Showing posts with label History. Show all posts
Showing posts with label History. Show all posts

Wednesday, November 25, 2020

ہم اور ہماری عزت

جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ میں سیکس نارمز کا جائزہ 


حال ہی میں اردو ادب کے تین شاہکار ناول جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھ کر دل دہل گیا۔ فیض صاحب نے درست کہا تھا کہ مجھے اندیشہ ہے یہ ملک کہیں یوں ہی نہ چلتا رہے۔ تینوں ناولز ہماری سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی کرپشن کی مستند تاریخ ہوں جیسے۔ ستر پچھتر سال میں چہرے بدلے ہیں صرف اور کچھ نہیں بدلا۔ ناولز کی ادبی ساکھ پر تو بہت سے لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا ہوگا اور ہماری یہ اوقات نہیں کہ ان ناولز کی ادبی حیثیت پر تبصرہ کرسکیں۔ 

لیکن ایک پہلو جس پر شاید اس سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی وہ ہے ان ناولز میں پیش کردہ سیکس نارمز ۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ناولز باوجود فکشن ہونے کے ہمارے معاشرے کی نارمز یا معمولات کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ گویا یہ روئیے کسی معاشرے میں اس دور میں موجود ہوتے ہیں جس دور میں یہ ناول لکھا گیا یہ جس دور کے بارے میں لکھا گیا تب ہی تو انہیں ناول یا افسانے میں عکس کیا جاتا ہے۔ 

Tuesday, September 29, 2020

نہرو اور تاریخ - 2

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم





تاریخ کبھی بھی ہمار فیورٹ موضوع نہیں رہا تاریخ سے ہماری دلچسپی صرف تاریخی مقامات ہڑپہ، موئنجوداڑو، ٹیکسلا، مہر گڑھ دیکھنے کی حد تک تھی۔ کہ کہیں ذکر آئے تو ہم کہہ سکیں کہ ہاں ہم نے بھی یہ مقامات دیکھے ہوئے ہیں۔ اور یہ پتا ہے کہ ان چاروں میں سے سب سے پرانا مہر گڑھ ہے۔ یا پھر قسمت نے موقع فراہم کر دیا کہ مصر جیسا تاریخی ملک دیکھنے کو مل گیا جس کی تاریخ بس اتنی پتا ہے کہ مصر کے عجائبات سات ہزار سال پرانے ہیں۔ لیکن مصر کی الگ الگ بادشاہتیں، فرعونوں کی ترتیب اور آپسی رشتہ داریاں کوئی پوچھ لے تو گوگل کرنا پڑجائے۔ 

Wednesday, August 5, 2020

نہرو اور تاریخ : ایک معاشقہ


سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ھے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

جواہر لال نہرو ایک مصروف سیاستدان اور تحریک آزادی ہندوستان کے ایک سرگرم لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق اور محبت کرنے والے  باپ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات کے باوجود بشمول جیل کاٹنے کے باوجود بھی اپنی اکلوتی بیٹی اندرا کی  تعلیم اور تربیت سے صرف نظر نہیں کیا۔ اور اندرا کی دسویں سالگرہ سے انہیں خط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو کئی سال جاری رہا۔ ان خطوط میں نہرو نے  کائنات، زمین، زمین پر حیات اور زمین پرانسان اور پھر قوموں کی تاریخ کے بارے میں  مختلف موضوعات کا احاطہ کیا۔