Friday, October 9, 2026

عجیب و غریب شوق

ہمارا ایک بہت پرانا شوق لائبریری سے استفادے کا ہے۔ ہمیں جب بھی کہیں کوئی لائبریری نظرآجاتی ہے یا گھر کے قریب، دفتر کے راستے میں دریافت ہوتی ہے ہمیں یک لخت یاد آجاتا ہے کہ ہم اب تک کتنی ہی کتب پڑھنے سے محروم رہ گئے ہیں اور اپنا اتنا وقت ضایع ہوجانے کا افسوس ہونے لگتا ہے۔
اسکندریہ لائبریری، مصر
دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی کی لائبریری سے چار سال میں ریفرینس بکس کے علاوہ حرام ہے جو کوئی کتاب ایشو کروائی ہو۔ لائبریری میں بیٹھ کر پڑھنا ہمیں کالے پانی کی سزا لگتی تھی۔ ہم کم والیوم میں بات نہیں کرسکتے۔ ہر دو جملوں کے بعد ہنسی کا فوارہ چھوٹ جاتا ہے۔ ایسے میں ہم لائبریرین کی نظروں اور پابندیوں سے کیسے محفوظ رہ سکتے تھے۔

تیسری جانب ہمارے کمپیوٹر میں ڈاؤنلوڈڈ اور خریدی ہوئی کتنی ہی  کتابیں ان پڑھی رکھی ہیں۔ ان کو پڑھنے کی توفیق تو ہوتی نہیں۔ لائبریری سے کتابیں لے کر کیا خاک پڑھیں گے۔ 

دوسرا شوق ہمیں ٹریکنگ کے لیے اس ٹراؤزر کی تلاش تھی جس کی گھٹنوں کے پاس سے زپ سے پائنچے الگ ہوجاتے ہیں۔ جب چاہو اسے شارٹس بنا لو اور جب چاہے ٹراوزر لیکن وہ ہمیں کہیں ملا نہیں۔ کے ٹو بیس کیمپ ٹریک پرایک فرنگی نے ویسا ٹراؤزڑ پہنا ہوا تھا اسے دیکھ کر ہمیں پھر اپنا شوق یاد آگیا۔ ہم نے فرخ سے کہا کہ ہم کب سے اس ٹراوزر کی تلاش میں ہیں ہمیں ملتا ہی نہیں۔ فرخ نے ہمیں ایک نظر دیکھا لیکن ہماری بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اگلے ہی لمحے ہم پر آشکار ہوا کہ اس ٹراؤزر کا ہم کریں گے کیا۔ ظاہر ہے ہم اس کے پائنچے الگ کر کے ننگی پنگی ٹانگوں سے تو ٹریک کرنے سے رہے۔ ہم نے اپنے مزید نادر خیالات فرخ سے شئیر کیے اور پھر جو ہم دونوں کی ہنسی چھوٹی 
😂😂😀😂😇😂😂