Showing posts with label Sociograph. Show all posts
Showing posts with label Sociograph. Show all posts

Thursday, July 20, 2017

الف لیلہٰ


الف لیلہٰ و لیلہٰ یا ہزار داستان نامی کتاب کا دنیا بھر میں شہرہ ہے، وکی پیڈیا کے مطابق یہ مجموعہ قصائص دراصل عرب، عجم، فارس اور اطراف کے ممالک کی فوک ٹیلز یا لوک داستانوں کا مجموعہ ہے جن کا تانا بانا  شہزادہ شہریار اور شہرزاد کی مرکزی کہانی سے منسلک ہے جسے فارسی کی داستان "ہزار افسان" سے مستعار لیا گیا ہے ۔ ان داستانوں کا کوئی ایک مصنف نہیں۔ مختلف ممالک میں اس کے مختلف ورژنز پائے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ علی بابا چالیس چور، الہ دین کا چراغ اور سند باد جہازی کے سفر اوریجنل الف لیلیٰ کا حصہ نہیں تھے، انہیں بعد میں کتاب کے مغربی ایڈیٹرز نے شامل داستان کیا۔ اس طرح  عربین نائیٹس کے نام سے اسکا انگریزی ترجمہ اسے شہرت کی مزید بلندیوں پر پہنچا گیا۔ اس کتاب یا داستان کو دنیا بھر میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے

Monday, June 26, 2017

نمل از نمرہ احمد


تقریباً 1500 صفحات کا ناول پڑھنا مذاق نہیں ہے۔ اور یہ کارنامہ ہم انجام دے چکے ہیں تو اب آپ کو اس پر ری ویو بھی پڑھنا پڑے گا۔ 

ایک تو ناول کے سارے ہی کردار بلیک میلر ہیں۔ چاہے وہ ہیرو پارٹی سے ہوں یا ولن پارٹی سے یا پھر تھرڈ پارٹی سے۔ سب کے سب کمپیوٹر و ہیکنگ کے ماہر ہیں، سب کے سب انتہائی طاقتور ، بااثر اور روابط والے جن کے اندرون ملک اور بیرون ملک نیٹ ورکس پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین ڈیجٹل گیجٹس کی لائن لگی ہے، اس لیے دروازوں اور ہتھکڑیوں کے لاکس کھولنا، ایک دوسرے کا ای میل ہیک کرنا، موبائلز بگ کرنا، جام کرنا اور اسکی لوکیشن کو کلون کرنا ، ایک دوسرے کا کرمنل ماضی چھان ڈالنا اور یک دوسرے کی خفیہ ویڈیوز بنانا ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

Saturday, June 24, 2017

آیا ہے بلاوہ مجھے دربارِ نبی سے

رمضان نشریات میں خاتون عمرے کا ٹکٹ ہاتھ میں لیے خوشی کے آنسو پوچھ رہی تھیں۔ میزبان انہیں مبارک باد دے رہا تھا اور بیک گراؤنڈ میں نعت خوانوں کا پینل لہک لہک کر 

آیا ہے بلاوہ مجھے دربار نبی سے
پڑھ رہا تھا۔


Sunday, April 23, 2017

ہاتھ اور شرٹ

دفتر کے راستے میں میری گاڑی کے برابر سے ایک موٹر سائکل گزری جس پر ایک جوڑا براجمان تھا۔ ایک پل کے لیے میری نظر ادھر گئی۔ خاتون کا دایاں ہاتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صاحب کے زانو پر پشت کے بل ایسے دھرا تھا جیسے ان کے ہاتھ سے صاحب کی قمیص بے دھیانی میں  نکل گئی ہو۔ بس ایک لمحے میں یہ منظر آنکھ سے اوجھل ہوگیا لیکن وہ ہاتھ آج بھی میرے دھیان میں ویسے ہی وہیں دھرا ہے۔ 


Friday, March 24, 2017

حوالوں کی کتاب



اختر بلوچ کی کتاب "کرانچی والا" ان کے ڈان ڈاٹ کام پر شایع شدہ منتخب بلاگز پر مشتمل کتاب ہے جن میں زیادہ تر کراچی شہر، شہر کی تاریخ، کراچی سے منسلک تاریخی شخصیات اور شہر کی عمارات اور مقامات پر ان کی تحقیق و تلاش کے تذکرہ جات شامل ہیں۔  کتاب کیا ہے کراچی کی ابتداء اور ابتدائی پاکستان کی سوانح حیات ہے کیونکہ پاکستان کی ابتداء میں کراچی ہی ملک کا دارالخلافہ تھا لہذہ تمام سیاسی او سماجی سازشیں بھی کراچی میں ہی تیار اور عمل پذیر ہوتی تھیں۔ 

