Showing posts with label Tourism. Show all posts
Showing posts with label Tourism. Show all posts

Saturday, August 26, 2017

تفریح کے بدلتے ہوئے صنفی رجحانات

بطور ایک مشرقی معاشرہ پاکستانی معاشرے میں صنفی تقسیم کار اب بھی بہت واضح ہے، خواتین کا کام گھر سنبھالنا ہے اور مردوں کا کام معاشی بوجھ اٹھانا۔ تبدیلی آرہی ہے مگر بہت دھیرے دھیرے۔ شہروں میں یہ تبدیلی نسبتاً تیز رفتار ہے۔ خواتین تعلیم، ہنر اور معاشی سرگرمیوں میں مردوں کے شانہ بشانہ نہ سہی ان سے بہت پیچھے بھی نہیں ہیں  بلکہ بعض میدانوں میں مردوں کو پیچھے بھی چھوڑ گئی ہیں۔
Photo Credit: Usama Ali

Wednesday, December 21, 2016

کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی

کوہِ حنیف مڈ والکینو مہم 


ایک معصوم سا پہاڑ: دور کے ڈھول سہانے
پکچر کریڈٹ: محمد حنیف بھٹی صاحب

کہتے ہیں کہ ایک کوہ نورد یا ایک ٹریکر پر ہر ٹریک کے دوران تین مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ ابتداء میں پرجوش یا ایکسائٹمنٹ، درمیان میں پچھتاوا یا ریگریٹ اور تیسری پھر سے کسی اور نئی مہم کے لیے تیاری۔ ہم اس وقت دوسرے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ یعنی پچھتاوا۔ بھلا ہمیں کس نے کہا تھا کہ جان بوجھ کر جان جوکھم میں ڈالیں۔ 

Friday, December 16, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ نہم / اختتامیہ)

چلو اب گھر چلیں ساغر ، بہت آوارگی کرلی 


صبح سویرے ہی روشنی ہونے سے آنکھ کھل گئی۔ اکا دکا لوگ جاگ چکے تھے لیکن اپنے اپنے مقام استراحت پر "اینڈنے" میں مصروف تھے۔ "اینڈنا"یہ ہماری ذاتی ایجاد کردہ اصطلاح ہے، یعنی آنکھ کھلنے کے بعد کی نیند ، الارم بجنے یا امی کے جگانے کے بعد جو ایک نیند کا پیریڈ ہوتا ہے اسے ہم اینڈنا کہتے ہیں۔"ہاں بس پانچ منٹ اور" والی نیند، اور جو سواد اس نیند میں ہوتا ہے وہ ساری رات کی نیند میں نہیں ہوتا۔ پر ہر گزرتے منٹ کے ساتھ روشنی بڑھ رہی تھی اور ساتھ ہی گرمی بھی۔ چار و ناچار ہر ایک اٹھ بیٹھا، ناشتے کے لیے چائے چڑھا دی گئی۔ گرمی اور حبس اتنا تھا کہ دل کرتا تھا اٹھ کے بھاگ لو ۔ ابھی سات بھی نہیں بجے تھے۔ انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ابھی سب دوبارہ آبشار کی طرف جائیں گے، واپس آکر ناشتہ کریں گے اور پھر نو بجے تک واپسی کے لیے نکلیں گے۔ 

Tuesday, December 6, 2016

کراچی فوٹو واک : کراچی میں یہ گل کھلنے کا موسم ہے

نکتہ آغاز-  فوٹو: نسرین غوری 

ہم چاروں کی گاڑیاں ایمپریس مارکیٹ کی پارگنک میں موٹر سائیکلز کے درمیان ایسے خوشی خوشی محصور تھیں جیسے بھینیسیں کسی جوہڑ میں فرصت سے بیٹھی جگالی کر رہی ہوں۔ اور ہم چاروں حق دق کہ انہیں کیسے واگزار کرائیں۔ہم اتنا ہڑبڑائے کہ ،،، بس نہ پوچھیں۔ اور یہ سارا کیا کرایا ہمارا ہی تھا۔ ہم ہی ہیں جس کو یہ کراچی فوٹو واک کا وائرس لگا تھا۔ 

