Showing posts with label Biograph. Show all posts
Showing posts with label Biograph. Show all posts

Tuesday, July 25, 2017

لاہور کی ادبی الف لیلہٰ

چراغوں کا دھواں : انتظار حسین
انتظار حسین کے بقول انکے پاس دوسروں کی طرح ہجرت کی مظلومیت کی کوئی ذاتی کہانی نہیں تھی جسے بیان کر کر کے وہ لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ سکتے۔ لہذہ انہوں نےتقسیم اور ہجرت کے بعد جو کچھ لاہور میں دیکھا، اسے بطور اپنی سوا نح کے بیان کردیا ۔ اس طرح یہ ان کی سوانح سے زیادہ دوسروں کی سوانح ہائے حیات ہے۔ ادب کی، ادیبوں کی، ادبی پرچو ں کی اور ادبی تنظیموں کی۔ 

Monday, July 10, 2017

راجہ اندر


کتاب کیا ہے پوری الف لیلیٰ ہے، ایک کے بعد ایک عشق جیسے کوئی ریس لگی ہو، یا مطلوبہ قسطیں پوری ہوجانے پر کوئی تمغہ ءِ حسن کار کردگی ملنا ہو۔ حال یہ کہ خود تو کم از کم ایک درجن سے زیادہ خواتین سے "خالص اور سُچا"  عشق فرمایا، جن میں اپنے سے بڑی عمر کی خواتین بھی تھیں اور ایک آٹھویں کلاس میں پڑھنے والی بچی بھی، مسلمان خواتین بھی تھیں، ہندو، عیسائی بھی۔ کسی کو نہیں بخشا۔  ہر خاتون بس انتظار میں تھی کہ محترم ان پر نظرکرم فرمائیں اور خاتون ان کا بستر گرم کرنے کو پلنگ پر بچھ جائیں یا ان کی چونچ میں چونچ ڈال دیں۔

Wednesday, June 28, 2017

Road To Mecca II : "Home-coming of the Heart

Hello Readers

Me searching for a soft copy of second part of Road To Mecca II : Home-coming of the Heart by Allama Mohammad Assad. If anyone has it or can find a pdf/ epub version, please email me at nasreenghori@gmail.com.

Thank you 😍


Monday, June 26, 2017

روڈ ٹو مکہ : علامہ محمد اسد

ایک یوروپین بدوکی کہانی

لیوپولڈ آف عربیہ
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔ 

Wednesday, June 21, 2017

مکہ : بی بی ہاجرہ کا شہر


اللہ تعالی کے ایک پیارے نبی تھے، حضرت ابراہیم علیہ سلام۔ ان کی دو بیویاں تھیں۔ ایک حضرت سارہ علیہ سلام اور ایک حضرت ہاجرہ علیہ سلام۔ حضرت سارہ کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسحاق علیہ سلام اور حضرت ہاجرہ علیہ سلام کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسمعیل علیہ سلام۔

حضرت ابراہیم علیہ سلام اپنے بیٹوں سے بہت محبت کرتے تھے لیکن حضرت اسمعیل علیہ سلام سے زیادہ محبت کرتےتھے۔ حضرت سارہ علیہ سلام ،حضرت ہاجرہ علیہ سلام اور ان کے بیٹے کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے کئی بار حضرت ابراہیم علیہ سلام سے کہا کہ وہ ہاجرہ علیہ سلام اور اسمعیل علیہ سلام کو کہیں اور چھوڑ آئیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ سلام ان کی بات نہیں مانتے تھے۔ 

Tuesday, April 18, 2017

ترقی ءِ معکوس

انسانوں کی طرح شہروں اور مکانات کی بھی نسلیں ہوتی ہیں ۔ ضمیر جعفری

موجودہ مکان ہمارے گھر کی پانچویں پشت ہے۔ جو پچھلی پانچ دہائیوں میں ارتقاء کی منزلیں طے کرتے کرتے ایک چٹائی کی جھونپڑی سے تین منزلہ مکان میں تبدیل ہوگیا ہے ۔

