Showing posts with label Religion. Show all posts
Showing posts with label Religion. Show all posts

Saturday, June 24, 2017

آیا ہے بلاوہ مجھے دربارِ نبی سے

رمضان نشریات میں خاتون عمرے کا ٹکٹ ہاتھ میں لیے خوشی کے آنسو پوچھ رہی تھیں۔ میزبان انہیں مبارک باد دے رہا تھا اور بیک گراؤنڈ میں نعت خوانوں کا پینل لہک لہک کر 

آیا ہے بلاوہ مجھے دربار نبی سے
پڑھ رہا تھا۔


Tuesday, February 14, 2017

سیون ائیرز ان تبت

ایک لو اسٹوری

سب سے پہلے تو اس کا سفر ہی کراچی سے اسٹارٹ ہوا ۔ ہمارا اپنا کراچی ، ہاں جی اور ہمارا اپنا نانگا پربت بھی ۔ بندے کی آنکھیں اور دل کھل نہ جائے تو اور کیا ہو بھلا ۔ چار کوہ نورد جو نانگا پربت کا دیا میر فیس اور ٹریک دریافت کرنے کی مہم سے فارغ ہوکر اپنے وطن واپس جانے کے لیے کراچی میں بحری جہاز کے انتظار میں تھےدوسری جنگ عظیم شروع ہونے پر سرکار انگلیشہ کے جنگی قیدی بنا لیے گئے کیونکہ انکا تعلق جرمنی سے تھا۔ اور جیل بھیج دئیے گئے جو تقریباً تبت کے بارڈر پر ہی سمجھیں ۔ اب بندہ اور وہ بھی کو ہ نورد,  انگریز کی جیل سے فرار ہوگا تو بھاگ کے اور کہاں جائے گا, تبت اور کہاں ۔ سو یہی ہوا۔

تبت اب تک ہمارے لیے بس اتنا ہی تھا کہ دنیا کا بلند ترین پلیٹو یعنی کہ سطح مرتفع ہے ، چین کا حصہ ہے، جو ذرا چین سے ناراض سا ہے اوروہاں کے حکمران ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

Sunday, June 26, 2016

قادیانیت کے مغالطے ! قاری حنیف ڈار

قادیانیت کے بارے میں جب ھم بات کرتے ھیں تو اس کا مقصد یہ نہیں ھوتا کہ ھمیں غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کے کفر کے بارے میں کوئی شک ھے ، بلکہ اپنی نوجوان نسل کو یہ بتانا مقصود ھوتا ھے کہ یہ " بھولے بھالے " بڑے ھوشیار ھوتے ھیں ،، یہ مظلومیت کا ڈھونگ رچاتے ھیں ،، مذھب ھر انسان کی اپنی پسند ھے اگر انہیں مرزا بطور نبی پسند ھے تو جی بسم اللہ وہ اس کا کلمہ پڑھیں اور اس کی شریعت پر ایمان لائیں ،ھمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ھے ،

قادیانیت اور ریاست: آصف محمود

پہلی قسط 

قادیانیت ایک بار پھر زیر بحث ہے۔اس کے نومولود خیر خواہ اس کا مقدمہ پیش کررہے ہیں 

کوشش کی جارہی ہے کہ اس فتنے کو اسلام کا ایک فرقہ ثابت کر دیا جائے یا اس باب میں خلط مبحث سے اتنی گرد اڑا دی جائے کہ ممکن حد تک ذہنوں کو منتشر کر دیا جائے۔وقت کا انتخاب بھی ان حضرات نے خوب کیا ہے۔معاشرہ انتہا پسندی سے بے زار ہو چکا ہے ، مذہبی طبقہ بھی اس وقت دفاعی پوزیشن میں ہے اور نوجوان بالعموم مذہبی مباحث میں الجھنے سے گریز کرتے ہیں۔حضرات نے سوچا ہو گا معاشرے کی نظریاتی شناخت پراولین ضرب لگانے کے لیے اس سے اچھا وقت نہیں مل سکتا۔لیکن وہ اندازے کی غلطی کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ اب اہل جبہ و دستار کی جانب سے نہیں ،ان نوجوانوں کی جانب سے ردعمل آ رہا ہے جنہیں اہل مدرسہ نہیں بلکہ تہذیب کا فرزند کہا جاتا ہے۔یوں سمجھیے : مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان لبرل نے ۔