ونس اپان ٹو ائیرز ایک مرتبہ جب ہم ایک نامہ نیم ادبی جمع ادیبی فین گروپ کے منتظم تھے ہمیں شوق چڑھا کہ کراچی میں ریڈنگ اور فوٹو سیشن کے علاوہ بھی کوئی ایکٹیوٹی ہونی چاہیے۔ قدیم لاہور میں ہوئی واک کا نشہ بھی تازہ تھا۔ سو ہم نے گروپ کے کراچی کے ارکان کو کراچی میں بھی ایک ایسی ہی واک کروانے کا پلان بنایا۔ 

Tuesday, October 18, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ہشتم)

یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی 


درہ مولہ کی منفرد ٹوپوگرافی
جاتے ہوئے ہمیں پیدل جانے میں اتنا مزہ آیا کہ واپسی پر جب ہمیں جیپ رائڈ آفر ہوئی تو ہم نے انکار کردیا اور پیدل واپس آنے کو ترجیح دی۔ ریسٹ ہاؤس پہنچے تو جھٹپٹے کا عالم تھا نہ مکمل روشنی نہ مکمل تاریکی۔ کچھ لوگ ہم سے پہلے کے واپس آچکے تھے، تمام مقامی اور ڈرائیور حضرات لنچ یا ڈنر میں مشغول تھے، ہم بھی منہ ہاتھ دھو کر لائن میں لگ گئے، ریسٹ ہاؤس کیونکہ چاروں جانب سے اونچے پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا ہوا کا نام و نشان نہیں تھا شدید حبس کی کیفیت تھی۔ اندھیرا بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید لوگ آبشار سے واپس آنا شروع ہوگئے، ریسٹ ہاؤس کے کمرے دن بھر کی گرمی جذب کر کے اب گرمی خارج کرنا شروع ہوگئے تھے، لہذہ کمپاؤنڈ میں دریاں بچھا کر بڑے کھانے کا انتظام کیا گیا، جس کے ساتھ ایک بڑی ایل ای ڈی فلیش لائیٹ لگا کر بظاہر روشنی کی گئی تھی مگر اس کے نتیجے میں باقی سارا جہان گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ، اور ارد گرد کی خلق خدا نابینا ، نابینا سا محسوس کرنے لگی۔

Sunday, October 16, 2016

تاک بندر، اورمارہ ایڈونچر

تاک بندر کیمپ سائیٹ

سالانہ فیملی ٹرپ کئی ماہ سے لڑھکتا آگے کھسکتا جارہا تھا، عید پر بننے والا پروگرام ٹلتے ٹلتے بقر عید پر پہنچا۔ بقر عید پر گورکھ ہلز یا تھر پارکر جانے کا سوچا لیکن موسم چیک کرنے پر پتا چلا کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر رہے گا، بچوں کے ساتھ اتنی گرمی میں سفر نامناسب ہے ۔ پھر کنڈ ملیر ہی دھیان میں آتا ہے ۔ لیکن کنڈ ملیر اتنی بار جاچکے ہیں کہ اب دل کرتا ہے کہ کوئی نئی جگہ ایکسپلور کی جائے۔

Friday, October 7, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ہفتم)

