Friday, February 27, 2026

یوسف پیامبر

 رمضان 2021 ہم نے یوسف علیہ سلام سیریز مکمل کی ۔ واٹ اے ماسٹر پیس۔ ہماری شروع سے خواہش رہی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انبیاء کے واقعات اور حالات سے روشناس کروائیں۔ فاطمہ جب چھوٹی تھی تو ہم اسے انبیاء کرام کے حالات زندگی سے چھوٹے چھوٹے واقعات اٹھا کر آسان الفاظ میں کہانی بنا کر سناتے تھے جیسے کہ نوح علیہ سلام کی کہانی کا عنوان تھا "دنیا کا پہلا چڑیا گھر"۔ بی بی حاجرہ کی کہانی کا نام تھا" مکہ بی بی حاجرہ کا شہر" ایسے ہی مختلف کہانیاں تھیں۔ حسن ہمارے قابو ہی نہیں آتا کہ ہم اسے کہانیاں سنائیں۔ فاطمہ کو انبیاء کرام کی ایسی ہی آسان کہانیوں کا سیٹ منگوا کر دیا تھا۔ اب حسن بھائی کی اردو کے پیچ کسنے کے لیے انہیں وہ کہانیاں پڑھائی جاتی ہیں تو ان کی فرمائش ہوتی ہے کہ انہیں ان کی موویز بھی دکھائی جائیں۔ ایک دن حضرت یوسف علیہ سلام کی کہانی پڑھتے پڑھتے فرمائش آئی کہ مجھے یہ دیکھنا ہے کہ دبلی پتلی گائیں موٹی گائیں کو کیسے کھاتی ہیں۔ چلو جی کر لو گل


یقینی طور پر مووی میں حضرت یوسف علیہ سلام سے جڑے مشہور واقعات فلم بند کیے گئے ہیں جیسے کہ ان کا خواب، ان کے بھائیوں کی دشمنی، ان کو کنویں میں ڈال دینا، مصر میں بطور غلام فروخت، زلیخا کی ریشہ دوانیاں، قید، ان کے خواب کی تعبیر اورپھر ان کا عزیز مصر کے عہدے پر فائز ہونا اور بھائیوں کاان کے سامنے شرمندہ ہونا۔ لیکن یہ سیریز ان عمومی طور پر مشہور واقعات سے بہت بڑھ کر ہے۔ ان تمام واقعات کے گرد اسکرپٹ بہت محنت اور عرق ریزی سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اہل تشیع ویسے بھی تحقیق کے بہت حامی ہیں اور قرانی واقعات کی سیریز بناتے ہوئے یقیناً حالات و واقعات مزید کنفرم کیے ہونگے ۔ اس لیے ہمارا گمان ہے کہ سیریز میں زیب داستان کے باوجود واقعات غلط رپورٹ نہیں کیےگئے ہونگے۔

ان تمام واقعات کو اس طرح لڑی میں پرویا گیا ہے کہ کہانی کا ربط کہیں نہیں ٹوٹتا، کچھ واقعات کے بارے میں ہمیں تجسس تھا کہ وہ دیکھنے میں کیسے ہونگے۔ جیسے کہ دبلی گائیں موٹی گائیں کو کھاتے ہوئے کیسے دکھائیں گے۔ یا زلیخا کی یوسف علیہ سلام پر دست درازی کا منظر کیسے عکس بند کیا ہوگا۔ مسلسل رونے سے آنکھیں کیسے سفید ہوجاتی ہیں۔ ایک پہلو جو ہمارے خیال میں بھی کبھی نہیں آیا تھا یوسف علیہ سلام کے حوالے سے وہ یہ کہ وہ سارے آثار، وہ سارے محلات اور مندر جو ہم نے حالت ضعف میں دیکھے تھے وہ اپنے دور عروج میں کیسے لگتے ہونگے جب ان گلیوں ، بازاروں میں جیتے جاگتے لوگ چلتے پھرتے ہونگے۔ ان گلیوں اور بازاروں کو زندگی سے بھرپور دیکھنا بہت اچھا لگا۔

کچھ ڈائلاگز بہت شاندار ہیں خصوصاً زلیخا کے ڈائلاگز۔ زلیخا کے بارے میں ہماری رائے بہت منفی تھی۔ زلیخا کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ زلیخا سے ہمارا تعارف بس اتنا ہی ہے کہ وہ ایک بد کردار عورت تھی جس نے یوسف کو گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہی۔ لیکن اس سیریز نے ہمیں اس کا فین بنا دیا ہے۔ معلوم نہیں اصلی زلیخا کیسی ہوگی۔لیکن اس سیریز میں اس کا کیریکٹر اتنا مضبوط اور خاتون کی اداکاری اتنی شاندار کہ ایک مقام پرہمارے آنسو نکل آئے اس کی حالت پر, اس کا جنون, پھر اس کی محبت, پھر اس کا گریہ, اس کا عشق اور پھر عشق مجازی سے عشق حقیقی کا سفر، زلیخا کا رول بہت شاندار ہے۔ کئی رنگ بدلتا ہے۔ کہیں ایک ہوس پرست امیر زادی, کہیں ایک بے بس و لاچار عورت، کہیں یوسف کو بہکانے والی اور کہیں یوسف کے عشق میں فنا ہوجانے والی زلیخا۔

