Showing posts with label Biograph. Show all posts
Showing posts with label Biograph. Show all posts

Friday, January 2, 2026

مرنے کے بعد کیا ہوگا

بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا

ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔

Wednesday, December 31, 2025

نکے نکے سے عظیم دکھ ورژن 3.0

ہماری برادری کافی روایتی ہے۔ جس میں شادی بیاہ وغیرہ پر بھات لینے دینے کا بڑا رواج تھا، کسی حد تک اب بھی ہے ۔ بھات ان کپڑوں/ ملبوسات چوڑیوں ، مہندی، مٹھائی وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر شادی والے گھر میں لڑکی یا لڑکے کے ماموں چچا وغیرہ ایک بڑی ساری پرات یا سینی میں سجا کر خوان پوش سے ڈھک کر تحفہ کے طور پر لاتے تھے اس میں دلہا / دلہن کے کپڑے، ان کے والدین کے کپڑے یا کم از کم والدہ کا دوپٹہ اور والد کا تولیہ صافہ یا کندھے پر ڈالنے کا رومال اور غیر شادی شدہ بھائی بہنوں، بھتیجیوں  اوربھتیجوں وغیرہ کے لیے تحائف جیسے دوپٹے چوڑیاں مہندی رومال وغیرہ ہوتے تھے۔

ہم بہت بچپن سے دیکھتے آئے تھے کہ جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو دلہا یا دلہن کی بھتیجیوں، پھپھیوں ، بھابھیوں وغیرہ کو ان کے اپنے خاندان کی طرف سے بھی اور دوسری پارٹی کی طرف سے بھی ہر رسم میں یاد رکھا جاتا جیسے ہمارے ماموں یا خالہ کی شادی ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے  میری خالاوں،  ممانیوں اور میری ماموں زاد بہنوں کے لیے جوڑے/ دوپٹے، چوڑیاں اور مہندی وغیرہ بھات یا نیگ میں ضرور آتے۔ اور مہندی مایوں کی رسومات میں جو پیسے جمع ہوتے ان میں سے بھی حصہ ملتا اورہماری ماموں زاد کزنز ہمارے سامنے اترا اترا کر ان چوڑیوں کی نمائش کرتیں۔ جوڑا سی کر شادی میں پہن لیتیں، شادی کی رسموں میں بھی انہیں آگے آگے رکھا جاتا۔

Saturday, December 27, 2025

برادر بئیرز 2

اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ہماری فیورٹ ترین بچوں کی مووی کون سی ہے تو ہمارا جواب ہوگا برادر بئیر 2۔ یہ برادر بئیر موویز کے تسلسل میں دوسرا حصہ ہے لیکن پہلا حصہ نہ بھی دیکھا ہو تب بھی برادر بئیرز 2 اپنے آپ میں ایک مکمل مووی ہے۔ اس کے گرافکس اور مناظر اس قدر خوبصورت ہیں کہ دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے ، جب فاطمہ چھوٹی تھی تو ہم دونوں یہ مووی بلا ناغہ دیکھا کرتے تھے ۔ مہینوں ہم نے یہ مووی روزانہ دیکھی ہے اتنی کہ زبانی رٹ گئی تھی۔

Thursday, December 25, 2025

فاطمہ نامہ 1

فاطمہ بہت چھوٹی سی تھی شاید ایک ڈیڑھ سال کی۔ ہم اسے انگلی چوسنے سے منع کرتے تھے۔ ایک دن ہم دونوں نیچے اکیلے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اس نے منہ میں ہاتھ ڈالا میں نے اسے منع کیا۔ اس نے نکال لیا تھوڑی دیر بعد پھر انگلی منہ میں۔ میں نے قریب سے ماچس اٹھائی اور کہا میں تمہارا ہاتھ جلادوں گی اب اگر منہ میں لیا۔ فاطمہ ایک دم خوفزدہ ہو کر مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کے چہرے کے تاثرات مجھے آج تک نہیں بھولتے۔ جتنی دہشت تھی اس کے چہرے پر۔

Tuesday, December 16, 2025

مشرقی پاکستان پر دو ناول

اللہ میگھ دے : طارق محمود

طارق محمود ایک بیوروکریٹ تھے۔ انہیں تعلیم اور افسری کے دوران کافی عرصہ مشرقی پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا۔ ان کی بائیوگرافی بھی کافی دلچسپ ہے۔ عامر خاکوانی صاحب ان کی بائیوگرافی کے کچھ حصے اپنی وال پہ شئیر کررہے ہیں۔ ان ہی کے ایک کالم سے اس ناول کا سراغ ملا تھا۔