لنگ آجا پتن چناں دا یار


مولہ چٹوک کی سیال چاندی
فوٹوکریڈٹ: آلموسٹ فوٹوگرافی - ماجد حسین
مولہ آبشار کی سمت سے پانی آنے کا بس یہی ایک راستہ تھا۔ سارے پانی ہمارے سامنے سے ہماری طرف آتے تھے۔ جہاں جیپ نے آگے بڑھنے سے انکار کیا تھا وہاں ایک تنگ درہ ہے جس سے راستہ اندر جاتا ہے یعنی پانی جس راستے سے باہر آتا ہے، دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ اگر پیچھے کہیں دو چار روز پہلے بارش ہوئی ہو تو اچانک فلیش فلڈ آنے کی صورت میں لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ لیکن لاعلمی بڑی نعمت ہے، اسی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہم کبھی پانیوں پر اور کبھی پانیوں میں اٹھکیلیاں کرتے چل رہے تھے۔ پانی اپنی فطری زگ زیگ روش پر رواں دواں تھا ہم کبھی پانی کراس کر کے دائیں ہوجاتے، کبھی بائیں، اور کبھی درمیان میں پانی میں چھپا چھپ کرتے ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے۔ کبھی ہمارے ٹیبلٹ سے نورجہاں تانیں اڑاتیں اور کبھی ہمسفر اپنی آواز کا جادو جگاتے جس میں ہم دونوں اپنی بھونڈی آواز ملانے کی کوشش کرتے اور پھر اپنی ہی آواز سے گھبرا کر چپ ہوجاتے۔ یا ہنس پڑتے۔ ہماری جیپ خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ ہماری جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔

Saturday, September 24, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ششم)

"مجھے آرزو تھی جس کی"


اور پھر وادی مولہ کا آغازہوگیا، جس کا علم مزید بے سمت ، مزید صحتمند اور مزید گول گول پتھروں سے پر راستے سے ہوا، راستہ جیسے ایک قلعہ کی جانب بڑھا جارہا تھا، جیپ نے ایک پہاڑ کے گرد کسی قوس قزاح کی طرح بڑا سا چکر کاٹا، اس چکرکاٹنے میں جیپ کے اندر والوں پہ جو گزری ، نہ پوچھیں، ہم پہلے ہی گرل فرینڈ اور ہم سفر کے درمیان سینڈوچ بنے بیٹھے تھے جنہیں کم از کم ایک ایک سائیڈ ہینڈل خود کو سنبھالنے کے لیے مہیا تھا، لیکن ہم بے پیندے کے لوٹے، خود کو لڑھکنے سے بچانے کےلیے سامنے کی دونوں سیٹوں کی پشت کو سختی سے تھامے بیٹھے تھے اور خیال رہے کہ دوپہر سے بیٹھے تھے اور اب شام ہوچلی تھی۔ اور ہمارے ہاتھ تقریباً اسی پوزیشن میں اکڑ گئے تھے۔ جیپ چکر کھا کر ایک مزید درے کے اندر داخل ہوگئی، جہاں سے دور سے ہی ایک سطح مرتفع پر ایک پیلے رنگ کی چپٹی سی لکیر نظر آرہی تھی، جو بقول گائیڈ ریسٹ ہاؤس تھا۔ جب تک اس لکیرنے ایک باقاعدہ عمارت کی صورت اختیار کی ہم تینوں بشمول گائیڈ جیپ میں ایسے اچھلتے رہے جیسے آگ پر رکھے برتن میں مکئی کے دانے نچلے نہیں بیٹھ سکتے اور شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ 

Friday, September 16, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ پنجم)

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے


اورپھر جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائ ویسے ہی اچانک سے ایک پھولوں بھری راہ گزر سامنے آگئی، حد نظر تک گلابی پھول ہی پھول۔ رہ نما نے بتایا کہ دور مشرف میں ہی اس پودے کی باقاعدہ کاشت کی گئی تھی ، پنیری لگائی گئی تھی اور وادی میں متعدد جگہوں پر یہ جنگلی گلاب نما پودا کاشت کیا گیا تھا ۔ جو اب بھی کہیں کہیں وادی کے حسن میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق وادی میں زیتون کی کاشت بھی کئ گئی تھی لیکن ٹمبر مافیا زیتون کے درختوں کو غیر قانونی طور پر اسمگل کر رہی ہے۔ ہمارے راستے میں بھی ایک ٹویوٹا ہائی لکس پر زیتون کی لکڑیاں لادی جارہی تھیں۔ 
فوٹوکریڈٹ: مصنف

Saturday, September 10, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ چہارم)

