| Boat Mosque @ Liyari by the writer (2019) |
کوئی بیس بائیس سال ادھر کی بات ہے۔ سینڈز پٹ جاتے ہوئے آج کل جہاں سیدھے ہاتھ پر نیوی کی کالونی بن گئی ہے۔ اس کے بالکل سامنے شپ یارڈ ہوتا تھا شاید اب بھی ہے لیکن اب ایک چھوٹی سی کالونی لیفٹ سائیڈ پہ بھی بن گئی ہے۔ سامنے چند دکانیں تھیں اور پھر تھوڑا قوس بناتا ہوا راستہ جو پیچھے کریک نما حصے تک جاتا ہے۔ اور اس کریک نما میں کشتیاں بنائی جاتی ہیں۔
تو وہاں سے گزرتے بائیں جانب ایک بڑا سا شپ یا کشتی نظر آئی۔
ابو سے کہا کہ یہ کشتی پاس سے دیکھنی ہے۔
ابا نے گاڑی موڑ لی
کنارے پر پہنچ کر گاڑی پارک کی اور ارد گرد پوچھا کہ یہ کشتی دیکھنی ہے۔ ایک بندے نے کہا اوپر جا کر دیکھ لو۔
اب ہم کشتی کے قدموں میں کھڑے ہیں اور وہ کشتی اتنی اونچی کہ اوپر دیکھیں تو ٹوپی گر جائے۔ اور کنارا نظر نہ آئے۔
ایک لکڑی کی سیڑھی ساتھ میں تقریباً نوے درجے زاویہ قائمہ پر اوپر اٹھ رہی تھی۔ اس بندے نے کہا چڑھ جائیں۔ اب ہم نے ہیرو بن کر سب سے پہلے سیڑھی کی بانہہ پکڑی اور چڑھ گئے۔ پیچھے پیچھے باقی کی پلٹن۔
اب ہمارا خیال تھا کہ ہم اوپر چڑھیں گے اور کشتی کے عرشے پر قدم رنجہ فرمائیں گے۔ خوب ٹہل لگائیں گے اور پھر واپس اتر آئیں گے۔
اب سین کچھ یوں ہے کہ ایک تو ہوا تیز، ہم کبھی دوپٹہ سنبھالیں تو کبھی دامن سنبھالیں اور سانس پر قابو پاتے چڑھے جارہے ہیں عرشے پر اترنے کے ارمان سجائے۔
اور پیچھے پوری لائن آرہی ہے۔ اور یہ کیا !!!!
ہم اوپر کنارے پر پہنچے اور وہاں تو کچھ بھی نہ تھا، صرف کنارا اور اندر گہری کھائی۔ اتنی ہی گہری جتنا ہم سیڑھی چڑھ کر آئے تھے، اور چند انچ چوڑا کشتی کا کنارہ۔ کھائی کے ایک سرے پر ہم سے اونچے ایک پیڈسٹل پر کشتی کے کیبن وغیرہ بن رہے تھے جن تک پہنچنے کے لیے ایک اور مخدوش قسم کی سیڑھی تھی۔ اور سیڑھی بھی کیا بس ایک دو عارضی تختے سے لگے تھے
ہم نے ایمرجنسی بریک لگائی، اب پیچھے والی لائین کہے آگے چلو، ہم آگے کہاں چلیں، ہوا تیز، دوپٹہ اڑا جائے بال منہ اور آنکھوں میں گھسیں۔ جواب کیسے دیں۔
شکر ایک بندہ شاید کیبن میں کام کررہا تھا وہ آیا اس نے ہاتھ دیا اور کہا یہاں پاؤں اٹکا کر اوپر آجائیں۔
ہائے کیا زبردست کشتی تھی۔ کشتی کیا تھی، پورا شپ تھا۔انتہائی خوبصورت، کیبن میں سجاوٹ کا کام چل رہا تھا۔ کسی خلیجی شہزادے یا امیر کے لیے بن رہی تھی۔ بن جانے کے بعد "ٹو" کر کے دبئی یا یو اے ای لے جائی جاتی۔ افسوس کہ اس کی پکچر نہ لینی یاد رہی، شاید کیمرہ نیچے گاڑی میں رہ گیا تھا۔
واپسی پر پھر وہی منحوس ماری سیڑھی تھی، ہوا تھی، ہم تھے اوردر فٹے منہ قسم کی اترائی تھی۔
🚢 😂 🚣 😂 🚤