امی کو اون سلائیاں چلانی آتی تھیں۔ لیکن کبھی میں نے انہیں کسی کامکمل سوئیٹر بناتے نہیں دیکھا تھا۔ پھر چچی شادی ہوکر آئیں۔ انہیں پہلی بار پورا سوئیٹر بناتے دیکھ کر ہماری پوری گلی کی خواتین کو جیسے سوئیٹر بننے کا بخار ہوگیا، وہی جسے آج کل وائرل کہتے ہیں تو پوری گلی کی خواتین میں سوئیٹر بننے کا شوق وائرل ہوگیا۔ امی، چچی، حسینہ باجی اور ایک نئی محلے دار لڑکی شکیلہ۔ نئی اس لیے کہ وہ لوگ تازہ تازہ محلے میں وارد ہوئے تھے۔یہ چاروں فارغ وقت میں کسی نہ کسی کا سوئیٹر بنا کرتے، جب چاروں کاموں سے فارغ ہوجاتیں تو کسی نہ کسی کے دروازے کے باہر بنے تھڑے پر دھوپ سینکتے، غیبت میٹنگ کرتے ساتھ ساتھ سوئیٹر بھی بنتی جاتیں۔
ان کی دیکھا دیکھی ہمیں بھی شوق چڑھا۔ پہلے تو جھاڑو کے تنکوں سے سلائیاں بنا کر سوئیٹر بننا شروع کیا۔ پھر پتا نہیں کہاں سے دو عدد پرانی سلائیاں مل گئیں۔ نئی سلائیاں پورے پانچ روپے کی آتی تھیں اور بچوں کو بھلا کاہے کو نئی سلائیاں دلانے پر پانچ روپے ضایع کیے جاتے ۔ خیر یونہی کھیل کھیل میں سوئیٹر بننا سیکھ لیا۔ پہلے اپنی گڑیا کا سوئیٹر بنا۔ چھوٹا سا ۔ پیچھے کا حصہ، پھر آگے کے دو حصے۔ آستینیں، پھر انہیں جوڑ کر ٹچ بٹن لگا کر گڑیا کو پہنایا۔ یہ بہت بڑی اچیومنٹ تھی۔
پھر یہ شوق بڑھتا گیا۔ خاص کر ہم، حسینہ باجی اور شکیلہ پارٹنر تھے اور حریف بھی۔ ہم ایک ساتھ سوئیٹر بننا شروع کرتے۔ حسینہ باجی کے اپنے چار پانچ بچے تھے۔ شکیلہ کے بھانجے بھتیجے، بھتیجیاں ایک لائن لگی ہوئی تھی اور ہمارے چچا، ماموں، خالاوں کے بچے۔ ہم ایک ساتھ سوئیٹر بننا شروع کرتے اور مقابلہ کرتے کہ کس کا سوئیٹر کتنا بنا گیا۔ کس کا پہلے مکمل ہوتا ہے۔ روز ایک دوسرے کو دکھاتے۔ میرے خیال میں میرے خاندان میں ہم سے چھوٹا کوئی خالہ زاد، ماموں زاد باقی نہیں رہا ہوگا، جس نے ہمارے ہاتھ کا بنا سوئیٹر نہ پہنا ہو۔ چچا زادوں کے لیے تو چچی خود ہی بنا لیتی تھیں۔ وہی تو ہماری استاد تھیں۔ پھر ہم لوگ اتنے ماہر ہوگئے کہ ان کے سکھائے ہنر میں خود سے اختراعات کرنے لگے۔ یہ بارڈر ایسے بنتے ہیں اگر اسے ایسے بنیں تو کیسا رہے گا۔ کاج اور بٹن کی پٹی ایسے بنیں۔
ہم ہر نیا نمونہ سنبھال کر رکھ لیتے ایک دوسرے سے شئیر کرتے ، اتنے بے شمار ڈیزائن ہمارے پاس جمع ہوگئے۔ ہمارا یہ حال تھا کہ گلی سے کوئی بندہ سوئیٹر پہنے گزر گیا کسی ایسے نمونے کا جو ڈیزائن ہمارے پاس نہیں تھا بس نہیں چلتا تھا اس کا سوئیٹڑ وہیں اترواکر ڈیزائن نوٹ کرلیں۔ بس میں سفر میں کوئی نیا نمونہ نظر آگیا اسے نظریں گاڑ کر ذہن نشین کیا اور پھر گھر پہنچتے ہی اون پر اتارا۔ اور دوسرے کو دکھایا۔ ٹی وی پر کوئی نظر آگیا ، ڈائجسٹوں میں کوئی نمونہ کسی نے شئیر کیا، کوئی کتاب نمونوں کی کہیں سے مل گئی ، چھوڑنا نہیں ہے۔۔ اللہ توبہ ۔۔ خیر وہ سارے نمونے آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں۔
آخری فاطمہ کے لیے ایک سوئیٹر بنایا تھا شاید۔ اس سے بہت پہلے اس کی اماں جان کے لیے بھِی سوئیٹر، موزے اور ٹوپی کا سیٹ بنا تھا۔ اس کے بعد کل اون سلائیاں اٹھائیں اور ایک جونیر کولیگ کی شیر خوار بچی کے لیے موزے بنائے۔ چس آگئِی۔ شکر ہے آنکھیں اتنا تو کام کرتی ہیں ابھی تک
✂ ✂ ✂ ✂ ✂
Happy World Knitting Day
بچپن کا ایک شوق مہندی لگانا بھی تھا ۔ بچپن سے اب تک مہندی کن کن مرحلوں سے گزری ہے اس پر ایک تحریر: مہندی کا ارتقاء