Showing posts with label Television. Show all posts
Showing posts with label Television. Show all posts

Friday, September 18, 2026

طلعت حسین | ایک خراج تحسین

"حسینہ کوبلائیے 
بٹھائیے سمجھائیے
کہ ملک کی سب بچیاں
ہیں دال دال کچیاں

سسر کو تھپڑ مار کر
دیوار گھر کی پھاند کر
کبھی بھی بھاگتی نہیں
ابھی بھی جاگتی نہیں
۔ ۔ ۔ ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ 
یہ پی ٹی وی ایوارڈ ہے
ڈیزائن اس کا آڈ ہے"

پی ٹی وی کی بیسیوں سالگرہ کے موقعے پر یہ نظم معین اختر نے ضیاء صاحب کے انداز میں پڑھی تھی۔ اس میں جس لڑکی کے دیوار پھاندنے کا ذکر ہے وہ خالدہ ریاست تھیں اور ڈرامہ تھا حسینہ معین و محسن علی کا بندش [سسر کو تھپڑ مارنے والی نیلوفر علیم تھیں]۔ آج کل ہمیں خالدہ ریاست کا دورہ پڑا ہوا ہے۔ لہذہ ہم آج کل بندش دیکھ رہے ہیں خالدہ ریاست کا حسن، شوخی اورشرارتیں تو اپنی جگہ ہے لیکن طلعت حسین کی وجاہت اور اداکاری نے ہمیں تقریباً کلین بولڈ ہی کرڈالا

Friday, September 11, 2026

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے

ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والے 

ہماری زندگی میں پہلے پہل ریڈیو آیا۔ بی بی سی اردو ہمارا مرغ باد نما ہوتا تھاجس سے ہم اپنی گھڑیاں ملاتےاور ہر خبر کی تصدیق بھی اسی سے کرتے تھے، گانے آل انڈیا ریڈیوسے سنتے تھے اور بناکا گیت مالا ریڈیو سیلون سے۔ پاکستانی فلموں کے ریڈیو پروگرامز"آجشبکو" دوپہر گیارہ سے بارہ بجے ریڈیو پاکستان سے، اور دوپہر تین بجے  حسن شہید مرزا اور ساتھی خاتون میزبان حفیظ فاطمہ / شہلا صدیقی سے "کالا کولا کی محفل نامی میگزین پروگرام میں" ملاقات کرتے۔ شام ساڑھے پانچ بجے فوجی بھائیوں کے لیے خصوصی پروگرام سنتے اور رات آٹھ بجے ڈرامہ۔   بالآخر ایک دن  ریڈیو ہمارا دل بہلا کر رخصت ہوا۔