یوں تو ہم بڑے بلاگر بنتے ہیں اپنے تئیں۔ اپنی طرف سے فلموں کے بارے کچھ ریو ویو ٹائپ بھی لکھتےہیں لیکن جیسے بہت زیادہ خوشی میں آپ ہنسنے کے بجائے آنسو بہانا شروع کردیتےہیں ویسے ہی جب کوئی مووی حد سے زیادہ دل چھو جائے تو لکھنے لکھانے کی ساری مہارتیں ادھر پڑی ہوتی ہیں تو الفاظ کی پٹاری ادھر اور ہم کچھ بھی لکھنے کے لائق نہیں ہوتے۔
یہ فلم بھی ایسی ہی ہے ۔۔ ہماری زندگی کی ناتمام خواہشوں میں سے ایک خواہش بائک چلا پانا ہے اور زندگی کی واحد ناکامی بائک نہ چلا سکنا ہے۔ ایک بار ٹرائی کی لیکن پھر خوف خواہش پر غالب آگیا کہ اگر اس عمر میں کوئی ہڈی وغیرہ تڑخ گئی تو جن کا ہم سہارا ہیں کہیں ان پر بوجھ نہ بن جائیں اور ہم نے اپنی خواہش وہیں دفن کردی۔
پاکستانی فلم موٹر سائیکل گرل اور ہندوستانی مووی دھک دھک دو ایسی موویز ہیں جو ہمیں بار بار بہکاتی ہیں، دل بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے، ادھر کھنچا جاتا ہے لیکن ہم ہر بار دل کو سمجھا بجھا کر کوچہ ملامت سے واپس لے آتے ہیں۔ اس فلم کے بارے میں ہم بس یہی کہیں گے کہ اس نے پھر سے خواب جگا دیے ہیں دل میں۔
چار مختلف المزاج خواتین جو ہیوی بائک پر ہندوستان کا سب سے اونچا درہ کھرڈونگ لا سر کرنے جارہی ہیں۔ جن کی انسپیریشن ایک نانی اماں ہیں جن کی کسی لاٹری میں موٹر بائک نکل آتی ہے وہ چاہتی ہیں کہ لاٹری کمپنی انہیں بائک کے بدلے مائکرو ویو دے دے لیکن یہ کمپنی کی پالیسی کے خلاف ہے ۔ بائک کھڑی کھڑی دھول مٹی کھارہی ہوتی ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے دھکے کھا کھا کر نانی جی کو بائک سیکھنے کا خیال آجاتا ہے بس یہی اس مووی کا ٹرننگ پوائینٹ ہے ۔
پھر چار مختلف بیک گراونڈ رکھنے والی چار خواتین کس طرح جمع ہوتی ہیں اور کیوں اس ٹریک پر یہ درہ سر کرنے چل پڑتی ہیں راستےمیں کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔ یہ سب پڑھنے کے بجائے دیکھنے میں زیادہ مزہ آئے گا۔ ہائی لی ریکمنڈیڈ 💓
🚵 🚵 🚵 🚵 🚵