Friday, November 28, 2025

ایک والد کو خراج تحسین

سہیل احمد صاحب کی اداکارانہ صلاحیتوں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں۔ جس وقت انہوں نے پی ٹی وی پر اداکاری شروع کی، ڈراموں میں کام کیا اس وقت ہم بہت چھوٹے تھے یا شاید بہت مصروف تھے۔ ہمیں بس یہ یاد ہے کہ وہ عابد کاشمیری صاحب کی طرح ہیرو کےدوست یا کامیڈین یا والد یا انکل ٹائپ رول ہی کرتے تھے جن پر ہم اس وقت دھیان نہیں دیتے تھے کیونکہ ہم وسیم عباس، راحت کاظمی۔ عثمان پیرزادہ اور آصف رضامیر پر زیادہ فوکس کرتے تھے۔

Friday, November 14, 2025

فلمی شاعری میں صنفی تضاد

اردو شاعری میں عورت یعنی محبوب کو بہت ہی ظالم اور بے وفا ظاہر کیا جاتا ہے۔ گو کہ شاعری میں محبوب کو اسم مذکر سے مخاطب اور تذکرہ کیا جاتا ہے لیکن بہرحال شاعر مخاطب نسوانی محبوب و معشوق سے ہی ہوتے ہیں مرد شعرا اپنی شاعری سے خواتین کی نمائندگی نہیں کرتے. لہذہ وہ ہمارے اس تھیسیس سے خارج ہیں کہ عمومی شاعری میں شعراء اپنے کلام میں خواتین کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں خواتین کا نہیں۔ خواتین کے جذبات اور خیالات کے اظہار کے لیے پروین شاکر اور فہمیدہ ریاض جیسی شاعرات موجود ہیں۔ جن کی شاعری پڑھ کر لوگ انگلیاں دانتوں تلے داب لیتے ہیں۔

Saturday, November 8, 2025

ایک مرحوم پروپوزل کی تقریباً برسی کے موقع پر

Photo Credit: Internet
ونس اپون ان کورونا ٹائمز ایک بھائی صاب تھے ان کو بھائی صاب کہنا مناسب تو نہیں لیکن سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو خیر ہے۔ کتابوں سے متعلق ایک گروپ میں انہوں نے کسی کتاب کے بارے میں لکھا ، موضوع ہماری دلچسپی کا تھا ہم نے پوچھ لیا کہ کہاں سے ملے گی۔ اگلے دن ان کا جواب آنے تک ہم وہ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں سرچ اور ڈاونلوڈ کرچکے تھے، یہ اور بات پڑھنے کی باری ابھی تک نہیں آئی ۔ ان کے جواب کے جواب میں یہی فرما دیا ۔

فوراً ہی ان باکس آیا کہ آپ کو کیسے ملی۔ بھیا وہیں پوچھ لیتے ایسی بھی کیا راز داری

جواب دیا "ڈھونڈنے سے

Saturday, October 4, 2025

پی ٹی وی کا انقلابی قدم

وہی جسے انگریزی میں کوانٹم لیپ کہتے ہیں

کچھ عرصہ قبل پی ٹی وی کے نئے شو "ان کہی ود شہناز شیخ" میں ڈاکٹرمحروب معیز اعوان کا انٹرویو نشر کیا گیا۔ اٹ واز اے پلیزینٹ سرپرائز۔ پی ٹی وی اور ایک خواجہ سرا کا انٹرویو ، وہی پی ٹی وی جہاں خاتون اداکارہ سوتے میں بھی سر پر دوپٹہ لیے ہوتی تھی اور مرد اداکار کسی خاتون اداکار کا ہاتھ ڈرامے میں بھی نہیں تھام سکتا تھا۔میں نے بہت عرصے سے پی ٹی وی نہیں دیکھا ہے، یقیناً موجودہ پی ٹی وی اس پی ٹی وی سے بہت مختلف ہوچکا ہے جسے دیکھنے کی میری نسل عادی رہی ہے۔

Wednesday, August 5, 2020

نہرو اور تاریخ : ایک معاشقہ


سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ھے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

جواہر لال نہرو ایک مصروف سیاستدان اور تحریک آزادی ہندوستان کے ایک سرگرم لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شفیق اور محبت کرنے والے  باپ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی تمام سیاسی مصروفیات کے باوجود بشمول جیل کاٹنے کے باوجود بھی اپنی اکلوتی بیٹی اندرا کی  تعلیم اور تربیت سے صرف نظر نہیں کیا۔ اور اندرا کی دسویں سالگرہ سے انہیں خط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو کئی سال جاری رہا۔ ان خطوط میں نہرو نے  کائنات، زمین، زمین پر حیات اور زمین پرانسان اور پھر قوموں کی تاریخ کے بارے میں  مختلف موضوعات کا احاطہ کیا۔ 

