Thursday, August 27, 2026

ونس اپون اے شپ


Boat Mosque @ Liyari by the writer (2019)
کوئی بیس بائیس سال ادھر کی بات ہے۔ سینڈز پٹ جاتے ہوئے آج کل جہاں سیدھے ہاتھ پر نیوی کی کالونی بن گئی ہے۔ اس کے بالکل سامنے شپ یارڈ ہوتا تھا شاید اب بھی ہے لیکن اب ایک چھوٹی سی کالونی لیفٹ سائیڈ پہ بھی بن گئی ہے۔ سامنے چند دکانیں تھیں اور پھر تھوڑا قوس بناتا ہوا راستہ جو پیچھے کریک نما حصے تک جاتا ہے۔ اور اس کریک نما میں کشتیاں بنائی جاتی ہیں۔
تو وہاں سے گزرتے بائیں جانب ایک بڑا سا شپ یا کشتی نظر آئی۔
ابو سے کہا کہ یہ کشتی پاس سے دیکھنی ہے۔
ابا نے گاڑی موڑ لی

Thursday, August 20, 2026

نیرہ نور فلمی اور غیر فلمی گیت

نئیرہ نور فلم راونڈ اپ

عام طور پر نیرہ کو غزل اور نظم کی گلوکارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں بھی انہوں نے فیض احمد فیض کو جی بھر کر گایا ہے۔ لیکن نیرہ نور کا فلمی کیرئیر بھی اچھے خاصے گانوں پر مشتمل ہے۔ ان کے کچھ مشہور فلمی گیت اس راونڈ اپ میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اچھا اچھا لاگو رے پیارا پیارا لاگو رے
ہمارے ونس اپون اے ٹائم بچپن میں اماں کے ریڈیو سے جو گانے بجتے تھے اور بار بار سننے کی بدولت رٹ گئے تھے ان میں سب سے مشہور گانا فلم بندش کا گانا "اچھا اچھا لاگو رے" تھا جس میں ہمارے پسندیدہ ترین ہیرو ندیم اپنی سری لنکن ہیروئن کو اردو سکھا رہے ہیں جس نے اس وقت کے لحاظ سے کافی بولڈ لباس پہنا ہوا ہے۔ نیرہ نور اور اے نیر کی بے ساختہ اور ایک دوسرے کو سپلیمنٹ کرتی ہوئی آواز میں یہ خوبصورت گانا آپ بھی سنیے۔ کچے بچے دونوں آنکھیں بند کر کے سنیں، بڑے بچے ایک آنکھ بند کرکے اور لڑکیاں دوپٹہ دانتوں میں داب کر سنیں۔

Friday, August 14, 2026

تقسیم کے موقعے پر ہندو اور مسلم جائدادوں کا وٹہ سٹہ

رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری

ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔

Friday, August 7, 2026

روایتی گیتوں کا فیمنسٹ تجزیہ

ہم ایسے ہی ساون کے گانے سنتے سنتے "اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا" تک جاپہنچے۔ یہ گانا بچپن میں سنا تھا کیونکہ فاطمہ ثریا بجیا کے ہر ڈرامے میں آدھی درجن شادیوں میں ضرور گایا جاتا تھا۔ تو لازمی طور پر اس سے ناسٹیلجیا کی خوشبو آئی ۔