پہلی پشت میں گھر ایک جھونپڑی اور ایک بڑے سارے مشترکہ صحن پر مشتمل تھا۔ جس کا آنگن سارے محلے کا مشترکہ صحن تھا ساری خواتین گھر کے مختلف کام نپٹاتے ہوئے ایک دوسرے سے گپیں بھی لگاتی جاتی تھیں اور سب کے بچے بھی اسی "آنگن" میں ایک دوسرے کی نظروں کے سامنے اچھلتے کودتے، گرتے پڑتے ، چوٹیں کھاتے اور روتے گاتے رہتے۔ سردیوں میں جھونپڑی کے اندر اور گرمی میں جھونپڑیوں کے باہر بستر ڈال کر رات بسر کی جاتی۔

Tuesday, February 7, 2017

میں ساحر ہوں

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جب سے "رسیدی ٹکٹ" پڑھی تھی ۔ اور "میں ساحر ہوں" مارکیٹ میں آئی تھی، ساحر کی سوانح پڑھنے کی بے چینی لگی تھی۔ ادبی دنیا میں امرتا پریتم اور ساحر کے رومان کا بڑا چرچا پڑھا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جو شذرے نظر سے گزرے لگتا تھا کہ کوئی فیری ٹیل تھی لیکن" میں ساحر ہوں" پڑھ کر احساس ہوا کہ عاشق ہوجانا ان کی عادت تھی۔ وہ تو تھے ہی عاشق مزاج، امرتا سے پہلے بھی اور بعد میں بھی کتنی ہی خواتین پر ریشہ خطمی ہوئے۔ کوئی خاتون ذرا نظر آئی نہیں اور وہ اس پہ زارو قطار قربان ہونے کو تیار۔ 

Wednesday, February 1, 2017

الجھے سلجھے انور: عمرانہ مقصود



انور مقصود کے بارے میں پڑھ کر بالکل بھی ایسا نہیں لگا کہ میں کچھ ایسا پڑھ رہی ہوں جو میں پہلے سے نہیں جانتی تھی, شاید میرے تصور میں ان کی ایسی ہی شخصیت تھی جیسی اس کتاب سے ظاہر ہوتی ہے۔

خواتین مزاح نگاروں کا انسائیکلوپیڈیا

لینے تو ہم گئے تھے "بذلہ سنجانِ دو عالم" جس پر عرصے سے ہماری نیت خراب تھی اور جسے ہماری یار غار نے ہمیں گفٹنے سے انکار ہی نہیں کیا تھا ،ہمیں پہچاننے سے بھی انکار کر دیا تھا اور کرنا بھی چاہیے تھا۔ انہوں نے ہم سے دو کتابوں کے بارے میں پوچھا کہ یہ تمہیں بھیج دوں اور ہم نے کہا ایک ہم نے پڑھنی نہیں اور دوسری ہمارے پاس ہے، سو تم ہمیں بذلہ سنجان دو عالم بھیج دو یا پھر شفیق الرحمان کا مجموعہ یا پھر شام شعر یاراں یا پھر یہ ساری ۔ اور اس نے کہا کہ" ہیں تم کون ، میں تمہیں نہیں جانتی" اور ہمیں نہ تو خدا ملا ، نہ ہی وصال صنم۔ البتہ سنا ہے کہ ہمیں ایک ڈائری کراچی سے بذریعہ ساہیوال آرہی ہے، لیکن وہ ابھی تک آ ہی نہیں چک رہی۔ 

Wednesday, January 25, 2017

چرس

چرس صرف ایک "چرس" ہی تو نہیں ہوتی۔ پتا نہیں کتنی ساری قسم کی چرسیں بندے کو زندگی کے مختلف ادوار میں خوار کرتی ہیں۔ ہم بھی پرانے چرسی ہیں۔ سب سے پہلی چرس جو یاد ہے وہ چند صفحات پر مشتمل مختصر سائز کی ٹارزن کی کہانیاں اور عمران سیریز تھیں۔ نیا نیا پڑھنا آیا تھا ، محلے کے لڑکوں سے لے لے کر خوب پڑھے ،عمران سیریز پڑھتے ہوئے تو ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے۔ اس دور کی لڑکیاں پتا نہیں کیا کرتی تھیں۔ ہماری لڑکیوں سے کبھی نہیں بنی۔

