Showing posts with label Pakistan. Show all posts
Showing posts with label Pakistan. Show all posts

Friday, January 2, 2026

مرنے کے بعد کیا ہوگا

بتاوں آپ کو مرنے کے بعد کیا ہوگا
احباب کھائیں گے پلاو فاتحہ ہوگا

ہم میں سے کون ہے جو کسی جنازے میں شریک نہ ہوا ہو یا جس کے قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے گھر میں کسی کا انتقال نہ ہوا ہو۔ انتقال والے گھر میں جہاں گھر والے ایک جانب غم سے نڈھال ہوتے ہیں وہیں انہیں جنازے کا انتظام کرنے، مہمانوں کی دیکھ بھال ان کے کھانے پینے ، مہمانان خصوصی کے خاص خیال کی فکر پڑی ہوتی ہے اتنی کہ وہ اپنا غم لپیٹ کر طاق پر رکھ دیتے ہیں کہ سوئم کے بعد اطمینان سے روئیں گے۔

Wednesday, December 31, 2025

نکے نکے سے عظیم دکھ ورژن 3.0

ہماری برادری کافی روایتی ہے۔ جس میں شادی بیاہ وغیرہ پر بھات لینے دینے کا بڑا رواج تھا، کسی حد تک اب بھی ہے ۔ بھات ان کپڑوں/ ملبوسات چوڑیوں ، مہندی، مٹھائی وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر شادی والے گھر میں لڑکی یا لڑکے کے ماموں چچا وغیرہ ایک بڑی ساری پرات یا سینی میں سجا کر خوان پوش سے ڈھک کر تحفہ کے طور پر لاتے تھے اس میں دلہا / دلہن کے کپڑے، ان کے والدین کے کپڑے یا کم از کم والدہ کا دوپٹہ اور والد کا تولیہ صافہ یا کندھے پر ڈالنے کا رومال اور غیر شادی شدہ بھائی بہنوں، بھتیجیوں  اوربھتیجوں وغیرہ کے لیے تحائف جیسے دوپٹے چوڑیاں مہندی رومال وغیرہ ہوتے تھے۔

ہم بہت بچپن سے دیکھتے آئے تھے کہ جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو دلہا یا دلہن کی بھتیجیوں، پھپھیوں ، بھابھیوں وغیرہ کو ان کے اپنے خاندان کی طرف سے بھی اور دوسری پارٹی کی طرف سے بھی ہر رسم میں یاد رکھا جاتا جیسے ہمارے ماموں یا خالہ کی شادی ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے  میری خالاوں،  ممانیوں اور میری ماموں زاد بہنوں کے لیے جوڑے/ دوپٹے، چوڑیاں اور مہندی وغیرہ بھات یا نیگ میں ضرور آتے۔ اور مہندی مایوں کی رسومات میں جو پیسے جمع ہوتے ان میں سے بھی حصہ ملتا اورہماری ماموں زاد کزنز ہمارے سامنے اترا اترا کر ان چوڑیوں کی نمائش کرتیں۔ جوڑا سی کر شادی میں پہن لیتیں، شادی کی رسموں میں بھی انہیں آگے آگے رکھا جاتا۔

Tuesday, December 23, 2025

نورِ جہاں: سرورِ جہاں

نور جہاں کی برسی کے موقع پر ایک خراج تحسین 

نورجہاں کی آواز کے کئی ورژنز ہیں

ایک بے بی نورجہاں کی آواز جو پاکستان بننے سے پہلے کی فلموں میں سنائی دیتی ہے۔
"آجا ،، آجا، آجا میری برباد محبت کے سہارے
ہے کون جو بگڑی ہوئی تقدیر سنوارے"


Tuesday, December 16, 2025

مشرقی پاکستان پر دو ناول

اللہ میگھ دے : طارق محمود

طارق محمود ایک بیوروکریٹ تھے۔ انہیں تعلیم اور افسری کے دوران کافی عرصہ مشرقی پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا۔ ان کی بائیوگرافی بھی کافی دلچسپ ہے۔ عامر خاکوانی صاحب ان کی بائیوگرافی کے کچھ حصے اپنی وال پہ شئیر کررہے ہیں۔ ان ہی کے ایک کالم سے اس ناول کا سراغ ملا تھا۔

