Showing posts with label Travelogue. Show all posts
Showing posts with label Travelogue. Show all posts

Wednesday, April 4, 2018

تھرپارکر سفاری

تھرپارکر کی مخصوص جھوپنڑی
ایک زمانے میں تھر پارکر ہمارا خواب تھا اور خواب کی طرح ہی کسی دودراز خوابناک سے مقام پر آباد تھا، ریت کے بگولوں کےپار ، پہنچ کی سرحدوں سے باہر۔ افواہیں تھیں کہ سڑکیں بہت خراب ہیں صرف فور بائی فور جاسکتی ہے۔ عام گاڑی نہیں جاسکتی۔ صحرہ ہے، سانپ اور دیگر جانور ہوتے ہیں۔ دیکھنے کا کچھ نہیں وہاں، ریت ہی ریت ہے لیکن ہمیں اتنا تو پتا تھا کہ وہاں پرانے مندر ہوتے ہیں، عمرکوٹ کا قلعہ ہوتا ہے جہاں عمر سومرو نے ماروی کو قید کر رکھا تھا اور عمر کوٹ میں ہی کہیں اکبر اعظم کی جائے پیدائش ہے اور سب سے بڑی بات کہ وہاں صحرہ ہے۔ ہمارے لیے  اصل کشش اور دیکھنے کی چیز تو صحرہ ہی تھا، "دین ایمان، سمندر، دریا، صحرہ، کوہستان" میں سے صحرہ نوردی ہی باقی رہ گئی تھی۔ لیکن صحرہ  پہنچ سے دور تھا۔ 

Saturday, March 31, 2018

سڑک کہانیاں

ایک نئی نویلی سیاہ چمک دار سڑک ایک نئے رومان کی طرح آپ کو اپنی طرف کھینچتی ہے کہ آؤ، میرے ساتھ اک نئے سفر پر چلو، نئی منزلوں کی طرف، چلو میں تمہیں نئی دنیاؤں کی سیر کراؤں۔ ایک استعمال شدہ اور جگہ جگہ سے ٹوٹی سڑک ایک تھکی ماندی، چڑچڑی ماں کی طرح ہوتی ہے جو سارا دن کڑ کڑ کرنے کے بعد رات کوڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ گرما گرم روٹی بھی دے دیتی ہے۔ یعنی جیسے تیسے منزل پر پہنچا ہی دیتی ہے۔
مٹھی اسلام کوٹ روڈ
پکچر کریڈٹ نسرین غوری، رنگ و روپ: نوید نواز

Friday, February 2, 2018

وقت کا پہیہ : سائیکل سے موٹر سائیکل تک کا سفر

کہانی شروع ہوتی ہے ایک سائیکل سے۔ سب سے پہلی سائیکل جو ایک لڑکے کو 10/12 سال کی عمر میں اس کے ابا نے بہاولپور میں دلوائی تھی، اس سائیکل نے جہاں اس کا اسکول کا راستہ کم کردیا تھا وہیں اس کی آوارہ گردیوں کو نئے آسمان عطا کردیے تھے۔ نہ صرف خود بلکہ اپنے چھوٹے بھائیوں، کزنز اور دوستوں کو بھی ساتھ آوارہ گردیاں کراتا اور ان سب کے اباؤں سے ڈانٹ کھاتا۔ اس کے اپنے ابا تو خود وڈے آوارہ گرد تھے، اسے کیا منع کرتے دنیا دکھانے کو ایک آدھ گھرکی لگا دیتے۔ یہی نہیں بلکہ اکثر وہ اپنی چھوٹی بہن کو بھی سائیکل کے پیچھے بٹھا کر روہی میلہ دکھانے چل پڑتا۔

ھنڈا 110 لسبیلہ بلوچستان میں

Saturday, January 20, 2018

"منظر ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہوا"


