Wednesday, March 11, 2020

میرا جسم میری مرضی

میں کیوں اس نعرے کی حمایت کرتی ہوں


میں زندگی کی پانچ دہائیاں مکمل کرنے کے قریب ہوں، میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جو نہ بہت زیادہ مذہبی تھا نہ بہت زیادہ آزاد خیال۔ ننھیال میں تعلیم کا رحجان کم تھا لیکن ددھیال میں تعلیم کی کمی نہ تھی۔ دادا، تایا، ابا، چچا بالترتیب، پرنسپل،پروفیسر، ہائی اسکول ٹیچر اور پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔ اور اکلوتی پھپھو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں ہاسٹل میں رہ کر لائبریری سائنس میں ماسٹرز کرچکی تھیں۔بعد ازاں وہ پاکستان نیوی کی سینٹرل لائبریری میں لائبریرین مقرر ہوئیں۔ سب سے چھوٹے چچا انجینئر بنے۔
لیکن تعلیم کی کمی کبھی میری نانی، خالاوں یا والدہ کی زندگی میں کسی قسم کی کمی کا باعث نہ بنی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ برقع استعمال کرتی تھیں تاہم یہ برقع رواج کے مطابق تھا نہ کہ گھر کے مردوں نے ان پر زبردستی کی ہو ، ارد گرد سب خواتین پہنتی تھیں تو انہوں نے بھی پہن لیا۔ لیکن یہ برقع بھی ان کی موومنٹ یا گھر سے نکلنے پر پابندی کے لیے نہیں تھا۔ میرے نانا مرحوم میری خالاوں کو خود سینما فلمیں دکھانے لے جایا کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں نہیں لے جاوں گا تو یہ مجھ سے چھپ کر جائیں گی ، جائیں گی تو ضرور ، تو میں خود کیوں نہ لے جاوں۔ اسی طرح میری نانی اکیلی جب دل کرتا ٹوپی والا برقع اٹھا کر اپنی بہن سے ملنے تن تنہا ملتان روانہ ہوجاتیں۔ نہ انہیں کوئی روکتا نہ ٹوکتا۔

خود میری والدہ ہم بچوں کو سلا کر محلے کی خواتین کے ساتھ لیڈیز اونلی پارٹی کرتے ہوئے رات نوبجے والا فلم شو دیکھنے چلی جاتیں۔ یاد نہیں کہ کبھی ابا نے انہیں فلم دیکھنے جانے سے روکا ہو، یا اس بات پر جھگڑا ہوا ہو۔ اور یہ وہ وقت تھا جب اورنگی ٹاون میں بجلی ، گیس، سڑکیں ندارد تھیں ، آخری بس گھر سے کم از کم ایک کلو میٹر دور اتار دیتی تھی، واپس پیدل آنا پڑتا تھا۔خود میں سینما میں اپنی پہلی فلم اسکول میں داخلے سے بھی پہلے دیکھ چکی تھی۔

مجھے نہیں یا د کہ پچھلے تقریباً پچاس سالوں میں کبھی میرے والد، بھائی یا والدہ نے یہ کہا ہو کہ یہ لباس نہیں پہننا یہ پہننا ہے۔ میں جینز بھی پہنتی ہوں، عام شلوار قمیص بھی، میں نے یونیورسٹی کے زمانے میں اپنی مرضی سے عبایا بھی استعمال کیا اور پھر چھوڑ بھی دیا۔ میں سر پر دوپٹہ اپنی مرضی سے لیتی ہوں، اور جب دل کرتا ہے اسکارف بھی استعمال کرتی ہوں ۔ میرے گھر کی دوسری خواتین گلے میں دوپٹہ بھی ڈال لیتی ہیں نہ میں انہیں سر ڈھکنے کو کہتی ہوں نہ وہ مجھے سر کھولنے کو۔ جو مجھے کمفرٹیبل لگتا ہے میں پہنتی ہوں، جو انہیں کمفرٹیبل لگتا ہے وہ کرتی ہیں۔