Saturday, July 18, 2020

عمر چچا: پارٹنر ان کرائم


ہم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا عمر چچا ہمارے گھر کا ایک فرد تھے۔ گو کہ ان کا گھر ہمارے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا لیکن ہر کام کے لیے ہر وقت وہ ہمارے گھر حاضر رہتے۔ ابو سے عمر میں چھوٹے تھے اور انہیں ہمیشہ بھائی جان کہہ کر بلاتے تھے۔ اسی نسبت سے ہم بہن بھائی انہیں عمرچچا کہتے تھے۔

ہمارا بچپن ان کے کندھے سے لٹک کر ضدیں کرتے گزرا۔ اپنے سگے چچا سے بھی ہم نے اتنی فرمائیشیں نہیں کی ہونگی جتنی عمر چچا نے پوری کی ہونگی۔ یہ جو ہم اتنی ساری جگہوں کی تصاویر لگا رہے ہیں گورکھ رنگ تھیم میں۔ ان سب آوارگیوں کی شروعات عمر چچا کے ساتھ ہی ہوئی تھیں۔ سیر و تفریح کی جو اولین یادداشتیں ہیں ان میں سب سے پہلی تو ابو کی ففٹی کی ڈگی میں بیٹھ کر کیماڑی کی سیر کی ہے۔ اس کے بعد جتنی بھی ابتدائی فیملی پکنکس یاد ہیں۔ عمر چچا ان میں ایک ناگزیر پارٹنر ہوتے تھے۔ 

Thursday, May 28, 2020

ابھی تو میں جوان ہوں


ہم پاکستان کی سب سے اونچی جھیل رش لیک کا ٹریک کر کے آئے، ہمارے ساتھ ایک بارہ سال کا بچہ اور دو خواتین 60 سال سے اوپر بھی تھیں اور ہم بہت فخر سے ان تینوں کو ہر فورم پر پیش کرتے تھے کہ یہ تینوں ہمارے اسٹار ٹریکرز ہیں۔ یاد رہے کہ رش لیک ٹریک پاکستان کے شمال میں مشکل ترین ٹریکس میں سے ایک ہے، اور اتنا مشکل تو ہے کہ ابھی تک مستنصر حسین تارڑ اس جھیل تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ لہذہ یہ ہمارے لیے بڑے ہی اعزاز کی بات تھی کہ ہماری ٹیم میں اتنا ینگ بچہ اور سکسٹی پلس خواتین اتنی فٹ تھیں کہ انہوں نے یہ ٹریک کر لیا۔ ہماری ٹریک لیڈر نے کسی فورم پر ان تینوں کے بارے میں تعارفی اور تعریفی پوسٹ لگائی، اینڈ بینگ 💣 ۔۔ یہ کیا ۔ ان میں سے ایک خاتون خفا ہوگئیں آپ نے میری عمر 63 لکھ دی جبکہ میں ابھی 62 کی ہوں  😂

Wednesday, May 13, 2020

Money Heist

کیا آپ نے کسی کو قرض دے رکھا ہے اور اب اس امید پر بیٹھے ہیں کہ یہ رقم آپ کو واپس بھی ملے گی تو سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی بندہ قرضہ واپس کرنے کی نیت سے نہیں مانگتا۔ کسی ایک بندے کی نیت بھی آپ کے پیسے واپس کرنے کی نہیں ہوتی۔ لہذہ اگر کوئی آپ سے پیسے ادھار مانگتا ہے تو یا تو آپ اسے صاف انکار کردیں۔ کیونکہ ادھار دینے کے بعد بندہ اور رقم دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں۔ لہذہ رقم بچائیے برے وقت میں آپ کے اپنے کام آئے گی بندہ تو رقم لے کر بھی بھاگ ہی جانا ہے تو بہتر ہے اسے بھاگ ہی جانے دیں۔ 

Sunday, December 29, 2019

یوسف خان عرف دلیپ کمار


اداکار دلیپ کمار کی عظمت کا اعتراف ایک دنیا کرتی ہے لیکن دلیپ کمار کیوں دلیپ کمار ہے اس کا اندازہ ان کی سوانح حیات کو پڑھ کر ہوتا ہے۔ پشاور میں پیدا ہونے والا ایک غیور، شریف اور وفادار پٹھان  کتنی محنت، مشقت اور کمٹمنٹ کے سہارے اس مقام کو پہنچا ہے کہ آج پاک وہند کا ہر چھوٹا بڑا اداکار اور فلم بین اس کا نام عزت سے لیتا ہے، بڑے بڑے اداکار اس کی فلموں کے ری میک میں کام کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور پھر اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان سے غلطی ہوئی جو ان کے کردار کو ری پلے کیا، ان کا کوئی مقابل نہیں کوئی ثانی نہیں۔

Sunday, August 11, 2019

From the World of Vodka to the Dragon's Heart



"Now that we were so perilously close to finishing, I realized that relief wasn’t the overriding emotion. There were two others: a sense of achievement and a sense of great loss."