Thursday, November 20, 2025

اخبارات میں بچوں کے صفحات


فاطمہ کو جنگ کا بچوں کا صفحہ بہت پسند تھا جنگ کے بچوں کے ایڈیشن میں آدھے صفحے پر چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہوتیں, اور بقیہ آدھے صفحے پر مختلف سرگرمیاں اور گیمز جیسے کہ کچھ پزل ٹائپ چیزیں , فرق تلاش کیجیے, نقطے ملا کر رنگ بھریے, تصویروں کے حصوں پر نمبر ہوتے جنہیں پہلے جمع تفریق کر کے حل کرنا ہوتا پھر حل کیے حصوں میں جفت اعداد میں ایک رنگ, طاق میں دوسرارنگ , پہلیاں ہوتیں, لطیفے ہوتے۔ ہفتے کا اخبار کھولتے ہی آجاتی اور اپنا صفحہ لے کر بیٹھ جاتی ، سارا دن اسی میں لگی رہتی ۔

لیکن چند سال پہلے کاغذ کی کمی یا قیمت کی وجہ سے جنگ نے بچوں کا صفحہ بند کردیا۔ تین ہفتوں تک فاطمہ نے صبر کیا اور تین ہفتوں بعد اخبار میں بچوں کا صفحہ نہ دیکھ کر اسے جلال آگیا۔"ان کو پتا نہیں ہے میں یہ صفحہ پڑھتی تھی, کیوں بند کیا ہے۔ بچوں کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔"

Saturday, November 1, 2025

پاکستان کے 50 یادگار گیت؟

[یہ لسٹ اسلم ملک صاحب نے اپنی فیس بک پروفائل پر بی بی سی کے حوالے سے  پوسٹ کی تھی لیکن ہماری رائے ہے کہ یہ لسٹ نامکمل ہے  اس کا عنوان پچاس نہیں ہزار یادگار پاکستانی گیت ہونا چاہیے تھا ہم نے اپنی یادداشت کے سہارے اس تحریر کے آخر میں یادگار گیتوں کی لسٹ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ آپ بھی کمنٹس میں ایسے پاکستانی گیتوں کا اضافہ کرسکتے ہیں جو مختلف ادوار میں زبان زد عام رہے ہیں۔]
-------------------------------------

بی بی سی نے 2021 میں مختلف ادوار میں مقبول 50 پاکستانی گانوں کی فہرست مرتب کی، جن کی مدد سے یادداشت کھودینے کے مرض ڈیمینشیا سے متاثرہ افراد کی یادیں تازہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ یہ الزائمرز کے عالمی دن پر ڈیمینشیا کا شکار افراد کے لیے بی بی سی اردو کا تحفہ ہے.

بی بی سی اردو نے اپنے قارئین، موسیقی سے وابستہ افراد اور صحافیوں کی مدد سے ایسے 50 گانے جمع کیے ہیں جو ایک عالمی پلے لسٹ کا حصہ ہوں گے جنھیں بی بی سی ورلڈ سروس ’میوزک میموریز پراجیکٹ‘ کے لیے تیار کیا گیا.
بی بی سی اُردو کی میوزک میموریز پلے لسٹ میں مندرجہ ذیل گانے، نغمے، غزلیں اور دھنیں شامل ہیں. یہ فہرست کسی مخصوص ترتیب میں نہیں...

نور جہاں: چاندنی راتیں،
مجھ سے پہلی سی محبت،
سانوں نہر والے پُل تے بلا کے

نصرت فتح علی خان: دم مست قلندر،
یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے

Sunday, September 15, 2024

کبھی میں کبھی تم : ایک ہاف وے تبصرہ

ونس اپون اے لائف ٹائم ایک پی ٹی وی ہوتا تھا۔ جس پر ایک دن میں ایک ہی ڈرامہ آتا تھا اور وہ ڈرامہ پورےگھر والے مل کر ایک ساتھ دیکھتے تھے۔ہم ڈرامےسے ایسے کنیکٹ ہوجاتےتھے کہ ڈرامے کے ہر موڑ سے ہماری خوشی اور اداسی جڑی ہوتی تھی۔ ڈرامے کے خوشگوار موڑ پر مل کر خوش ہوتے تھے تو کسی غلط موڑ پر سب ایک ساتھ غم زدہ بھی ہوجاتے تھے۔