سر وادی ءِ مولہ


ہمارے گائیڈ جو مولہ تحصیل کی ایک یونین کونسل کے سابق ناظم رہ چکے تھے، روانی سے اپنے علاقے کے نمایاں سنگ میلوں اور اپنے دور نظامت میں علاقے میں کی جانے والے ترقیاتی کاموں کی تندہی سے نشاندہی کرتے رہے، راستے میں آنے والے مختلف گاؤں دیہات کے اسمائے شریف بھی انہوں نے پوری ذمہ داری سے ہمارے گوش گزار کئے، لیکن کیونکہ جیپ اچھلتی بہت زیادہ تھی اور نتیجے میں ہم بھی بہت زیادہ اچھلتے تھے تو آواز کی لہریں کان میں تو داخل ہوئیں لیکن کان توازن برقرار رکھنے میں اتنے مصروف تھے کہ صوتی پیغامات بروقت آگے ترسیل نہ کر پارہے تھے، قصہ مختصر اس وقت ہمیں ان کے بتائے گاؤں میں سے ایک بھی نام یاد نہیں۔

Sunday, August 28, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ سوئم)

مولہ ٹریک: ایک ونڈر لینڈ


سفرنامے کا حصہ دوئم یہاں پڑھیے۔

الامارات ہوٹل سے تقریباً 10 کلومیٹر پہلے خضدار کینٹ ایریا شروع ہونے سے چند گز قبل آر سی ڈی ہائی وے سے گوادر رتو ڈیرو موٹر وے کا آخری حصہ M-8 نکلتی ہے جسے مقامی لوگ خضدار سکھر موٹر وےکہتے ہیں۔ اس موٹر وے پر تقریباً دس سے بارہ کلومیٹر کے بعد ایک فوجی چیک پوسٹ آتی ہے ، جس سے چند گز کے بعد ہی بائیں جانب ایک چھوٹا سا بورڈ لگا ہوا ہے جس پر مولہ چٹوک آبشار لکھا ہوا ہے۔ یہاں تک موٹر وے بہت ہی شاندار ہے اور یہیں سے مستقل پل صراط سا راستہ نکلتا ہے جو سیدھا بہشت کو جاتا ہے۔ لیکن راستہ اتنا بھی سیدھا نہیں جاتا کچھ کچھ جلیبی بلکہ جنگل جلیبی سا جاتا ہے۔جنہوں نے جنگل جلیبی نہیں کھائی یا نام بھی نہیں سنا ان پر ہم بس ترس ہی کھا سکتے ہیں، بے چارے محروم لوگ۔

Saturday, August 13, 2016

مولہ چٹوک: سفرنامہ (حصہ دوئم)

جہاں کسی کو بھی کچھ بھی حسب آرزو نہ ملا


سفر نامے کا حصہ اول یہاں پڑھیے۔

گاڑی پارک کر کے واپس آئے تو جب تک بارات کی بس بھی آچکی تھی، اور باقی باراتی بھی۔ کچھ باراتی سیٹوں پر قبضہ بھی کر چکےتھے، ہم نے بھی ایک کھڑکی والی سیٹ پکڑلی۔ گرل فرینڈ نے ہماری دیکھا دیکھی ایک اور کھڑکی پر قبضہ جما لیا ، ان کو نظریں پھیرتے دیکھ کر ہم نے بھی انہیں" ہنہہ "کر کے فوراً اپنے دائیں پڑوسی سے ڈاک خانہ ملا لیا۔ ہماری انکی پہلے سے دعا سلام تو تھی، لیکن یقینی گمان ہے کہ ہم دونوں ہی غالباً ایک دوسرے کے ظاہری حلیے اور سابقہ تعارف کے باعث ایک دوسرے سے اور ایک دوسرے کے بارے میں بالترتیب خاصے مرعوب و مشکوک تھے، جس کو درست ثابت کرنے کے لیے انہوں نے ہم سے بارہا دریافت کیا ہوگا کہ "آر یو کمفرٹیبل؟"۔