Monday, December 12, 2016

یونیورسل کوکنگ ریسیپی

برائے سنگلز/ ہوسٹلرز/ پردیسیاں 


ان تینوں مظلوم کیٹیگریز کے خواتین و حضرات وسائل اور وقت کی کمی کے ساتھ ساتھ حسب توقیق پھوہڑ بھی ہوتے ہیں، اس پر ستم یہ کہ بھوک میں کھانا پکانا بھی خود پڑتا ہے اورجو کچھ بن جائے اسے کھانا بھی۔ اور یہ دوسرا عمل خاصا دل گردے کا کام ہے۔ اس لیے زیادہ تر جنک فوڈ سے پیٹ بھرنا پڑتا ہے۔ جو پیٹ اور جیب دونوں پر بھاری پڑتاہے۔

 ہم پر یہ وقت گزر چکا ہے۔ پہلے پہل تو گھر سے لائی ہوئی میگی سے کام چلایا گیا، لیکن کب تک، وہ مُک گئیں، پھر عربی ذائقوں والی میگی کو حلق سے اتارنا مشکل، مرتا کیا نہ کرتا، جیسے تیسے خود پکانا شروع کیا۔ اور تین سال کے بن باس کے بعد ایک عدد یونی ورسل ریسیپی وجود میں آئی جس سے ہر قسم کا کھانا بنایا جاسکتا ہے، خواہ دال ہو، سبزی ہو یا گوشت، اور حسب موقع معمولی تبدیلی سے پردیسی کھانوں کا بھی مزہ لیا جاسکتا ہے۔

تو ناظرین آج ہم آپ کو  کھانا پکانے کی ایک یونی ورسل ترکیب سکھائیں گے۔ یعنی ایک ایسی ترکیب جس کی مدد سے آپ جب جب،  جو جو پکانا چاہیں باآسانی پکا لیں۔

Monday, October 24, 2016

خواہشمندگان فیس بک فرینڈ شپ کی خدمت میں

اس پر تو کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہم یعنی کہ ہم اپنی فیس بک پروفائل پر "دوست" بننے کے امیدواروں سے تنگ آئے ہوئے ہیں، اور اکثر و بیشترفرینڈ رکویسٹ بھیجنے والوں یا ان باکس میں ایڈ کرنے کی درخواستوں اور دھمکیاں بھیجنے والوں کی شان میں کھلے عام گستاخانہ و طنزیہ اظہار رائے کرتے رہتے ہیں۔ 

Thursday, September 1, 2016

تندیءِ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

ناکامی سے کامیابی کے سفر کی ایک داستان


بی اے کے امتحان میں جامعہ کراچی میں سینٹر پڑا تو یونیورسٹی میں پڑھنے کا خیال آیا۔ بی اے کے بعد جامعہ میں داخلے کے لیے درخواست دی۔ عمرانیات کے مضمون میں ماسٹرز کرنے کا فیصلہ کیا ، جامعہ نے، ورنہ ہم نے تو ماس کوم کو پہلے آپشن پر رکھا تھا۔ 

چند نا گزیر وجوہات کی بناء پر فیس جمع کروانے میں تاخیر ہوئی۔ فیس جمع کروانے کا آخری دن تھا۔ کاونٹر پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ میٹرک کی اصل سند تو گھر بھول آئے ہیں اسکے بغیر داخلہ نہیں ہوسکتا۔ اسی وقت جامعہ سے واپس گھر اور گھر سے دوبارہ جامعہ پہنچے۔  دوبارہ سے کاونٹر پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ بی اے پارٹ ون کی مارکس شیٹ ڈپلی کیٹ ہے۔ اس لیے داخلہ ندارد ۔ اس میں ہمارا کیا قصورکہ اوریجنل مارکس شیٹ آج تک کورئیر والوں نے ڈلیور نہیں کی تھی۔ ایک دن میں دوسری ناکامی۔