یاد کریں ان کہی میں جب فراز ثنا کو تیمور کے گھرچھوڑ کر واپس آجاتا ہے تو ایک لمحے کے لیے ہم سب کے دل رک گئے تھے کہ اب ثنا کیا فیصلہ کرے گی۔ اور جب ثنا فراز کی طرف واپس لوٹ آتی ہے تو ہم ظاہر کریں نہ کریں تیمور کے لیے افسردہ ہونے کے باوجود ہم سب خوش ہوئے تھے کہ فراز جیسے ہنس مکھ لڑکے کا دل ٹوٹنے سے بچ گیا۔ ❤️
تنہائیاں میں جب ہمیں زین کی منگیتر کا علم ہوا اور جب زارا نے اس منحوس مارے سعد سلمان سے منگنی کر لی تھی ہم سب کا دل کتنا خراب ہوا تھا اور جب وہ منگنی ختم ہوگئی تو ہم ایسے خوش ہوگئے تھے جیسے ہمارے من کی مراد پوری ہوگئی ہو۔❤️
دھوپ کنارے میں ڈاکٹر احمر اور اور ڈاکٹر زویا کے درمیان ناچاقی نے ہمیں کتنا دکھی کیا تھا اور جب ڈاکٹر احمر کی ملک سے باہر جاتے جاتے اپنے پرانے گھر پہ زویا سے ملاقات ہوجاتی ہے ، ہائے وہ لمحہ ،، کیسےدل میں سکون اترا تھا۔ ❤️

سیم وہی فیلنگ وہی کنیکشن ہمیں پچھلے ہفتے فیل ہوا جب شرجینہ اور مصطفیٰ کے درمیان ایک جھڑپ کے بعد شرجینہ گھر چھوڑ گئی، ہائے دل ہی ٹوٹ گیا جیسے 💔 اتنے پیارے لوگ اور ایک دوسرےسے ایسے خفا۔ ایک ہفتہ بے کلی میں گزرا کہ آگے کیا ہوگا ، ان کی صلح ہوگی یا نہیں ہوگی ۔ اور جب مصفیٰ اور شرجینہ کے درمیان غلط فہمیوں کی دھند چھٹ گئی تو جیسے ہمارے دل سے بھی ایک بوجھ ہٹ گیا ہو
❤️❤️‍🩹


Monday, September 19, 2022

ٹرانس جینڈر [پروٹیکشن آف رائٹس] ایکٹ 2018 : قانون اور اعتراضات

نوٹ: یہ مضمون ٹرانس جینڈر ایکٹ کے حق میں ہے، آپ اگر آنکھیں بند کرکے مخالفت کرنے کے عادی ہیں تو نہ ہی پڑھیں

آج کل سوشل میڈیا پر ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے خلاف ایک طوفان برپا ہے۔ مذہبی رحجان رکھنے والی سیاسی پارٹیاں اور ان سے متاثر افراد دھڑا دھڑ جینڈر ایکٹ کے خلاف پوسٹیں کر رہے ہیں لہذہ میں نے ضروری سمجھا کہ میں پہلے ٹرانس جینڈرایکٹ کو پڑھ ڈالوں کہ ایسا اس میں کیا ہے جس پر اتنا شور و غوغا ہے۔ جماعت اسلامی اس ایکٹ میں ترمیم کی خواہاں ہے۔ اس پوسٹ کے آخر میں اس ایکٹ کا اردو میں خلاصہ بھی دیا گیا ہے ساتھ کمنٹ میں لنک بھی ہے جو چاہے وہ جا کر قومی اسمبلی کی ویب سائٹ سے اس ایکٹ کا پورا متن ڈاونلوڈ کر کے خود پڑھ سکتا ہے۔

Wednesday, November 25, 2020

ہم اور ہماری عزت

جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ میں سیکس نارمز کا جائزہ 


حال ہی میں اردو ادب کے تین شاہکار ناول جانگلوس، اداس نسلیں اور نادار لوگ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پڑھ کر دل دہل گیا۔ فیض صاحب نے درست کہا تھا کہ مجھے اندیشہ ہے یہ ملک کہیں یوں ہی نہ چلتا رہے۔ تینوں ناولز ہماری سیاسی، سماجی، اخلاقی اور معاشی کرپشن کی مستند تاریخ ہوں جیسے۔ ستر پچھتر سال میں چہرے بدلے ہیں صرف اور کچھ نہیں بدلا۔ ناولز کی ادبی ساکھ پر تو بہت سے لکھاریوں نے بہت کچھ لکھا ہوگا اور ہماری یہ اوقات نہیں کہ ان ناولز کی ادبی حیثیت پر تبصرہ کرسکیں۔ 

