Friday, June 19, 2026

میرا گھر میری مرضی

آج میں نے اپنے گھر میں اپنی مرضی اور عادت کے مطابق دن گزارا۔ صبح ساڑھے سات بجے اٹھی، آٹھ بجے ناشتہ، دس بجے سارا کام ختم کرکے کھانا پکانا شروع کیا بارہ بجے کھانا تیار تھا۔[ یہ وہ وقت ہے جس وقت ہمارے بچے اور ان کی اماں جان چھٹی کے دن ناشتہ کرکے فارغ ہوتے ہیں۔ ] لنچ کے بعد ایک دوست کی بیٹی کے لیے فراک سیا، پھر سوگئی۔ مغرب کے وقت اٹھی۔ چھت پر ابا اور بہن کے ساتھ پوری شام ٹھنڈی ہوائیں انجوائے کیں۔ رات کا کھانا کھایا اور اب برتن وغیرہ سے فارغ ہوکر سونے کی تیاری ہے۔
یہ وہ روٹین ہے جس کے ہم لوگ بچپن سے عادی ہیں۔ چھٹی کے دن اٹھنے کی لمٹ آٹھ بجے ہوتی تھی۔ ناشتہ کرو، بستر سمیٹ اور لپیٹ کر اسٹور میں رکھو، گھر کی صفائی اور برتن دھوؤ۔

اس کے بعد اچھی طرح منہ ہاتھ دھو کر بال سنوارو، بال گھر کے آخری سرے پر جاکر سلجھاؤ تاکہ پورے گھر میں بال اڑتے نہ پھریں۔ چوٹی باندھنے کے بعد زمین اور کنگھے سے بال اکھٹے کر کے ڈسٹ بن میں ڈالو، ہاتھ گیلا کر کے پیچھے کمر، شانوں اور سامنے شرٹ پہ پھیرو تاکہ کوئی بال لباس پہ چپکا ہو تو وہ بھی ہٹ کر ہاتھ پہ آجائے، پھر ہاتھ اچھی طرح دھو کر دوپہر کے کھانے کی تیاری کرو۔

دوپہر کے کھانے سے لے کر شام مغرب تک کا وقت آپ کا ہے۔ پڑھنا ہے، پڑھو،کھیلنا ہے، سلائی کڑھائی بنائی، یا سونا جو کرنا ہے کرو۔ مغرب کے بعد رات کی روٹی کا آٹا گوندھنا، ڈرامہ دیکھ کر رات کا کھانا۔ کھانے کے بعد فیملی گپ شپ ٹائم۔ 

جب سے بہو نے گھر میں قدم رنجہ فرمایا ہے گھر کا پورا نظام تلپٹ ہوگیا ہے۔ چھٹی کے دن بارہ بجے ناشتہ ہوتا ہے۔ ناشتے کے بعد یا تو دوپہر کا کھانا پک سکتا ہے یا صفائی ہوسکتی ہے۔ لہذہ اکثر ابو کا کمرہ پورا پورا دن بغیر صفائی کے پڑا رہتا ہے۔ تین منزلہ گھر میں بہو پر اس کے اپنے کمرے کے علاوہ صرف ابا کے کمرے کی صفائی کی ذمہ داری ہے اور وہ بھی اکثر روزانہ نہیں ہوتی۔

گھر کا یہ حشر دیکھ کر اکثر و بیشتر میرا بلڈ پریشر شوٹ کر جاتا ہے۔ کبھی کبھی زبان بھی۔ لیکن گھر کی فکر اسے ہی ہوتی ہے جس کا گھر ہوتا ہے۔ جس کے والدین نے راتیں جاگ جاگ کر اور پیٹ کاٹ کر ایک ایک پائی جوڑ کر گھر بنایا ہوتا ہے، جنہیں بنا بنایا مل جاتا ہے انہیں گھر کی قدر نہیں ہوتی۔

ہم نے یہ غلطی کی کہ اکلوتا ہونے کے سبب یا محبت میں ہم نے بھائی کو الگ نہیں کیا ہمیں بھی بھائی کو شادی کے بعد الگ ہی رکھنا چاہیے تھا۔ اس کے دو فائدے ہوتے، نمبر ایک" ہمیں اس کے بغیر رہنے کی اور اپنے کام خود کرنے کی عادت رہتی۔ اور نمبر دو: ہمارا گھر ہمارے روٹین پہ رہتا، بلڈ پریشر بھی قابو میں رہتا۔

باٹم لائن: بلڈ پریشر کو نارمل رکھنے کی ترکیب یہ ہے کہ بیٹوں کی شادی کرکے انہیں الگ گھر میں رکھیے۔ آپ بھی خوش، آپ کا گھر بھی صاف ستھرا اور طریقے سے رہے گا. ان کے اپنے گھر میں وہ جو چاہیں کریں آپ کی بلا سے۔ ان کے گھر ہفتے بھر جھاڑو نہ لگے، آپ کا کیا نقصان۔

ایک دو سال پرانے دن کی کہانی

💝🏠💝🏡💝