لکیر کھینچی جا چکی ہے : محمد عامر ہاشم خاکوانی

قادیانیوں والے مسئلے پر بحث اب شروع ہوئی ہے تو اس کے کئی مختلف زاویے زیر بحث آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے دو باتیں ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ ایک ہے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی آئینی ترمیم۔ یہ بالکل الگ مسئلہ ہے ، اس پر سوچ سمجھ کر کلام کیجئے ۔ ممکن ہے آپ میں سے چند ایک اصولی بنیاد پر اس موقف کے حامی ہوں کہ ریاست کو کسی کو غیر مسلم قرار دینے کا حق نہیں، مگر یہ یاد رکھئیے کہ اس وقت اس دلیل کو سب سے زیادہ قادیانی اور قادیانی نواز حلقے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو قادیانیوں کو غیر مسلم نہیں سمجھتے، جن کے نزدیک ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مسئلہ ہی نہیں، ویسے تو ایسے لوگوں میں سے بعض کے نزدیک خود رسالت بلکہ خدا کا وجود ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ یہی لوگ اب ایک بار پھر نئے سرےسے ، ایک منظم انداز میں ایک طے شدہ مسئلے کو ، ایک متفقہ آئینی ترمیم کو ،جس کے پیچھے عوام ، اہل علم اور تمام تر دینی حلقوں کا مینڈیٹ موجود ہے، اس مسئلے کو بلکہ ایک طرح سے پنڈورا باکس کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی، منظم کوشش ہے۔ یہ حلقہ سوچے سمجھے بغیر آگ سے کھیل رہا ہے، انہیں اندازہ ہی نہیں کہ اس طرح وہ بارود کو تیلی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا تمام تر نقصان قادیانی حضرات کو ہوگا کہ شدید ردعمل میں یہ نام نہاد لبرل ، سیکولر حضرات تو چپکے سے ایک طرف ہوجائیں گے، نشانہ عام قادیانی بننے کا خطرہ ہے ۔ 

کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟


قادیان کے جھوٹے نبی کی حمایت میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے مگر سوال اٹھانے والوں نے جھوٹے نبی کے بجائے سچے نبی ﷺ سے محبت کی ہوتی، سیرت طیبہ کا کچھ مطالعہ اور مدینہ کی پہلی اسلامی ریاست کا جھوٹے مدعیان اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ سلوک ملاحظہ کیا ہوتا، اس باب میں خلفائے راشدین کے اسوہ کی کچھ خبر ہوتی، اور ما بعد کی مسلم ریاستوں اور حکمرانوں کا طرزعمل معلوم ہوتا تو اس سوال کی نوبت پیش نہ آتی۔ مگر اب سوال ہوا ہے تو آئیے تاریخ سے اس کا جواب حاصل کرتے ہیں۔

Tuesday, June 14, 2016

مسئلہ قادیانیت پر نئی بحث

مسئلہ قادیانیت پرحمزہ علی عباسی کے حوالے سے چھڑی بحث پر محمد عامر ہاشم خاکوانی کی ایک پرمغز تحریر

حصہ اول:

کل حمزہ علی عباسی کی ایک ویڈیو دیکھنے کو ملی ، جس میں انہوں نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کے حوالے سے چند سوالات اٹھائے اور ایک نکتے پر بار بار اصرار کیا کہ ریاست کو کس طرح کسی کو کافر قرار دینے کا حق حاصل ہوسکتا ہے؟ 

آج کل ٹی وی پر وہ رمضان نشریات کر رہے ہیں، ساتھ دو تین علما بھی بٹھاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں انہیں غالباً خیال آیا کہ لگے ہاتھوں یہ آئینی مسئلہ بھی ’’نمٹا‘‘ دیا جائے۔ انہوں نے اپنے مہمان علما سے سوال پوچھا کہ ریاست کسی کو کافر کس طرح قرار دے سکتی ہے ؟ ساتھ ہی انہوں  نے وضاحت بھی کی کہ میں نے جب قادیانیوں کے ساتھ زیادتی والا ایشو اٹھایا تو لوگ مجھے قادیانی کہنے لگے ہیں، حالانکہ میں سنی مسلمان ہو۔