لیکن ایک پہلو جس پر شاید اس سے پہلے کسی نے توجہ نہیں دی وہ ہے ان ناولز میں پیش کردہ سیکس نارمز ۔ اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ناولز باوجود فکشن ہونے کے ہمارے معاشرے کی نارمز یا معمولات کا ہی عکس ہوتے ہیں۔ گویا یہ روئیے کسی معاشرے میں اس دور میں موجود ہوتے ہیں جس دور میں یہ ناول لکھا گیا یہ جس دور کے بارے میں لکھا گیا تب ہی تو انہیں ناول یا افسانے میں عکس کیا جاتا ہے۔ 

Thursday, May 28, 2020

ابھی تو میں جوان ہوں


ہم پاکستان کی سب سے اونچی جھیل رش لیک کا ٹریک کر کے آئے، ہمارے ساتھ ایک بارہ سال کا بچہ اور دو خواتین 60 سال سے اوپر بھی تھیں اور ہم بہت فخر سے ان تینوں کو ہر فورم پر پیش کرتے تھے کہ یہ تینوں ہمارے اسٹار ٹریکرز ہیں۔ یاد رہے کہ رش لیک ٹریک پاکستان کے شمال میں مشکل ترین ٹریکس میں سے ایک ہے، اور اتنا مشکل تو ہے کہ ابھی تک مستنصر حسین تارڑ اس جھیل تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ لہذہ یہ ہمارے لیے بڑے ہی اعزاز کی بات تھی کہ ہماری ٹیم میں اتنا ینگ بچہ اور سکسٹی پلس خواتین اتنی فٹ تھیں کہ انہوں نے یہ ٹریک کر لیا۔ ہماری ٹریک لیڈر نے کسی فورم پر ان تینوں کے بارے میں تعارفی اور تعریفی پوسٹ لگائی، اینڈ بینگ 💣 ۔۔ یہ کیا ۔ ان میں سے ایک خاتون خفا ہوگئیں آپ نے میری عمر 63 لکھ دی جبکہ میں ابھی 62 کی ہوں  😂

Monday, May 25, 2020

مہندی


عید اور مہندی لازم و ملزوم ہیں۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ مہندی ارتقاء کی کتنی منزلوں سے گزر آئی ہے۔ ہوش سنبھالا تو چاند رات پر اماں سیدھی سادی مہندی لگا کر مٹھی بند کر کے اوپر سے کپڑا لپیٹ دیتی تھیں۔ صبح اٹھ کر خشک مہندی جھاڑ کر پہلے چنبیلی کا تیل ہتھیلیوں پر لگاتے پھر ایک دوسرے سے مہندی کا رنگ میچ کرتے کہ کس کے ہاتھ پر زیادہ گہری مہندی رچی ہے۔مہندی کا رنگ تیز کرنے کے لیے کبھی اس میں چائے کا پانی ملاتے، کبھی لونگیں پیس کر، کبھی چینی پانی میں گھول کر مہندی پر لگاتے۔  پر سارے جتن کرنے کے بعد بھی ہمیشہ اماں کے ہاتھ پر ہی مہندی کا رنگ سب سے گہرا ہوتا تھا۔ 

Wednesday, May 13, 2020

Money Heist

کیا آپ نے کسی کو قرض دے رکھا ہے اور اب اس امید پر بیٹھے ہیں کہ یہ رقم آپ کو واپس بھی ملے گی تو سب سے پہلے تو یہ نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی بندہ قرضہ واپس کرنے کی نیت سے نہیں مانگتا۔ کسی ایک بندے کی نیت بھی آپ کے پیسے واپس کرنے کی نہیں ہوتی۔ لہذہ اگر کوئی آپ سے پیسے ادھار مانگتا ہے تو یا تو آپ اسے صاف انکار کردیں۔ کیونکہ ادھار دینے کے بعد بندہ اور رقم دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں۔ لہذہ رقم بچائیے برے وقت میں آپ کے اپنے کام آئے گی بندہ تو رقم لے کر بھی بھاگ ہی جانا ہے تو بہتر ہے اسے بھاگ ہی جانے دیں۔ 