Monday, March 13, 2017

پاکستان چوک: اِک آغازِ نو

فوٹو آف دی ڈے

ہم وہاں جاکر کیا کریں گے؟

یہ وہ سوال تھا جو باری باری ہماری تینوں ہمراہیوں نے پہلے خود سے، پھر ایک دوسرے سے اور فائنلی ہم سے کیا کہ ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں۔ ہمیں تو خود نہیں معلوم تھا کہ  ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں ، سو ہم نے کہا ہم یہی تو معلوم کرنے جارہے ہیں کہ ہم وہاں کیا کرنے جارہے ہیں, یہ وہیں جا کر پتا چلے گا ۔

Wednesday, February 1, 2017

My Father's Notebook: Kader Abdolah

ایران کے سیاسی پس منظر میں لکھا ہوا ناول جس میں ایک گونگے بہرے شخص کی کہانی اسکے بیٹے کی زبانی بیان کی گئی ہے۔ یہ گونگا بہرا انسان پڑھنا لکھنا نہیں جانتا تھا لیکن ایک علاماتی خود ساختہ زبان میں اپنے خیالات ایک نوٹ بک میں قلمبند کرتا رہتا تھا۔ اس شخص کو غالباً عوام سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جسے شہنشایت اور اسلامی انقلاب دونوں نے ہی نقصان پہنچایا لیکن وہ صمً بکمً ہر دو کو اپنا نجات دہندہ سمجھتا رہا اور اپنی دکان میں باری باری پہلے شاہ اور پھر خمینی کی تصویر ٹانگتا رہا۔

Wednesday, January 25, 2017

چرس

چرس صرف ایک "چرس" ہی تو نہیں ہوتی۔ پتا نہیں کتنی ساری قسم کی چرسیں بندے کو زندگی کے مختلف ادوار میں خوار کرتی ہیں۔ ہم بھی پرانے چرسی ہیں۔ سب سے پہلی چرس جو یاد ہے وہ چند صفحات پر مشتمل مختصر سائز کی ٹارزن کی کہانیاں اور عمران سیریز تھیں۔ نیا نیا پڑھنا آیا تھا ، محلے کے لڑکوں سے لے لے کر خوب پڑھے ،عمران سیریز پڑھتے ہوئے تو ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے۔ اس دور کی لڑکیاں پتا نہیں کیا کرتی تھیں۔ ہماری لڑکیوں سے کبھی نہیں بنی۔

Monday, December 12, 2016

یونیورسل کوکنگ ریسیپی

برائے سنگلز/ ہوسٹلرز/ پردیسیاں 


ان تینوں مظلوم کیٹیگریز کے خواتین و حضرات وسائل اور وقت کی کمی کے ساتھ ساتھ حسب توقیق پھوہڑ بھی ہوتے ہیں، اس پر ستم یہ کہ بھوک میں کھانا پکانا بھی خود پڑتا ہے اورجو کچھ بن جائے اسے کھانا بھی۔ اور یہ دوسرا عمل خاصا دل گردے کا کام ہے۔ اس لیے زیادہ تر جنک فوڈ سے پیٹ بھرنا پڑتا ہے۔ جو پیٹ اور جیب دونوں پر بھاری پڑتاہے۔

 ہم پر یہ وقت گزر چکا ہے۔ پہلے پہل تو گھر سے لائی ہوئی میگی سے کام چلایا گیا، لیکن کب تک، وہ مُک گئیں، پھر عربی ذائقوں والی میگی کو حلق سے اتارنا مشکل، مرتا کیا نہ کرتا، جیسے تیسے خود پکانا شروع کیا۔ اور تین سال کے بن باس کے بعد ایک عدد یونی ورسل ریسیپی وجود میں آئی جس سے ہر قسم کا کھانا بنایا جاسکتا ہے، خواہ دال ہو، سبزی ہو یا گوشت، اور حسب موقع معمولی تبدیلی سے پردیسی کھانوں کا بھی مزہ لیا جاسکتا ہے۔

تو ناظرین آج ہم آپ کو  کھانا پکانے کی ایک یونی ورسل ترکیب سکھائیں گے۔ یعنی ایک ایسی ترکیب جس کی مدد سے آپ جب جب،  جو جو پکانا چاہیں باآسانی پکا لیں۔