Monday, May 23, 2016

رمضان : خوشامد, سفارش اور رشوت کا مہینہ

ہمیں کسی  سے کوئی کام نکلوانا ہو تو ہم ہر طرح سے اسکی مٹھی چاپی کرتے ہیں، خوشامد، جھوٹی سچی تعریف، سفارش، رشوت ہر طرح سے اسے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا اٹکا ہوا کام نکل جائے۔ جتنا بڑا افسر یا وزیر یا عہدے دار اتنی تگڑی سفارش ، اتنی زیادہ رشوت

Wednesday, May 4, 2016

برصغیر میں شب معراج

آج کے تمام اخبارات شب معراج کی تفصیلات سے بھرے ہوئے ہیں۔ میں تین سال مصر میں رہی ہوں لیکن میں نے وہاں شب معراج کے موقعے پر کسی خاص اہتمام تو کیا کسی کے منہ سے بھی اس واقعے کا تذکرہ نہیں سنا۔ یاد رہے کہ مصر ایک عرصے تک اسلام اور مسلمانوں کا تہذیبی اور ثقافتی گہوارہ رہا ہے۔ الازہر یونی ورسٹی آج بھی مسلم دنیا کی مرکزی فتویٰ گاہ شمار ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ کےمتعدد واقعات کے بارے میں ایسا ہی سرد رویہ خلیج اور خطہ عرب کے دیگر ممالک میں نظر آتا ہے جن پر ہمارے ہاں خاصہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ اس خطے میں لوگ صرف شب قدر کو ہی جانتے ہیں اور اسی موقعے پر کچھ شو شا کرتے ہیں۔ یا پھر عیدین،  سعودی عرب تو کٹر وہابی ہے یعنی کفر سے محض چند قدم ہی پیچھے ہے۔ نابکار کہیں کا۔

Thursday, April 21, 2016

اسلام کی روح

بانو قدسیہ نے راجہ گدھ میں حلال اور حرام کی تمیز کو اسلام کی روح  کہا ہے، لیکن حلال اور حرام کی تمیز تو اسلام سے پہلے کی شریعتوں میں بھی تھی، جن میں سے کچھ کو اسلام نے جاری رکھا، اور کچھ مزید اضافہ کیا۔

میری ناقص رائے میں تو "انکار" اسلام کی روح ہے، اسلام کی ابتداء بھی انکار سے ہی ہوتی ہے، "لا الہ" الا للہ، سے۔ تمام انبیاء پر ایمان لانے کے باوجود ، ان کی کتب اور صحیفوں پر، تمام پرانی شریعتوں پر ایمان لانے کے باوجود ان کی پیروی سے انکار۔ مسلمانوں اور یہودیوں کا تو جھگڑا ہی یہ ہے کہ ہم ان کی کتاب کو ان کے رسولوں کو ماننے کے باوجود ان کی پیروی سے انکار کرتے ہیں، ورنہ وہ بھی خدائے واحد کی عبادت کرتے ہیں ہم بھی، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں اور وہ بھی۔

Thursday, May 14, 2015

حج فارم میں مسلک کا کالم اور شعیہ سنی تفرقہ: حقیقت یا فسانہ

بطور تعلیم یافتہ ذمہ دار شہری ہمیں اختلاف برائے اختلاف سوشل میڈیا پر زہر پھیلانے کے بجائے کسی بھی فیصلے یا عمل کا پس منظر جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ درج ذیل معلومات نیک نیتی کی بنیاد پر شئیر کی جارہی ہیں ۔ [دروغ بر گردن راوی]۔

آجکل سوشل میڈیا پر حج فارم میں مسلک کے کالم پر شدید اعتراضات کیے جارہے ہیں اور اسے تفرقہ پھیلانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ عامر لیاقت حسین پاکستان کے وزیر مذہبی عمور رہ چکے ہیں ۔ ان کے مطابق :

"
حج فارم میں جس ’’کالم‘‘ پر شدید اعتراض کیا جا رہا ہے اُس کی سفارش اہل تشیع کے ممتاز عالم مفتی جعفر حسین مرحوم نے کی تھی اوراِس کا ایک سبب نہیں بلکہ کئی اسباب ہیں جو بالکل درست ہیں…

