رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری
ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔
مسٹر اسیروادم ماونٹ بیٹن کے تین جون کے تقسیم ہندوستان کے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی اس بزنس کا آغاز کرنے والے چند ابتدائی افراد میں سے تھے۔ وہ ایک ایسے کاروباری گروپ کے بانیوں میں سے تھے جن سے پاکستانی علاقوں میں بسنے والے پریشان حال ہندو اور سکھ اور ہندوستانی علاقوں میں آباد خوفزدہ مسلمان اپنی جائدادوں کے سلسلے میں مشورہ اور مدد کے لیے رجوع کر رہے تھے۔ 15 اگست کو پاکستان کے وجود میں آنے سے قبل یہ بروکر حضرات ایک عظیم رئیل اسٹیٹ تبادلے کا بزنس چلا رہے تھے جس میں ہر قسم کی سودے بازی اور گفت شنید ممکن تھی اور ہر قسم کی بولی لگائی جاسکتی تھی۔
بمبئی میں ایک مسلمان کے بال روم کی قدر یا اوقات لاہور میں ایک سکھ کی شوگر مل کے مقابلے میں کیا ہوگی ۔ ایک مسلمان کو برار میں اپنے 20 ایکڑ کے فروٹ فارم کے بدلے میں پنجاب میں کتنے ایکڑ زرعی زمین آب پاشی کے حقوق سمیت مل سکتی ہے ۔ کیا پٹنہ میں ایک مسلمان کی اسٹیشنری اور کتابوں کی دکان کے بدلے میں راولپنڈی میں ایک ہندو کی بیکری مل سکتی ہے۔ یہ اور اسی قسم کے دیگر سوالات ان دلالوں سے پوچھے اوراور ان کے جواب حاصل کیے جارہے تھے ۔
تقسیم کے دن سرحد کی درست جانب موجود ہونے کی جلد بازی ہر گھنٹے بڑھ رہی تھی ۔ حیرت انگیز طور پر جو لوگ تقسیم کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے، انہوں نے جائداد کی منتقلی ، پیسوں ، پاسپورٹ اور ویزہ جیسے معاملات پر کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔ اب آکر انہیں یہ احساس ہوا کہ آئندہ کراچی سے بمبئی جانے کے لیے شاید انہیں ریل یا ہوائی ٹکٹ کے علاوہ ویزے کی ضرورت بھی پڑنے والی ہے۔ اور یہ کہ مستقبل میں ایک ملک میں رہنا اور دوسرے ملک میں ذریعہ آمدنی ہونا ناممکن نہ سہی لیکن مشکل ضرور ہوگا۔ انڈیا اور پاکستان کے لیے کسٹم، امیگریشن وغیرہ کے انتطامات کرنے میں وقت لگے گا لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہو کر رہے گا۔
اس وقت ہندوستان میں کراچی ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا شہر ہے۔ بمبئی سے چند سو میل مغرب میں ایک بڑی بندرگاہ جسے پاکستان کے ہونے والے گورنر جنرل محمد علی جناح نے بطور دارالحکومت منتخب کیا ہے۔ کراچی اپنے اس اعزاز پر حیرت زدہ ہے۔ کیونکہ ستر ملین آبادی والے خطے کے لیے دارالحکومت کے طور پر کام کرنے کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ کراچی دارالحکومت جیسا نظر نہیں آتا۔ یہاں ہوٹلوں، گھروں، دفاتر، اسٹورز، تھئیٹروں،گاڑیوں ،اور بسوں کی کمی ہے۔اورپاکستان بننے میں اتنا کم وقت رہ گیا ہے کہ اس میں یہ کم یابیاں یا خامیاں پوری نہیں کی جاسکتیں۔ اشیاء کی قیمتیں تین جون سےپہلے کے مقابلے میں آسمان پر پہنچ چکی ہیں ۔
تبادلے کی منڈی میں گھر سب سے عام جنس ہیں اور کچھ گھروں کے تبادلے کے پیچھے بڑی حساس کہانیاں ہیں۔ مثال کے طور پر رئیل اسٹیٹ بلیٹن کے ایک نوٹس میں لکھا ہے " ایک کھاتے پیتے مدراسی براہمن اپنے راولپنڈی کے گھر کے بدلے میں الہ آباد میں ایک مناسب گھر چاہتے ہیں۔ راولپنڈی کا مکان ایک بڑے مسلمان خاندان کے لیے مناسب ہے۔ " ہندوستان کے باسی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اسٹینو یا سیکریٹری لیول کی ملازمت صرف مدراسی کرتے ہیں ۔ اس اشتہار سے پتا چلتا ہے کہ لازمی طور پر راولپنڈی والے مکان کے مالک جناب رام کرشن کسی مسلمان کی فرم میں 25 سال ملازمت کرچکے ہیں ان کی تنخواہ اور ساکھ بہترین ہوگی لیکن پچھلے سال پنڈی میں ہونے والے فسادات اور مسلمانوں کی حب الوطنی کے جذبات اب انہیں کم سے کم ہندو ملازمین رکھنے کی اجازت دیں گے لہذہ اب انہیں اس بات کا یقین ہوگیا ہے کہ ان کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہوسکتا۔