Friday, March 20, 2020

Tourism in Sindh and Baluchistan

A Few Humble Suggestions

Being a die hard supporter of promotion of tourism in Southern Pakistan that is Sindh and Baluchistan, and a well traveled person in the region, I believe that South is more diverse than North of Pakistan in terms of tourism that is under explored. South has Sea, Rivers, Lakes, Dams, Islands, Volcanoes, Mountains, Waterfalls, Deserts, Historical and Archaeological sites, Necropolises, Forts, English era and Pakistan movement sites, Religious spots, Sufi Shrines, Folk tales sites, Natural wonders and so on.

Photo Credits & Copy Rights: Writer

Wednesday, March 11, 2020

میرا جسم میری مرضی

میں کیوں اس نعرے کی حمایت کرتی ہوں


میں زندگی کی پانچ دہائیاں مکمل کرنے کے قریب ہوں، میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جو نہ بہت زیادہ مذہبی تھا نہ بہت زیادہ آزاد خیال۔ ننھیال میں تعلیم کا رحجان کم تھا لیکن ددھیال میں تعلیم کی کمی نہ تھی۔ دادا، تایا، ابا، چچا بالترتیب، پرنسپل،پروفیسر، ہائی اسکول ٹیچر اور پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔ اور اکلوتی پھپھو ساٹھ یا ستر کی دہائی میں کراچی یونیورسٹی میں ہاسٹل میں رہ کر لائبریری سائنس میں ماسٹرز کرچکی تھیں۔بعد ازاں وہ پاکستان نیوی کی سینٹرل لائبریری میں لائبریرین مقرر ہوئیں۔ سب سے چھوٹے چچا انجینئر بنے۔

Friday, June 14, 2019

K-2 | Coz THEY are There - VIII

 پائیو کیمپ سائیٹ


پائیو کیمپ سائیٹ ایک کاروان سرائے ہے۔ روز صبح نو بجے سے کوئی نہ کوئی گروپ اپ یا ڈاؤن ٹریک پائیو پہنچتا ہے جسے پہلے سے مقیم لوگ ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ یہ بھی آگئے ہیں حصہ بٹانے کو اور نوواردان سوچتے ہیں کہ ہیں یہاں یہ بھی ہیں پہلے سے۔ یہ کیوں ہیں، یہاں پرائیویسی کیوں نہیں۔ اور ہر روز تڑکے ان میں سے چند گروپ آگے یا پیچھے روانہ ہوجاتے ہیں۔ عموماً آگے کیونکہ اردوکس سے واپس ہونے والے یہاں ٹھہرے بغیر جھولا چلے جاتے ہیں۔

K-2 | Coz THEY are There - VII

ڈے تھری: جھولہ ٹو پائیو

(صبح ساڑھے پانچ بجے سے سہ پہر تین بجے )

بالتورو گلیشیر سے نکلنے والا دریا گائیڈ کے مطابق دریائے سندھ ہے لیکن مقامی نام شیوک ہے۔ لیکن نام سے کیا ہوتا ہے۔ سندھ ہو یا شیوک اگر آپ اس میں ڈبکی کھا گئے تو اس نے آپ کو کھا جانا ہے۔ جھولا سے ناشتہ کر کے ہم نے دریا کا کنارہ پکڑ لیا۔ ٹریک دریا کے کنارے کنارے کبھی اوپر کبھی نیچے۔ کبھی لب دریا، کبھی پرے دریا۔کبھی دریا کے بیڈ میں، کبھی پہاڑ کے اوپر، کبھی جھاڑیوں میں۔
فرخ نالہ پار کرتے ہوئے