Wednesday, November 30, 2016

عزت و بے عزتی کے معیارات

صابن کا اشتہار:

ایک نوجوان خاتون، کاندھے سے نیچے ڈھلکتے ہوئے لباس میں ایک نوجوان مرد کو Seduce کر رہی ہیں اور مشتہر یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ لکس سے غسل فرمائیں گی تو آپ کا شوہر یا بوائے فرینڈ آپ کے جسمانی قرب کے لیے پاگل ہوجائے گا۔ 

دوسرے اشتہار میں ایک اور خاتون اپنے برہنہ شانوں پر صابن کا پردہ ڈالے شاور میں کھڑی پتا نہیں خواتین کو یا حضرات کو مطلوبہ صابن سے غسل پر آمادہ کر رہی ہیں۔

ملک و قوم و نظریہ پاکستان کے ذمہ داران سورہے ہیں۔

Tuesday, November 29, 2016

روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں


حال دل رو برو سنانے کا جو لطف ہے اس کا تو کوئی بدل ہی نہیں لیکن ہر ایک کو یہ سہولت میسر نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر ایک میں دل کی بات رو برو کہہ دینے کی جرات ہوتی ہے اسی لیے خط لکھنے کی روایت پڑی ہوگی۔ ویسے بھی رو برو بات کہنے میں یہ بھی امکان رہتا ہے کہ اگلا آپ کی بات کاٹ کر اپنی رام کہانی شروع کردے اور آپ کی بات درمیان میں ہی کہیں رہ جائے۔

اردو شاعری سے اگر"نامہ بر" کو نکال دیں توایسی وارداتوں کے امکانات ایسے ہی 50 فیصد  کم ہوجاتے ہیں جن پر  اردو شاعری کی پوری عمارت کھڑی ہے۔   عاشقان اپنے  محبوبان کو دل کا حال سنانے کے لیے خط کا سہارا لیا کرتے تھے، کبھی خون دل سے خط لکھے جاتے، ایک کونے پر دل میں پیوست تیر سجائے جاتے اور پھر کبوتروں کونامہ بر بنایا جاتا۔ خط کبوتر کے حوالے کر کے اسکے منزل مقصود پر پہنچنے کی دعائیں بھی مانگا کرتے:

Tuesday, November 1, 2016

ذہنی ارتقاء اور سماجی روئیے

میری پانچ سالہ بھتیجی فاطمہ ہر ٹرپ پر دورانِ سفر میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھتی ہے, اور بے دھیانی میں یا جان بوجھ کر میرے پیر سے پیر ٹکراتی رہتی ہے .. میں اس کی ٹکروں سے بچنے کے لیے اپنے پیر دائیں بائیں شفٹ کرتی رہتی ہوں اور وہ بے دھیانی میں بھی اپنے پیر ادھر ادھر گھما پھرا کر پھر میرے پیروں پر رکھ دیتی ہے۔

یہ آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ میں تنگ آجاتی ہوں اور ذرا چڑ کر اسے اپنے پیر سنبھالنے کو کہتی ہوں۔  تھوڑی دیر وہ خیال کرتی ہے لیکن کچھ ہی دیر میں پھر اس کے پیر میرے پیروں پر ہوتے ہیں۔

Monday, October 24, 2016

خواہشمندگان فیس بک فرینڈ شپ کی خدمت میں

اس پر تو کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہم یعنی کہ ہم اپنی فیس بک پروفائل پر "دوست" بننے کے امیدواروں سے تنگ آئے ہوئے ہیں، اور اکثر و بیشترفرینڈ رکویسٹ بھیجنے والوں یا ان باکس میں ایڈ کرنے کی درخواستوں اور دھمکیاں بھیجنے والوں کی شان میں کھلے عام گستاخانہ و طنزیہ اظہار رائے کرتے رہتے ہیں۔ 

