Friday, August 7, 2026

روایتی گیتوں کا فیمنسٹ تجزیہ

ہم ایسے ہی ساون کے گانے سنتے سنتے "اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا" تک جاپہنچے۔ یہ گانا بچپن میں سنا تھا کیونکہ فاطمہ ثریا بجیا کے ہر ڈرامے میں آدھی درجن شادیوں میں ضرور گایا جاتا تھا۔ تو لازمی طور پر اس سے ناسٹیلجیا کی خوشبو آئی ۔