Thursday, June 13, 2019

K-2 | Coz THEY are There - VI

جھولہ کیمپ سائیٹ

ہم اشکولے سے صبح 7:30 پر چلے اور ساڑھے تین بجے جھولہ پہنچے، جبکہ باقی سارے ہم سے پہلے 12 بجے ہی جھولہ پہنچ چکے تھے۔ جھولہ کیمپ سائیٹ دریا کے دوسری جانب ہے، اشکولے سے آنے والا ٹریک دریا کے اس طرف ہے ، آپ جب اس موڑ پر پہنچتے ہیں جہاں سامنے جھولا کیمپ سائیٹ نظر آرہی ہوتی ہے تو دل کو بڑی تسلی ملتی ہے کہ بس جی کیمپ سائیٹ آگئی۔ لیکن اس کیمپ سائیٹ تک پہنچنے کے لیے آپ کو تقریباً تین چار کلومیٹر کا چکر لگا کر دریا پر بنے برج پر سے یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ تب کہیں جاکر کیمپ سائیٹ پہنچتے ہیں۔ کیمپ سائیٹ اشکولے سے کچھ بہتر ہے۔ باتھ روم اور واش رومز بھی بنے ہوئے ہیں۔ 
جھولہ کیمپ سائیٹ پچھلی طرف سے

K-2 | Coz THEY are There - IV

اشکولے کیمپ سائیٹ

ڈے ون: 
[ایکچوئلی نائیٹ ون۔ کیونکہ ہم مغرب کے وقت اشکولے پہنچے تھے۔ پہلا دن تو جیپ کے سفر میں گزرا تھا۔ جس کی روداد ابھی قلمبند ہونی باقی ہے۔]

ہمارا خیال تھا کہ ہم اسکردو سے نکلیں گے اور بس کھلی ہوا میں کیمپنگ شروع ہوجائے گی۔ اشکولے کیمپ سائیٹ کے بارے میں ہمیں گمان تھا کہ یہ ایک اوپن ائیر کیمپ سائیٹ ہوگی جہاں ہم صبح اٹھ کر اپنے خیمے کا دروازہ کھولیں گے تو برف پوش چوٹیاں سیدھی ہمیں سلامی دینے ہمارے ٹینٹ میں گھسی چلی آئیں گی۔
اشکولے کیمپ سائیٹ اگلی صبح کچن ٹینٹ

Wednesday, June 12, 2019

K-2 | Coz THEY are There - II

Almost Solo

تقریباً سولو ٹریکر یعنی بولے تو گروپ میں اکلوتی ہیروئین

"فرخ ٹرپ میں کوئی اور خاتون ہے؟ میں آل بوائز کمپنی میں نہیں جاتی کم از کم ایک خاتون اور ہونی چاہیے"

"جی دو خواتین ہیں۔ ایک میاں بیوی ہیں اور ایک خاتون اور ہیں "

اور ہم بے فکری سے تیاری میں مگن ہوگئے ۔ پر اللہ میاں جانے کیا سوچ کے بیٹھے تھے وہ جوڑا تو کہیں اور چلا گیا اور خاتون ٹرپ سے دو دن پہلے حسب عادت مکر گئیں۔ فرخ نے مجھے بتایا ہماری تو سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ ہم فرخ کو عین وقت پر انکار نہیں کرسکتے تھے اور آل بوائز کمپنی کے ساتھ جانا 😈۔ اور اللہ میاں " ہن پتا چلا "


K-2 | Coz THEY are There - I

فرخ نامہ

ہر طرف سے جو مجھ پر سفر نامہ لکھنے کا دباؤ ہے، سارے سن لیں کہ وہ اصل میں فرخ نامہ ہوگا۔ بعد میں شکایت نہ کریں، ہاں۔

تو پیش ہے سفر نامے کا پیش لفظ یعنی فرخ نامہ۔ فرخ کو میں تھوڑا تھوڑا جانتی تھی کیونکہ وہ ایک بند شخصیت ہے اور میرا اس کا رشتہ پہلے روز سے احترام کا ہے کیونکہ روز اول سے ہی اس نے مجھے آپا کہہ کر پکاراتھا، اس کی سنجیدگی کی وجہ سے اس کے کافی رعب میں بھی تھی۔

جانے سے پہلے میں کافی جز بز تھی کہ ہائے میری تصویریں کون کھینچے گا، 20/22 لوگوں کے گروپ میں آپ کے آسے پاسے 8/10 افراد تو ہوتے ہیں جو خود اپنی اور دوسروں کی کارٹونی پکچرز لے رہے ہوتے ہیں تو آپ بھی انہیں منہ پھاڑ کے اور پوز مار کے کہہ دیتے ہیں کہ ذرا میری فوٹو بھی کھچ اوئے۔