ہم ایسے ہی ساون کے گانے سنتے سنتے "اماں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا" تک جاپہنچے۔ یہ گانا بچپن میں سنا تھا کیونکہ فاطمہ ثریا بجیا کے ہر ڈرامے میں آدھی درجن شادیوں میں ضرور گایا جاتا تھا۔ تو لازمی طور پر اس سے ناسٹیلجیا کی خوشبو آئی ۔
مگر اب جو غور سے سنا تو پہلے ہنسی نکل گئی اور پھر غصہ آگیا۔ ہنسی اس بات پر آئی کہ شاعر کے خاندان کے سارے ہی مرد اتنے گئے گزرے ہیں کہ ایک لڑکی کو لانے نہیں جاسکتے، کوئی بڈھا ہے، کوئی بالا ہے، کوئی بانکا ہے، کوئی چھیلا ہے لیکن ایک بھی کام کا نہیں نکما۔ شکر ہے کسی نے یہ نہیں کہہ دیا کہ "میرے پیروں میں مہندی لگی ہے، آنے جانے کے قابل نہیں ہوں"
لڑکی بھی میاں کی طرف سے بالکل مایوس ہے اسی لیے بے چاری اماں کی منتیں کر رہی ہے کہ ابا کو بھیج دو، نہیں تو بھائی، ماموں، چاچا لیکن ادھر تو قحط الرجال پڑا ہوا ہے۔
غصہ اس بات پر کہ لڑکی خود کتنی نکمی ہے۔ خود کیوں نہیں آجاتی۔ اپنی بچیوں، بہنوں، بیویوں کو اعتماد دیجیے کہ وہ اپنے کام خود کرسکیں، اور آپ کا ہاتھ بٹا سکیں۔ نہ کہ بوجھ بن کر بیٹھی رہیں کہ ابا یا بھائی آئیں گے تو پکوڑوں کا بیسن آئے گا
ہم تو اتنی دیر انتظار کرنے کے بجائے بیسن لا کر اب تک پکوڑے بنا کر کھا بھی چکے ہوں 

🎼🎻🎺🎹🎸🎷🎶🎵🎤🎧