Thursday, July 7, 2016

یادِ رفتگاں

میٹھی عید 


رمضان بھر ہمیں  میٹھی عید کا انتظار رہتا تھا، کیونکہ اس زمانے میں نئے کپڑے بس عید کے عید ہی بنتے تھے یا پھر گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد نیا یونی فارم ملتا تھا۔ عید پر دو جوڑے بنتے تھے۔ ایک ریشمی جو عموماً فلیٹ کی پھولدار قمیص اور سادی میچنگ شلوار پر مشتمل ہوتا تھا۔ بعد میں جب سادی شلوار قمیص کا دور آیا تو پہلے لیڈی کریپ اور پھر کنگ پیلس نامی کپڑے کا سادہ سوٹ اور ساتھ ڈیزائن دار دوپٹہ ، لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔ہم ابھی اس دور میں ہیں جب دوپٹے کے نام پر ایک دوفٹ لمبی اور چھ انچ چوڑی پٹی کندھے پر پن سے ٹانک دینا کافی ہوتا تھا۔ دوسرا سوٹ کاٹن یا لان کا ہوتا تھا۔
تصویر کے حقوق محفوظ ہیں

Wednesday, July 6, 2016

رفتگاں کی یاد

چاند رات 


کل چاند رات کو بیٹھے بیٹھے ایسے ہی بچپن کی چاند راتیں اور عید یاد آگئیں۔ بچپن کی چاند رات اب سے کہیں زیادہ ایڈونچرس ہوتی تھی۔ عید کی ساری تیاری تو شروع رمضان میں ہوجاتی تھی، امی اور پڑوس کی چند خواتین مل کر اپنے سارے بچوں کے ساتھ بازار جاکرعید کے لیے کپڑوں اور جوتوں کی شاپنگ کرتے تھے۔ کپڑوں سے بڑھ کر جوتوں کے لیے سارے بچوں کو ناپ کے لیے ساتھ لےجانا ضروری ہوتا تھا۔ جوتے ایک نمبر بڑے خریدے جاتے تھے تاکہ زیادہ دنوں تک قابل استعمال رہیں۔ بچوں کی تعداد کافی ہوتی تھی، ایک بار لالو کھیت میں شاپنگ کے دوران پڑوسن کا ایک بچہ ادھر ادھر ہوگیا، جب ملا تو ایک دکاندار نے فقرہ لگایا کہ اتنے سارے بچوں کو ایک رسی میں باندھ کر چلا کرو۔ عموماً ساری شاپنگ لالوکھیت سے ہوجایا کرتی تھی سوائے چوڑیوں کے۔ چوڑیوں کے لیے چاند رات کا دن مخصوص تھا۔ 
گول ٹکیا والی مہندی کا جدید ورژن

Saturday, March 19, 2016

قصہ ہائے بزتی خراب

فی زمانہ چہرے اور دل کے رنگوں کا میچ کرنا فیشن میں نہیں ہے۔ اور ایسے لوگ جن کے چہرے اور زبان پہ بھی وہی ہو جو دل میں ہو ناقابل قبول ہوتے ہیں ۔ یا پھر انہیں misunderstand کیا جاتا ہے۔  ادھر یہ حال ہے کہ جس سے ملنے کا دل کیا مل لیے، جس سے ملنے کو دل نہیں کرتا صاف کہہ دیا کہ تیری میری نئیں چلنی، تم اپنا منہ ادھر کر لو، ہم ادِھر کیے لیتے ہیں ، تو کرے نہ کرے ہم نے تو اب تیری  طرف منہ نہیں کرنا۔ 

Friday, March 18, 2016

بچے ہمارے عہد کے

ہم اپنے بچپن کو یاد کریں تو ہم نے اورنگی ٹاون میں ہی ہوش سنبھالا تھا۔ اس زمانے میں اورنگی ٹاون خاصا کھلا ڈلا ہوتا تھا اور ویرانے میں ایک دو جھونپڑی نما گھر ہوتے تھے جہاں سے حبیب بنک ٹاور براہ راست مشاہدہ کیا جاسکتا تھا، اور اگر نانا نانی یا کوئی بھی مہمان ہمارے گھر آتا تھا تو وہ ایک کلومیٹر دور بس اسٹاپ پر بس سے اترتے ہی نظر آنے لگتا تھا ۔ 

ہمارا محلہ ایک بہت بڑے آنگن پر مشتمل تھا جس میں ذرا فاصلوں سے دو چار جھونپڑیاں [ممی ڈیڈی بچوں کے لیے چٹائی کی بنی ہوئی ہٹس] ہوتی تھیں ۔۔ ایک ہماری، ایک ہمارے سامنے حسینہ باجی جو بلوچ تھیں مطلب ابھی بھی ہیں اللہ انہیں صحت و حیاتی دے، ایک برابر میں سلمی باجی اور صابر بھائی کی، ان کے سامنے خانصاحب کی جو بنگلہ دیش سے ہجرت کئے ہوئے پٹھان تھے۔ ہمارے پیچھے ایک جھگی حنیفہ باجی کی ، وہ بھی بنگلہ دیش سے ہجرت کر کے آئی ہوئی بہاری فیملی تھی۔ 