Saturday, August 6, 2016

مولہ چٹوک : سفر نامہ (حصہ اول)

 جو'جانا 'چاہو ہزار رستے ۔ ۔ ۔


مولہ چٹوک آبشارایک جنت مقام۔
 فوٹو گرافی: جام اقبال بذریعہ ابو ذر نقوی

دماغ بولا: "اتنا مہنگا ٹرپ اور وہ بھی اتنی جلدی"

دل بولا: 
"ایک ہی تو شوق ہے تمہارا"
"نہ تمہیں ڈیزائنرز لان کا شوق"
نہ میک اپ کا خرچہ ،نہ زیور کا شوق"
"بس ایک سیرو تفریح کا ہی تو شوق ہے"
"کیا ہوا جو ایک مہنگا ٹوور کر لیا "
"جگہ بھی تو ایسی ہے کہ اپنے طور پر جانا مشکل ہے۔" 

Saturday, April 30, 2016

پاکستان میں سیاحت: ایک جائزہ 2

کچھ گھومنے اور گھمانے والوں کے بارے میں


گو کہ پاکستان میں سیاحت کو انڈسٹری / صنعت کا درجہ دیا گیا ہے۔ لیکن تاحال پاکستان میں قومی سیاحت کے حوالے سے کوئی ایسا ادارہ نہیں جو سیاحوں کے سفر اور منزل یا مقصد سفر کا ڈیٹا یا اعداد وشمار جمع یا مہیا کرتا ہو ۔ سیاحت سے متعلق ایک صوبائی محکمے سے ملکی سیاحوں کے اعداد و شمار کے بارے میں استفسار پر جواب ملا کہ امیگریشن اور ایف آئی اے سے رجوع کریں۔ بھلا اندرون ملک سیر و تفریح کی غرض سے سفر کرنے والوں کا امیگریشن سے کیا تعلق۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ ملکی و قومی سیاحت سے حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ پاکستان اکنامک سروے 2014/15 میں لفظ سیاحت کا گزر صرف ایک بار گوادر پورٹ کے تذکرے میں ضمنی سرگرمیوں کے حوالے سے آیا ہے ۔ جبکہ سالانہ ورک پلان 16-2015 میں سیاحت کا لفظ کہیں بھی نہیں ہے ۔ تو ہم ایسا ڈیٹا جمع کر کے کیا کریں گے جو کسی کام نہیں آنا۔

Thursday, April 21, 2016

پاکستان میں سیاحت :ایک جائزہ

خوبیاں، خامیاں، مواقع اور اندیشے 

دیوسائی، فوٹو کریڈٹ بشکریہ: فیضان قادری 
پاکستان ایک جغرافیائی ، تاریخی، سماجی اور ثقافتی طلسم کدہ ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو تقریباً ہر نعمت سے نوازا ہے ۔ دنیا کے متعدد ممالک ہیں جو سمندر سے محروم ہیں، کئی صحر ہ ہی صحرہ پر مشتمل ہیں، کئی ہیں جو سال بھر برف سے ڈھکے ہوتے ہیں، لیکن پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو کراچی سے کشمیر اور گوادر سے خنجراب تک مختلف جغرافیائی اور موسمی خطوں پر مشتمل ہے،۔ شمال میں دنیا کے تین عظیم ترین سلسلہ ہائے کوہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش ایک دوسرے سے ملتے ہیں جن میں دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے پانچ بشمول "کے ٹو" جو دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے ،پاکستان میں موجود ہیں ۔ پہاڑوں سے قدموں میں قطبین کے بعد دنیا میں سب سے بڑا برفانی خزانہ 5000 سے زائد گلیشئرز کی صورت پاکستان میں محفوظ ہے۔ پھر پاکستان کےبلند و بالا سرسبز جنگلات ، چراگاہیں اور جھیلیں ہیں جن میں سطح سمندر سے 4000 میٹر بلند الپائن جنگلات ، سطح مرتفع دیوسائی اور تین ہزار میٹر بلند فیری میڈوز مشہور ہیں۔