1۔پہلا سبب یہ ہے کہ فقہ جعفری کی رو سے مَحرم کی شرط شیعہ حضرات کےلئے نہیں ہے اِسی لئے یہ خانہ انتہائی ضروری ہے تاکہ شیعہ خواتین اس سے مستثنیٰ قرار پائیں…

Sunday, April 12, 2015

قران و حدیث میں عورت کا مقام اور صنفی تفریق

ہم اپنے ہر خیال، عمل اور رویے کے لیے دلیلیں تلاش کرتے ہیں تو سب سے پہلے نہیں تو سب سے آخر میں قران و حدیث تک پہنچ جاتے ہیں۔ کہ ہمارا سب سے اہم حوالہ اللہ کا کلام اور اسکے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ عموماً قران اور حدیث میں سے ایک دو باتوں کا حوالہ دے کر خواتین کو مردوں سے کم تر اور کم عقل قرار دیا جاتا ہے، جس کی بنیاد پر پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت عورتوں کو ان کے جائز حقوق سے بھی محروم رکھتی ہے۔ جسے عام زبان میں صنفی امتیاز یا صنفی تفریق کا نام دیا جاتا ہے۔ تو روز مرہ زندگی میں جن قرانی معلومات اور احادیث کو ہم دن رات دہراتے رہتے ہیں ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

Tuesday, January 20, 2015

An Open Letter to Editor Charlie Hebdo


چارلی ہیبڈو کے خاکوں کے پس منظر میں ایک ادنٰی سی کوشش۔
کسی قسم کی جذباتیت کو الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہولوکاسٹ سے بھی کنی کترا کے گزری ہوں کیوں کہ اگر کل کلاں  کو ہولاکاسٹ پر کھلے عام تنقید کا حق مل جائے تو کیا ہم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پرشادیانے بجائیں گے ، ہر گز نہیں ، تو ہولوکاسٹ ہمارا مسئلہ نہیں۔

بنیادی خیال یہ ہے کہ کسی کو قتل کردینے سے یا اپنی بسیں اور بنک جلانے سے یہ واقعات کم ہونے کے بجائے بڑھیں گے۔ ہم مسلمانوں کو اپنی آواز اور اپنے جذبات ان اداروں تک طریقے سے پہنچانے چاہئیں جو مسلسل اس قسم کی حرکتیں کر رہیں ہیں۔ 

جو لوگ اس کو مغربی پریس کو ای میل کرنا چاہیں یا اپنی وال پہ پوسٹ کرنا چاہیں ، بسم اللہ [چارلی ہیبڈو کے ای میل کی تلاش میں ہوں، ویب سائیٹ حکومت آنٹی نے بند کر رکھی ہے]
ایک ہد ہد ایک قطرہ پانی سے آگ تو نہیں بجھا سکتا لیکن اسے آگ بجھانے والوں میں گنا جائے گا ،آگ لگانے اور بھڑکانے والوں میں نہیں :)



Mr. Editor,

Charlie Hebdo

Saturday, July 26, 2014

حرام یا ناپاک کیوں: ایک خیال

بہت ساری چیزیں اور عمل اللہ تعالیٰ نے حرام اور ناپاک قرار دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمتیں تو وہی جانے مگر عمومی طور پر وہ اشیاء جو انسانی صحت کے لیے نقصاندہ ہیں وہ ناپاک قرار دی گئی ہیں۔ جیسے خون ، فضلات، اور دیگر انسانی اخراجات میں جراثیم اور وائرس پائے جاتے ہیں لہذہ انہیں ناپاک قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اگر انسان کے جسم پر یا لباس پر لگا ہو تو وہ پاک نہیں رہتا، وضو کے بعد لگ جائے تو وضو ساقط ہو جاتا ہے، اسے فوری طور پر پاک ہونا لازمی ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ بندہ جراثیم اور وائرس وغیرہ سے بچا رہے۔

Saturday, September 21, 2013

Qura'an: What is inside

آجکل میں مولانا مودودی کا اردو ترجمہ٫ قران بطور ایک کتاب پڑھ رہی ہوں۔ زیر نظر تبصرہ محض ایک ایسا ہی تبصرہ ہے جیسے ایک کتاب کو پڑھ کر اسکے بارے میں تبصرہ کیا جاتا ہے۔