Monday, January 25, 2016

غربت کے سائیڈ ایفکٹس II

ترقی ناقابل گریز ہے۔ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے ۔ لیکن ہمارے آپکے ارد گرد ہر شخص نے نہیں تو اکثریت نے پچھلے ساٹھ پینسٹھ سالوں میں لازمی ترقی کی ہے، جو پیدل تھے وہ سائیکل پہ آگئے ہیں، سائیکل والا موٹر سائیکل، موٹر سائیکل والا کار میں اور کار والا اب بڑی اور مہنگی سے مہنگی کار مین سفر کرتا ہے۔ کوئی بھی آج اس گھر میں نہیں رہتا جس میں آج سے پچاس یا ساٹھ سال قبل رہتا تھا۔ اگر پلاٹ وہی ہے تو مکان ضرور تبدیل ہوا ہے۔ اور پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔ پہلے اگر ایک باپ کمانے والا تھا تو اب اس کے ساتھ اسکے بیٹے یا بیٹی بھی ہاتھ بٹانے میں شامل ہیں ۔ جہاں وسائل بڑھتے ہیں وہاں لائف اسٹائل بھی تبدیل ہوتا ہے، اور سب سے بڑی تبدیلی رہن سہن کے طور طریقوں میں آتی ہے۔ طور طریقوں میں تبدیلی خوشگوار تو ہوتی ہے لیکن بندے کو خوار بھی کردیتی ہے۔  اور جنم لیتی ہے 

Poverty of Culture


ویسے تو یہ ہمارے حالات حاضرہ و غیر حاضرہ ہیں، پر کسی اور کو اس میں اپنا ماضی و حال نظر آئے تو "ادارہ " ہرگز قصور وار نہ ہوگا۔

پرانے چھوٹے سے گھر سے نئے ، بڑے اور ویل فرنشڈ گھر کے سفر تک پرانی عادتیں بڑی مشکل سے چھوٹتی ہیں ۔ کچے مکان میں تو جہاں چاہا پچکاری مار دی، جہاں چاہا کلی کر لی، پان پیک ڈالا، ہاتھ دھو لیے۔ گریس کے ہاتھ دیوار سے پونچھ دئیے، ناک صاف کر لی۔ چھوٹے بچوں کو شوشو پوٹی بھی صحن کے کسی کونے میں کروادی ، مٹی میں مٹی ہوجانی دو چار دن اِچ۔ بسکٹ یا چپس کھائے ، تھیلی ادھر ادھر کردی ۔

Sunday, January 10, 2016

اس بے چاری کی شادی نہیں ہوئی ناں

 جب کوئی ایسی خاتون جس کی شادی اب تک نہ ہوسکی ہو، یا اس نے کی نہ ہو پینتالیس سال عمر کے آس پاس اگر زیادہ غصہ کرتی پائی جائے یا عرف عام میں چڑچڑی ہو جائے تو ہر ایک اس کے اس رویے کا الزام اسکی نہ  ہوسکنے والی شادی پر دھر دیتا ہے کہ اسکی شادی نہیں ہوئی ناں تو اس لیے یہ چڑچڑی ہوگئی ہے۔

Monday, November 9, 2015

ایک اور لو اشٹوری :P


ہم جس کتاب کو پڑھتے ہیں  اسکی محبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کتاب کے اندر جو کچھ ہے اس سے محبت تو سمجھ میں آتی ہے، صاحب کتاب سے محبت بھی سمجھ میں آتی ہے، لیکن خود اس کتاب سے، کتاب کے اوراق سے، محبت ہونا ایک الگ بات ہے۔ ہم جس کتاب کو پڑھ لیں اور وہ کتاب ہمیں لڑ جائے، بس وہ کتاب اگر ہم سے جدا ہوجائے تو "کی حال سناواں دل دا، کوئی محرم راز نہ مل دا " والا معاملہ ہوجاتا ہے۔