Wednesday, November 25, 2020

ہم اور ہماری عزت

جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ میں سیکس نارمز کا جائزہ 


حال ہی میں اردو ادب کے تین شاہکار ناول جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھ کر دل دہل گیا۔ فیض صاحب نے درست کہا تھا کہ مجھے اندیشہ ہے یہ ملک کہیں یوں ہی نہ چلتا رہے۔ تینوں ناولز ہماری سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی کرپشن کی مستند تاریخ ہوں جیسے۔ ستر پچھتر سال میں چہرے بدلے ہیں صرف اور کچھ نہیں بدلا۔ ناولز کی ادبی ساکھ پر تو بہت سے لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا ہوگا اور ہماری یہ اوقات نہیں کہ ان ناولز کی ادبی حیثیت پر تبصرہ کرسکیں۔ 

لیکن ایک پہلو جس پر شاید اس سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی وہ ہے ان ناولز میں پیش کردہ سیکس نارمز ۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ناولز باوجود فکشن ہونے کے ہمارے معاشرے کی نارمز یا معمولات کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ گویا یہ روئیے کسی معاشرے میں اس دور میں موجود ہوتے ہیں جس دور میں یہ ناول لکھا گیا یہ جس دور کے بارے میں لکھا گیا تب ہی تو انہیں ناول یا افسانے میں عکس کیا جاتا ہے۔ 

جانگلوس میں تو لگتا ہے جیسے عورت ایک کموڈٹی ہے۔ خواہ طبقہ اشرافیہ ہو یا غریب ترین طبقہ۔ آوٹ آف ویڈ لاک سیکس کوئی بری بات ہی نہیں۔ ایک لڑکی کی شادی ہونےوالی ہے اسے زمیندار زبر دستی اپنی حویلی میں ڈال لیتا ہے، چوہدھری کو بھی خوش کیا، اس کے دوست کو بھی، پھر گھر جا کے شادی کرکے میاں کے ساتھ بھی بس جانا۔ نہ باپ بھائی کو کوئی مسئلہ ہے نا شوہر کو، بھائی پریشان ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ ایسی استعمال شدہ بہن کو قتل کر کے پھانسی ہی چڑھ جائے۔ 

بیوی ایک کی ہے لیکن اپنی مرضی سے سیکس سروس دوسرے کو مہیا کر رہی ہے جس سے یاری لگائی ہوئی ہے۔ شوہر جیل چلا گیا تو دیور سے یا شوہر کے دوست سے تعلقات قائم کرلیے۔ بہو کو سسر بھی استعمال کر رہا ہے، شوہر کو بھی کوئی مسئلہ نہیں، عورت کو بھی نہیں کہ کم از کم زہر کھا کے ہی مرجائے۔ 

زمیندار کے حرم میں عورتیں رہ بھی رہی ہیں، پیچھے شوہر کے پاس بھی بچے ہیں، یہاں زمیندار کے بچے بھی جن رہی ہیں پھر واپس جا کے شوہر کے بچے جننے شروع ہوجائیں گی۔ نہ زمیندار کو غیرت کے بچے اس کا خون ہیں نہ شوہر کو غیرت کہ دوسرے کے بچے جن کے واپس آگئی ہے، سب کے سب لیو ہیپی لی ایور آفٹر۔ 

دوسری طرف ایلیٹ طبقہ ہے جہاں شوہر اپنی مرضی سے اپنی بیویاں ادل بدل رہے ہیں، جسٹ فار فن۔ باپ اپنی بیٹی کو مجبور کررہا ہے کہ وہ افسران اعلیٰ کو خوش کرے تاکہ ان سے مطلوبہ فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ عورتوں کا خود بھی عزت بے عزتی کا کوئی معیار نہیں نہ ہی ان کے مردوں کا، خواہ یہ ایلیٹ کلاس ہویا کمی کمین کلاس 

اداس نسلیں کا جائزہ لیں تو ایک خاتون کو اس کا دیور شوہر، سسر اور ساس سب کے سامنے اپنے ساتھ کھیتوں میں جانے کو کہتا ہے کوئی اعتراض نہیں کرتا، سب کو پتا ہے کہ کس مقصد سے، وہ لے بھی جاتا ہے استعمال بھی کرلیتا ہے لیکن کسی کو کوئی پرابلم نہیں ہے۔ ہیرو باغیوں کے کیمپ میں ایک لڑکی سے گاہے بگاہے جسمانی تسکین حاصل کرتا ہے وہ لڑکی بچپن میں گاوں کے چوہدری، نمبر دار اور دیگر بااثر افراد کے استعمال میں رہ چکی ہوتی ہے نہ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ سب غلط ہوا نہ اس کے والدین کو نہ گاوں والوں کو۔ مطلب یہ سب نارمل روئیے ہوتے تھے۔ 

اب آجائیں نادار لوگ کی طرف۔ ہیرو کے بچپن کا ذکر ہے کہ ایک دن وہ اپنے والد کے کمرے میں بھری دوپہر میں بلا اجازت داخل ہوجاتا ہے جہاں اس کی سگی خالہ [والدہ کا پیدائش کےوقت انتقال ہوچکاتھا] اس کے والد کے ساتھ شیرو شکر ہوتی ہیں اور اس کے آجانے پر گھبرا کرچارپائی سے اٹھتی ہیں تو گریبان کے بٹن بند کرنا بھول جاتی ہیں۔ خالہ کے آل ریڈی دو بچے ہیں ان کا میاں حیات ہے اور ہیرو کے والد کی وفات کے سالوں بعد ناول کے اختتام تک زندہ ہوتا ہے۔ یعنی خالہ کم از کم اپنے میاں کی طرف سے کسی قسم کی جنسی محرومی کا شکار نہیں ۔۔۔ پھر ہم کس منہ سے آج کے ڈراموں میں سالی اور بہنوئی کے افئیرز پر اعتراض کرتے ہیں جبکہ ہمارے معاشرے میں یہ رویے جانے کب سے رائج ہیں۔ 

اگر ناول معاشرے کے رویوں کے عکاس ہوتے ہیں تو یہ ناولز ہمارے منہ پر طمانچہ ہیں۔ آج تعلیم اور شعور کی وجہ سے شاید ہمارے عزت و بے عزتی کے معیارات ادل بدل ہوگئے ہیں تو ہمیں یہ روئیےجنسی زیادتی لگتے ہیں۔ ورنہ یہ ہو تو صدیوں سے رہا ہے بس رونا ہم نے اب شروع کیا ہے۔ کیا یہ وہی خطہ زمین ہے جہاں پچھلی ایک دو دہائیوں سے آئے روز غیرت کے نام پر قتل ہورہے۔ کونسی غیرت بھائی