رام کرشن کی پانچ بیٹیاں ہیں جن کی شادی کا انتظام انہیں اگلے چند سالوں میں کرنا ہے۔ جس کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوگی اور وہ [اب ہندوستان میں] اتنی تنخواہ نہیں حاصل کر سکیں گے جتنی پہلے کرتے تھے۔تاہم وہ اس پریشانی میں اکیلے مبتلا نہیں ہیں۔ تقریباً ایک ہزار سے زائد مدراسی خاندان پچھلے ایک ماہ کے دوران مجوزہ پاکستانی علاقوں سےمجوزہ انڈیا جاچکے ہیں۔ جن کے جانے سے پاکستان میں شارٹ ہینڈ جاننے والوں کی نمایاں کمی ہوسکتی ہے۔اور اگر مدراسی اسی طرح جاتے رہے تو پاکستان میں شاید ہی کوئی اسٹینوگرافر بچے۔ مسلمان سیکریٹری خال خال ہی ہیں۔
ماضی میں کئی مرتبہ ہندوستانی فرمز قوم پرستوں یا برطانیہ مخالف تنظیموں سے یہ اپیل کر چکی ہیں کہ وہ سودیشی یعنی دیسی ہیں برطانوی نہیں۔ لیکن انہوں نے شاید ہی کبھی اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مذہبی ہئیت کی طرف اشارہ کیا ہو۔ لیکن اب وہ دور گزر چکا ہے اور مجوزہ سرحد کے دونوں جانب ہندو اور مسلم حب الوطنی کے اشتہار نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر مسلم جہاز راں ادارے بن رہے ہیں۔ مسلم بیمہ کمپنیاں، مسلم بنک، سامنے آرہے ہیں جو اچھے اور نیک مسلمانوں کو مسلمان اداروں کے شئیرز خریدنے پر اکساتےہیں۔ ایک مسلم ہوائی کمپنی بھی قائم کی گئی ہے جو انڈیا کی ہندو اور پارسی مالکوں کی دو ہوائی کمپنیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے دونوں بازووں کے درمیان فضائی رابطہ قائم کریں گی ۔
ہر جانب سے مذہب پر اس قدر زور دیے جانے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان دونوں جانب کے صاحب جائداد افراد بے چینی کا شکار ہوگئے ہیں۔مثال کے طورپر احمد شیروانی جو تیس سال پہلے ننگے پاوں پیدل کان پور آئے تھے اور ان کی جیب میں فقط چند تانبے کے سکے تھے۔ وہ آج اپنی محنت سے چمڑے کے ایک بڑے کاروبار کے مالک ہیں۔ ایک ایسا کاروبار جس میں مسلمانوں نے ہندووں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کیونکہ ہندو گائے کی کھال جیسی شے کو ہاتھ لگانے سے کتراتے ہیں۔ احمد شیروانی کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ صف اول کے مسلم لیگی ہیں اورانہوں نے مسلم لیگ کے لیے فنڈز بھی دیے ہیں ۔اب ان کے کاروباری مخالفین نے یہ پروپیگنڈہ شرو ع کیا ہے کہ وہ نئے ہندو اکثریتی ہندوستان میں ایک وفادارہندوستانی شہری نہیں ہوسکتے، ان کے بائیکاٹ کی باتیں بھی چل رہی ہیں۔ تو کیا وہ اب پاکستان جا کر دوبارہ زیرو سے شروع کریں یا ہندوستان میں رہیں اور دیوالیہ ہوجائیں۔ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے جوابھی احمد شیروانی کو کرنا ہے۔
اخبارات کے اشتہارات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دیگر ساتھی یہ فیصلہ کر چکے ہیں ۔ لہذہ دو عدد "جدید عظیم الشان مکانات جو حال ہی میں لکھنوو اور نینی تال میں تعمیر ہوئے ہیں کراچی میں اسی مالیت اور مناسبت کی جائداد سے تبادلے کے لیے موجود ہیں"۔ بہار میں دو بڑے کمپاونڈ سندھ میں ایسی ہی جائداد کے بدلے میں موجود ہیں، جودھ پورجو پاکستان کی سرحد کے قریب لیکن بہر حال ہندوستان کی حدود میں ہوگاوہاں ایک لکڑی کے کام کی دکان ، مشرقی پنجاب میں ایک پرانی وائن ایجنسی جس کی ہل اسٹیشنز پر شاخیں قائم ہیں،بمبئی کے ہندو علاقے میں خواتین کے ملبوسات میں استعمال ہونے والی آرائشی اشیاء کی ایک دوکان،بیکانیر میں سیمنٹ اور فرش کی ٹائلز بنانے کی فیکٹری، پونا میں ایسبسٹاس کی فیکٹری، ایسی ہی بے شمار آفرز موجود ہیں۔
ان ہی حالات میں بہت کم ہندوستانیوں نے ایک مسئلہ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے جو انہیں سرحد کے درست جانب رہنے کے باعث پیش آنے والا ہے۔ پاکستان میں مثال کے طور پر ایک پنجابی کو شاید ایک سندھی اورایک پشتون کے درمیان رہنا پڑے لیکن یہ تینوں پاکستان کی سرکاری زبان نہیں بول پائیں گے۔ مسٹر جناح نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا اعلان کیا ہے جس پرانہوں نے خود بھی ابھی عبور حاصل کیا ہے۔
--------------------------------------------
نوٹ: یہ اخباری تراشے سو لفظوں کی کہانی والے مبشر علی زیدی نے اپنی پروفاِئل پر شئیر کیے تھے اس خواہش کے ساتھ کہ ان کا اردو ترجمہ ہونا چاہیے لیکن ان کا ترجمہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ کوئی اور ترجمہ کرنا چاہے تو کرلے۔ میری ایک ادنیٰ سی کاوش