Thursday, July 28, 2016

امید کی کرن

امید کی ایک کرن: تھر پارکر میں آنسو کوہلی کا اسکول
فوٹو کریڈٹ: ایکسپریس ٹریبیون
حال ہی میں عالمی یوم آبادی کے حوالے سے اپنے محکمے کے لیے 13 سے 19 سال تک کی بچیوں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ اس سال عالمی یوم آبادی کا عنوان نو عمر بچیوں کی حمایت کرنا اور ان کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا ہے۔ جس کی مناسبت سے اقوام متحدہ کے آبادی سے متعقلہ ادارے UNFPA نے نو عمر بچیوں کی ضروریات جاننے کے حوالے سے نو عمر بچیو ں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا ، جس کا مقصدبچیوں کے لیے کسی قسم کے اقدامات کرنے سے پہلے خود بچیوں سے معلوم کیا جائے کہ وہ کیا چاہتی ہیں، ان کی ضروریات کیا ہیں اور مستقبل کے حوالے سے ان کے کیا خواب ہیں اور وہ اپنے والدین یا سرپرستوں سے کیا امید رکھتی ہیں۔

ان انٹرویوز میں ان بچیوں سے تین سوالات کئے گئے۔

Sunday, July 17, 2016

خرد کا نام جنوں

ہمارے معاشرے میں خاص کر شہری معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کا الزام خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر رکھ دیا جاتا ہے۔ 

خوب ۔

شادی ایک سماجی معاہدہ ہے۔ اور معاہدے دو یا زائد فریقوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں ورنہ وہ معاہدے نہیں سمجھوتے کہلاتے ہیں۔ لہذہ شادی بھی ایک ایسا ہی معاہدہ ہے جو ایک مرد اور ایک خاتون کے درمیان برابری کی بنیاد پر طے ہوتا ہے اور اسے برابری کی بنیاد پر ہی جاری رہنا چاہیے۔ لیکن برصغیر خصوصاً پاکستانی معاشرے میں یہ معاہدہ شاذ و نادر ہی برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہاں شادی دراصل شوہر کی ہوتی ہے۔

یہ ایک یک طرفہ معاہدہ ہوتا ہے جس میں دوسرے فریق کا کام صرف پہلے فریق کا حکم بجالانا فرض کرلیا جاتا ہے۔ دوسرا فریق یعنی بیوی پہلے فریق یعنی شوہر کی مرضی کے مطابق سانس لے گی، اس کے خاندان کی خدمت بجا لائے گی۔ اسکی جنسی ضروریات اسکی مرضی اور فریکوئنسی کے مطابق پوری کرے گی، اسکی اجازت سے لوگوں سے میل ملاقات کرے گی، اسکی مرضی اور اجازت کے مطابق ملازمت کرے گی یا نہیں کرے گی۔ گویا اسکی اپنی کوئی شخصیت ، مرضی یا ضروریات نہیں ہیں۔

Wednesday, July 13, 2016

نو عمر بچیوں کی حمایت

عالمی یوم آبادی 2016 


دنیا بھر میں ہر سال 11 جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے۔ 11 جولائی 1987 کو دنیا کی آبادی 5 ارب ہوگئی تھی، جس کے بعد کرہ ارض کی بڑھتی ہوئی آبادی کے حوالے سے دنیا بھر کی  توجہ آبادی کے مسائل  پر مرکوز کرنے کے لیے ہر سال 11 جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے۔ ہر سال آبادی سے متعلق  کسی اہم موضوع کو اس سال کے لیے عالمی یوم آبادی کا عنوان منتخب کیا جاتا ہے۔ جیسے "غربت سے لڑیں، بیٹی کو تعلیم دیں" ، "مساوات تقویت دیتی ہے"، "آپ کی کیا ضروریات ہیں ، بولیں"، مردوں کی شمولیت"، اور تولیدی صحت کی سہولیات کی یکساں فراہمی" وغیرہ وغیرہ۔

اس سال عالمی یوم آبادی کا موضوع ہے Investing in Teenage Girls یعنی نوعمر بچیوں میں سرمایا کاری کرنا  یا دوسرے الفاظ میں نو عمر بچیوں کی حمایت کرنا، انہیں تقویت دینا۔  دنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے سات ارب (7.4)  ہوچکی ہے۔ جس میں نوجوانوں یعنی دس سال سے 24 سال تک کی آبادی 1.8 ارب یعنی تقریباً 25 فیصد ہے۔ اس میں سے کم و بیش 50 فیصد خواتین یا نو عمر بچیاں ہیں۔  اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (UNFPA) کے مطابق اس نو عمر آبادی کا ایک بڑا حصہ (90 فیصد) ترقی پذیر ممالک میں مقیم ہے۔ جس میں ایشیاء اور افریقہ کے ممالک شامل ہیں۔ اس وقت دنیا میں 17  ترقی پذیر ممالک ایسے ہیں جن کی 50 فیصد آبادی 18 سال سے کم عمر ہے۔