پہلے ہم یوسف علیہ سلام سے جڑے واقعات کی وجہ سے دیکھ رہے تھے  لیکن پھر دھیرے دھیرے زلیخا کے لیے دیکھنے لگے کہ آگے کیا ہوگا اس کے ساتھ۔ کم از کم اس سیریز کی حد تک زلیخا  کے  فراق یوسف کے گریہ میں حضرت یعقوب علیہ سلام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا اینڈ آئی واز لائک اللہ میاں ایک بار صرف ایک بار اس کی یوسف سے ایک ملاقات ہوجائے، صرف ایک بار یوسف اس کے حال سے باخبر ہوجائیں۔ ایک گڈ گائی / یوسف کا رول ادا کرنا اتنا مشکل نہیں تھا۔ لیکن زلیخا کا رول ادا کرنا بہت مشکل رہا ہوگا۔

اس سیریز کو دیکھ کر کچھ نئے حقائق بھی دریافت ہوئے جیسے کہ
  • مذہبی ٹھیکیدار ہر دور اور ہر تہذیب میں مفاد پرست اور حکومت وقت کو بلیک میل ہی کرتے رہے ہیں۔
  • زنان مصر مکمل باشرع لباس پہنتی تھیں۔ اور ہالی ووڈ فلموں کے برعکس فرعونوں کے دربار میں کسی قسم کی برہنہ یا نیم برہنہ ڈانس پارٹیاں نہیں ہوتی تھیں۔
  • تھیبز جو بالائی مصر یعنی لکسر و اسوان کے متوازی تھا، اہرامات خوفو جو زیریں مصر میں قاہرہ کے متوازی ہیں، دریائے نیل کے کنارے آمنے سامنے آباد تھے۔ ارے بھائی اگر اہرامات بطور قبرستان ہی دکھانے تھے تو انہیں اخناتون کے محل کے عین مقابل منتقل کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہاں ویلی آف کنگز اور ویلی آف کوئینز موجود ہیں جو بطور قبرستان استعمال ہوتے تھے۔ اہرامات کسی جنگی مہم میں دکھا دیتے ۔
  • اخناتون اور نیفرتیتی جنت میں ہمارے ہم نشیں ہونگے کیونکہ وہ اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر یوسف علیہ سلام کے مذہب پر آگئے تھے۔
  • یعقوب علیہ سلام کا بڑا بیٹا یہودہ آخر تک نہیں سدھرا۔ لیکن اس کی بات ٹھیک تھی کہ بنی اسرائیل یہودی کہلائیں گے, یوسفی نہیں۔ مزید یہ کہ اس کی آل اولاد اب تک نہیں سدھری
یوسف علیہ سلام کا زلیخا سے نکاح گوگل سے تصدیق نہیں ہوسکا ۔ صرف یاہو آنسرز پر ایک ریفرنس مل سکا ۔ یوسف و یعقوب علیہ سلام کے ملاپ کے منظر میں ہدایت کار نے کچھ زیادہ ہی اوور ایکٹنگ کروا دی۔ ایک آدھ ٹھوکر کافی تھی۔ لیکن باپ اور بیٹے دونوں کا اتنی زیادہ ٹھوکریں کھانا اور گرنا پڑنا کچھ اوور لگا۔

پینتالیس اقساط پر مشتمل یہ ایرانی ٹیلی وژن سیریز 2008-09 میں فارسی زبان میں پیش کی گئی تھی۔ وکی پیڈیا کے مطابق اس سیریز کا پانچ ہزار صفحات پر مشتمل اسکرپٹ مکمل کرنے میں چار سال کا عرصہ لگا۔ سیریز فارسی زبان میں بنی لیکن اسکرپٹ عربی اور انگریزی زبان میں بھی لکھا گیا۔ اب تک دنیا بھر میں کئی زبانوں اس مووی کی ڈبنگ کی گئی یا سب ٹائٹلز شامل کیے گئے۔ یو ٹیوب پر یہ مووی اردو زبان میں موجود ہے۔ اردو ترجمہ انڈیا میں کیا گیا ہے لیکن امکان ہے کہ مووی بنانے والے ادارے نے اپنی نگرانی میں اردو اسکرپٹ لکھوایا اور ڈبنگ کروائی ہے کیونکہ اردو ڈبنگ میں ایک لفظ بھی ہندی زبان یا لب و لہجے میں نہیں ہے۔ اس کے بجائے اردو ترجمہ آسان فہم فارسی اصطلاحات سے بھرپور ہے۔

ایک مست اینڈ مسٹ واچ سیریز
💖💖💖💖💖