قران مجید کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اللہ ایک ہے، وہی اس تمام جہان کا خالق ہے، وہی مقتدر ہےوہی تمام عبادتوں کا حقدار ہے۔ لہذہ صرف اور صرف اسکی بات سنی، مانی اور عمل کی جائے۔ اسکے بتائے ہوئے رستے پر چلا جائے، جو اسکے بتائے ہوئے راستے پر چلے گا، کامیاب ہوگا، جو بغاوت کرے گا سزا کا مستحق ہوگا۔ ہر گناہ قابل معافی ہے، سوائے شرک کے۔

Saturday, December 8, 2012

ہم اور ہمارا اسلام

خواہ دنیا پاکستانیوں کو بنیاد پرست کہے، یا ساری مذہبی تنظیمیں ہمیں بے دین سمجھتے ہوئے، بنیاد پرست بنانے کی کوشش کرتی رہیں، لیکن تین سال سعودی، مصری اور دیگر عرب مسلمانوں کے ساتھ رہ کر اندازہ ہوا کہ ہم عام پاکستانی ان نام نہاد مسلمانوں سے بہتر مسلمان ہیں، ہم لوگ اس مغالطے میں رہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب تھے تو عرب دین اسلام میں پی ایچ ڈی ہیں جبکہ ہم پرائمری اسکول میں، اسی غلط فہمی میں ہم عموماً "رہنمائی" کے لیے سعودی عرب کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہماری عام زندگی بہت حد تک اسلامی شعائر کے دائرے میں ہے، ہم دین میں ان سے آگے اورمنافقت میں ان سے پیچھے ہیں۔

یقینا ہم میں شرابی کبابی بھی موجود ہیں لیکن ایک عام اوسط پاکستانی رزق کی عزت کرتا ہے، کھانا کھانے سے متعلق چھوٹی چھوٹی سنتوں کا خیال کرتا ہے، ایک عام پاکستانی خاتون اپنے محرموں کے سامنے بھی ستر کا خیال رکھتی ہے، جامے سے باہر نہیں ہوتی، 'لیڈیز اونلی' محفل میں بھی ان کا لباس اخلاقی حدود میں رہتا ہے،عربی خواتین خصوصا" سعودی خواتین کا لباس، اللہ کی پناہ۔ سعودی حکومت کی سخت شرعی پالیسی نے سعودیوں کوضرور کنٹرول کیا ہے، ان کے اخلاق و خصائل کونہیں، سعودی عرب میں جو کچھ نہ کرسکیں وہ کہیں اور کر لیا، یہ اسلام تو نہ ہوا، سراسر منافقت ہوئی۔

عام پاکستانی مرد بھی لڑکیوں کو تاڑنے تک ہی محدود رہتا ہے، اگر کہیں ریڈ لائیٹ ایریا ہے بھی تو سارے کے سارے وہیں نہیں پائے جاتے، جو جاتے ہیں نظر بچا کر ہی جاتے ہیں، سعودی مرد حضرات مصر آتے ہی 'تفریح طبع' کے لئے ہیں، زیادہ تر پرانے قاہرہ کے خاص محلوں میں چکراتے پائے جاتے ہیں، جو ذرا شریف ہوتے ہیں وہ کسی مصری خاتون سے ہفتے پندرہ دن کے لیے نکاح کر لیتے ہیں، پندرہ دن بعد طلاق دی اور یہ جا اور وہ جا۔ مزے کے مزے، ضمیر بھی مطمعین رہتا ہے، آخر نکاح کرتے ہیں، گناہ نہیں کرتے۔ مصر کی غربت نےغریب والدین کو بیٹیوں کا دلال بنا دیا ہے، مخصوص علاقےجہاں غربت زیادہ ہے اس قسم کی کاغذی شادیوں کے لیے مشہور ہیں، امیر عرب بوڑھے کمسن لڑکیوں سے چند روزہ شادی کی ٹھیک ٹھاک قیمت دے دیتے ہیں، والدین کی قسمت سنور جاتی ہے اور لڑکی . . . لڑکیوں کو قسمت کا کیا کرنا ہے۔ جب 'صراط مستقیم' پر چلنے والوں کا یہ حال ہے تو باقی عرب ممالک کے شہریوں کا آپ خود اندازہ کرلیں۔ 