مجھے میرے والد یا بھائی نے کسی جگہ جانے سے نہیں روکا۔ یہ میرے والد کا دیا ہوا اعتماد تھا کہ جس دن میرے باس نے مجھ سے پوچھا کہ مصر جاو گی اسکالرشپ پر، میں نے ایک لمحہ سوچے بغیر ہاں کردی۔ کبھی کسی جگہ جانے کے لیے زبردستی بھی نہیں کی۔میں نے فیملی اور فرینڈز سرکل میں کتنی ہی شادیاں اور دعوتیں رد کی ہیں۔ شرکت سے انکار کیا ہے۔ کسی نے زبردستی نہیں کی کہ تمہیں جانا ہے۔ میری والدہ تھوڑا جز بز ہوتی تھیں لیکن انہوں نے بھی کبھی اصرار نہیں کیا۔سارا خاندان شادی میں جاتا تھا اور میں گھر میں" می ٹائم" انجوائے کرتی تھی۔

میں اکیلے بس، ٹرین، جہاز میں سفر کرتی ہوں، خود ڈرائیو کرتی ہوں، اپنے سارے کام خود کرتی ہوں، گھر کی آوٹ ڈور ذمہ داریاں بھی خوشی سے نبھاتی ہوں۔ اپنا کماتی ہوں اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر کے خوش ہوتی ہوں۔ مجھے فخر ہے کہ میں اپنے گھر کی ایک مفید رکن ہوں۔ شادی کے لیے بھی کسی نے زبردستی نہیں کی۔ اگر میں کسی بندے پر ہاتھ رکھ دیتی کہ مجھے اس سے شادی کرنی ہے تو گھر والے کردیتے۔ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ وہ کوئی معقول بندہ ہی ہوتا۔

میں ٹریکنگ پر جاتی ہوں، گھر، دفتر اور دیگر سماجی ذمہ داریوں سے بالکل الگ ہو کر دس پندرہ دن موبائل سگنلز سے دور، فیس بک ریٹنگ اور واٹس ایپ "سین اینڈ ناٹ رپلائینگ" سے آزاد دنیا میں رہ کر بقول شخصے نامحرم مردوں کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھاتی ہوں ، ان کا ہاتھ پکڑ کر تند و تیز نالے کراس کرتی ہوں، گلیشئروں کی برف پر ان کے ہاتھ کی بنی چائے انجوائے کرتی ہوں، ان کے ساتھ مل کر گانے گاتی ہوں اور ان سب پر میرے والد، بھائی یا والدہ نے کبھی نہ اعتراض کیا نہ پابندی لگائی۔ کیونکہ وہ میری حدیں جانتےہیں جو میں نے خود مقرر کی ہیں اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ میں لوگوں کو ان کی حد میں رکھنا جانتی ہوں۔ 

اب اگر میں خود تو اپنی مرضی کا لباس پہنتی ہوں، اپنی مرضی سے جہاں دل چاہے آتی جاتی ہوں، اپنی مرضی کے دوست بناتی ہوں، [میرے دوستوں میں مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے۔]، خودتو جینز بھی پہنتی ہوں، جاب بھی کرتی ہوں، مردوں سے دوستیاں بھی کرتی ہوں ، ان کے گھر بھی جاتی ہوں، ان کو اپنے گھر بھی بلاتی ہوں۔ان کے ساتھ اکیلے پٹھان کے ہوٹل پر بیٹھ کر چائے بھی پیتی ہوں۔ سینما جاتی ہوں، پہاڑوں پر جاتی ہوں۔ لیکن یہی آزادیاں یہی مرضی دوسری خواتین کو ملنے کے خلاف ہوں۔ یا اگر دوسری عورت کہتی ہے کہ میرا جسم میری مرضی تو میں اس پر اعتراض کروں،اسے فاحشہ پکاروں یا یہ کہوں کہ اگر ان خواتین یا بچیوں کو انسان سمجھا گیا اور انہیں ان کی مرضی کی آزادی دی گئی تو یہ سڑک پر ننگا ناچیں گی تو یہ سراسر منافقت ہوگی۔





👧👱👰👩