طرح کیا کہ پھر وہ اس تنگ کرنے والے کی دھنائی کردے۔
ایک بار ضرور دیکھیے اور سوچیے ، کچھ سمجھ آجائے تو اپنے ارد گرد کی خواتین کے لیے تحفظ کا سبب بنیے یا بننے کی کوشش تو ضرور کیجیے ۔
🎓 👧👸👩🎉