Wednesday, June 29, 2016

ایک اشتہار اور سو افسانے

تکنیکی اغلاط اور کمزوریوں کو چھوڑ کر مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس اشتہار پر اتنا رن کیوں برپا ہے۔ اور صرف حضرات کو ہی اس میں کیوں فحاشی نظر آرہی ہے، خواتین کو کیوں نہیں نظر آرہی، کیا اس لیے کہ خواتین فحش نہیں ہوتیں یا فحاشی بھی خوبصورتی کی طرح دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے۔ 

مجھے تو اس اشتہار سے یہ سمجھ آتا ہے کہ اب پاکستانی خواتین بھی وہ کارنامے انجام دے سکتی ہیں جن کے میدان اب تک صرف مردوں کے زیر تصرف تھے۔ اور یہ کارنامے خواتین پہلے سے انجام دے رہی ہیں، پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم الحمداللہ مردوں کی موجودہ ٹیم سے بہتر کھیل پیش کر رہی ہے اور جیت رہی ہے۔ اگر خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے تو کرکٹ ٹیم بنانے پر اعتراض کرنا تھا اشتہار پر کیوں، اشتہار تو محض اس ٹیم کا ایک ڈپلی کیٹ ہے، کرکٹ سے ہٹ کر ایک پاکستانی خاتون دنیا کے ہر براعظم کی بلند ترین چوٹی سر کر کے آئی ہے، ایک خاتون نے دو آسکر ایوارڈ جیتے ہیں۔ تو پھر مرد اس اشتہار سے کیوں خوفزدہ ہیں۔ 

Friday, May 13, 2016

ہم مڈل کلاسئیے

ایک تو ہم مڈل کلاسئے بھی ناں.. 


ایک ہوتی ہے ایلیٹ کلاس اور ایک ہوتی ہے غریب کلاس.. دونوں اپنے حال میں مست۔ اور مڈل کلاس سب کی فکرکم سن گن لینے میں گم

Saturday, April 16, 2016

ٹھِرک کے درجات

"لیول آف ٹھرک از ڈائریکٹ لی پروپورشنل ٹو دا ڈگری آف رسٹریکشنز آن جینڈرز' انٹرایکشن ان سوسائیٹی"

جہاں مرد و خواتین کے درمیان مصافحہ کرنے کی روایت ہے وہاں کوئی راہ چلتے کسی خاتون کو کاندھا نہیں مارتا، جہاں پبلک ٹرانسپورٹ میں مرد و خواتین کی سیٹوں کی تخصیص نہیں ہوتی وہاں کسی مرد کی انگلیوں میں خارش نہیں ہوتی, جہاں سر عام گلے ملنے اور اس کے بعد کے مراحل طے کرنے کی آزادی ہے وہاں برہنہ اور نیم برہنہ خواتین پر آنکھیں سینکنے والےعموماً ایشیاء سے ہوتے ہیں۔

Wednesday, March 30, 2016

شریک حیات

تین کہانیاں، ایک سبق

ایک خوش و خرم متوسط طبقے کا گھرانہ، ماں باپ اور ایک بیٹا جو ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھا۔ صاحب خانہ کسی پرائیویٹ فرم میں ملازم تھے، کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔ مزے سے زندگی گزر رہی تھی۔ اچانک ایک دن صاحب خانہ ہارٹ اٹیک سے چل بسے۔ مہینے کے آخری دن تھے تنخواہ بھی نہیں ملی تھی۔ 

سوئم والے دن مالک مکان فلیٹ خالی کرانے آگئے۔ بیوہ ہکا بکا، کہاں جائیں۔ سسرالی رشتہ داروں نے مہر بانی کی اور اپنے ساتھ لے گئے۔ پرائیویٹ ملازمت، تنخوہ بند، پنشن کوئی نہیں، خاتون خانہ کو کچھ علم نہ تھا کہ بنک اکاونٹ کس بنک میں ہے، اکاونٹ نمبر کیا ہے، اس میں کوئی بچت ہے یا نہیں، کہیں کوئی سرمایہ کاری کی ہے یا نہیں۔ شوہر نے کبھی ان معاملات میں بیوی کو شریک کیا ہی نہ تھا۔ چند لمحوں میں سب تبدیل ہوگیا۔ اب وہ اور بیٹا بغیر کسی معاشی سہارے کے سسرال والوں کی ذمہ داری بن گئے ہیں ۔