-- Time Cope at the end of 10,000 km cycling journey

Wednesday, August 7, 2019

Voices from Chernobyl


 A fantastic but depressing, very depressing book simultaneously, very difficult to go through. But it gives different points of view and insights from the acute victims to the liquidators, firemen, soldiers, teachers, students, housewives, resettlers, camera recorders, photographers, writers, journalists, school children, young children. How they were affected and how they perceived the incident, and its aftermaths, its causes and people's behavior towards them and theirs towards those people.

Friday, July 26, 2019

"بنت حوا ہوں میں، یہ مرا جرم ہے"

تبصرہ:

ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے اکلوتے نہیں تو اکلوتے مشہور تاریخ خواں ہیں۔  [تاریخ دان کی اصطلاح غلط ہے۔ "دان" بنانے والے کو کہا جاتا ہے۔ اور "خواں" بیان کرنے والے کو۔] جنہوں نے تاریخ خصوصاً برصغیر کی تاریخ پر کئی کتب لکھی ہیں اور خود فن تاریخ پر بھی۔ اس کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی نے مختلف مذاہب، معاشروں اور تہذیبوں میں خواتین کے مقام اور حیثیت کا تاریخی جائزہ لیا ہے۔

Monday, June 24, 2019

الاموت، الاموت، الاموت

الاموت حسن بن صباح کی جنت ارضی اور اس کے فلسفہ زندگی کے بارے میں ایک ناول ہے کہ  اس نے اتنی طاقتور ایمپائر کیسے تعمیر کی، اس کے پیچھے کیا فلسفہ کارگرتھا۔ حسن بن صباح جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اسمعٰیلی مذہب کا ایک مبلغ اور بعزم خود پیغمبر تھا جس نے اپنا مرکز ایران کے شہر قزوین میں الاموت نامی ایک قلعے میں قائم کیا تھا اور جہاں وہ سادہ لوح نوجوانوں کو حشیش کے نشے میں مبتلا کر کے ایک مصنوعی جنت کا لالچ دے کر انہیں دنیا بھر میں بادشاہوں اور حکمرانوں پر خود کش حملوں میں استعمال کرتا تھا۔ 
 الاموت کا ایک ڈجیٹل تصور
PC: Internet

Friday, June 14, 2019

K-2 | Coz THEY are There - VIII

 پائیو کیمپ سائیٹ


پائیو کیمپ سائیٹ ایک کاروان سرائے ہے۔ روز صبح نو بجے سے کوئی نہ کوئی گروپ اپ یا ڈاؤن ٹریک پائیو پہنچتا ہے جسے پہلے سے مقیم لوگ ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ یہ بھی آگئے ہیں حصہ بٹانے کو اور نوواردان سوچتے ہیں کہ ہیں یہاں یہ بھی ہیں پہلے سے۔ یہ کیوں ہیں، یہاں پرائیویسی کیوں نہیں۔ اور ہر روز تڑکے ان میں سے چند گروپ آگے یا پیچھے روانہ ہوجاتے ہیں۔ عموماً آگے کیونکہ اردوکس سے واپس ہونے والے یہاں ٹھہرے بغیر جھولا چلے جاتے ہیں۔

K-2 | Coz THEY are There - VII

ڈے تھری: جھولہ ٹو پائیو

(صبح ساڑھے پانچ بجے سے سہ پہر تین بجے )

بالتورو گلیشیر سے نکلنے والا دریا گائیڈ کے مطابق دریائے سندھ ہے لیکن مقامی نام شیوک ہے۔ لیکن نام سے کیا ہوتا ہے۔ سندھ ہو یا شیوک اگر آپ اس میں ڈبکی کھا گئے تو اس نے آپ کو کھا جانا ہے۔ جھولا سے ناشتہ کر کے ہم نے دریا کا کنارہ پکڑ لیا۔ ٹریک دریا کے کنارے کنارے کبھی اوپر کبھی نیچے۔ کبھی لب دریا، کبھی پرے دریا۔کبھی دریا کے بیڈ میں، کبھی پہاڑ کے اوپر، کبھی جھاڑیوں میں۔
فرخ نالہ پار کرتے ہوئے