یہ تو ہوئی معاشرت، عبادت کی بھی سن لیں، نماز عربوں کی عادت میں شامل ہے، اسکا پرچار نہیں کرتے، کسی بھی جگہ دو بندے بھی ہونگے تو جماعت کرلیں گے، اچھی بات ہے، لیکن وضو پورا نہیں کرتے،میرے ساتھ ایک صاحبہ بازار میں تھیں، اذان ہوئی تو ہم قریب میں مسجد میں چلے گئے، میں نے عادت کے مطابق وضو کیا، انھوں نے صرف ہاتھ اور چہرہ، چہرہ بھی ایسے کہ سکارف تک نم نہ ہوا، موزوں پر مسح کر لیا، نہ گردن، نہ کان، نہ بال، پھر حیرت سے فرمایا، تم نے گردن، بال اور کان کا بھی مسح کیا ہے، میں نے پوچھا تم نے کیوں نہیں کیا، بولیں، کوئی کرتا ہے، کوئی نہیں کرتا۔ ساری نمازیں پڑھتے ہیں، پر پوری نماز نہیں پڑھتے، صرف فرض، نفل چھوڑیں سنتیں بھی نہیں۔

شب معراج، شب برات کا کچھ پتہ نہیں چلتا ، نہ عبادت نہ روزہ۔ ۔البتہ رمضان بہت ہی اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ شب قدر کے آخری عشرے میں روز انہ شبینہ عبادت کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے، اس خصوصی نماز کو تہجد کہا جاتا ہے۔ معمولی سی رونق عید میلادالنبی پر ہوتی ہے، محرم پر وہ بھی نہیں نظر آتی.

پردہ نشینوں کا کچھ حال تو اوپر بیان ہے، باقی عرب خواتین کا حال کچھ اس طرح ہے، سوریا شام کی خواتین یورپین ہوتی ہیں، سودانی خواتین پاکستانی ہوتی ہیں، مصری خواتین مصری ہوتی ہیں یعنی اپنی طرح کی ۔ اسی سے نوے فیصد مصری خواتین سکارف لیتی ہیں، انکا اسلامی لباس سکارف اور اسکن ٹا ئیٹ جینز اور ٹاپ پر مشتمل ہوتا ہے، انکے خیال میں پردہ جلد ڈھکنے کا نام ہے جسم ڈھکنے کا نہیں، لہذہ حضرات بآسانی تمام نشیب و فراز معائنہ فرماتے رہتے ہیں

Sunday, November 25, 2012

ڈنڈے کے زور پر عقیدوں کی درستگی

آجکل عقیدوں کی درستگی پر بہت زور ہے، ہر شخص لٹھ لے کر دوسروں کے عقیدے درست کر وا رہا ہے۔ "اگر مسلمان ہو تو اس پوسٹ کو لائک کرو" ۔ 

میرا عقیدہ جو بھی ہو، وہ میرے اور اللہ کے درمیان ہے۔ اگر میں درست ہوں تو مجھے کوئی ڈر نہیں، اگر تم درست ہو تو تمہیں فکر نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ہم دونوں کو اللہ کے منصف ہونے پر یقین ہے نا، تو وہ سزا دے گا مجھے یا جزا ، یہ تمھارا concern نہیں ہونا چاہئے۔ 

جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا برائی کو ہاتھ سے روکو، نہیں تو زبان سے، ورنہ دل میں برا سمجھو، اور یہ سب سے کمزور ایمان کی نشانی ہے، اسی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو کہا تھا کہ دین میں جبر نہیں ہے، اس نے یہ بھی تو کہا تھا کہ جو چیز تمہیں شک میں ڈال دے اسے چھوڑ دو، اور جس پر تمہارا دل مطمعین ہو اسے اپنا لو۔ تو ہم صرف لوگوں کو صحیح اور غلط بتا سکتے ہیں سیدھا راستہ دکھا سکتے ہیں لیکن زبردستی اس پر چلا نہیں سکتے۔