رش لیک۔ فوٹو کریڈٹ: فریال عثمان خان

رش لیک پاکستان کی بلند ترین جھیل ہے جوگلگت بلتستان میں رش پری پہاڑ کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً 15000 فیٹ بلندی پر واقع ہے۔ رش لیک ٹریک کا شمار شمال کے مشکل ٹریکس میں ہوتا ہے۔ رش لیک پہنچنے کے لیے ہوپر براستہ نگر سے تقریباً دو سے تین دن کی ٹریکنگ ہے۔ جاتے ہوئے ہوپر گلیشئیر پار کرنا ہوتا ہے جو زیادہ مشکل نہیں اور مقامی گائیڈ کی موجودگی میں مزید آسان ہوجاتاہے۔ ٹریکرز اگر چاہیں تو اسی راستے سے دو دن میں واپس بھی آسکتے ہیں اور چاہیں تو دوسری جانب سے چکر کاٹ کر بھی واپسی ہوسکتی ہے۔ چکرکاٹ کر یا لوپ ٹریک کی صورت میں واپسی میں مزید دو گلیشئیرز، چند گلیشئیائی نالے اور ایک پہاڑی نالہ پار کرنا ہوگا۔ جو جانے والے راستے کی نسبتاً تھوڑا مشکل لیکن زیادہ ایڈونچرس اور خوبصورت راستہ ہے۔

Monday, January 8, 2018

"چاند نگر"

تھرپارکر: ایک تاثر


ہمارے پاس اس ٹریک کی کوئی تصویر نہیں، کوئی سیلفی نہیں، ایک بھی نہیں۔ کوئی ثبوت نہیں۔ لیکن اٹ واز ون آف دی ونڈرز آئی ہیو بین تھرو

فوٹوکریڈٹ: عدیل پرویز @ ٹریکس اینڈ ٹیلز


Wednesday, December 20, 2017

شیرگڑھ کوٹ ٹریکنگ ایڈوینچر

"مزمل ہم دوبارہ رنی کوٹ آئیں گے، نائیٹ کیمپنگ کریں گے اور شیر گڑھ کوٹ تک ٹریکنگ بھی کریں گے۔ "

"ہاں ، آج تو ہم نےسوشل سروس ہی کی بس"

"لیکن عورتوں اور بچوں کو چھوڑ کر"

"ڈن"
رنی کوٹ، سن گیٹ۔ فوٹو کریڈٹ : طارق

اگر کسی کو آپ سے کوئی مسئلہ ہے

آج میں اپنی ساتھی جہاں گرد خواتین سے مخاطب ہوں، عموماً خواتین اور لڑکیوں سے لیکن خصوصاً شادی شدہ خواتین جہاں گرد وں سے۔ کیوں کہ آپ خاتون ہیں تو آپ کو اپنے شوق کے ساتھ ساتھ اپنی دیگر ذمہ داریاں بھی بحسن خوبی پوری کرنی پڑتی ہیں تاکہ کوئی آپ کے شوق پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ اور وہ آپ ضرور پوری کرتی ہوں گی۔ ہم خواتین ایسی ہی ہوتی ہیں، اپنے شوق کی خاطر دہری مشقت اٹھانے والی کہ کوئی ہم پر انگلی نہ اٹھا سکے۔ لیکن

 کچھ تو لوگ کہیں گے
لوگوں کا کام ہے کہنا

Friday, October 20, 2017

گا میرے منوا گاتا جا رے


قراقرم ہائی وے: گا میرے منوا گاتا جارے، جانا ہے ہم کا دور
فوٹو  کرٹسی: نوید نواز

ٹریکنگ یا کوہ نوردی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ سارے گانے اور شاعری جو شاعروں نے اپنی محبوباوں کے لیے لکھے اور ہیروز نے اپنی ہیروئنز کی شان میں گائے یا گانے کی اداکاری کی ، وہ سب کے سب لگتا ہے کسی نہ کسی پہاڑ کی چوٹی، کسی جھیل، کسی آبشار، کسی ٹریک کی شان اور اعزاز میں لکھے گئے اور گائے گئے ہیں یا ٹریکنگ کے مختلف مراحل کو ہی بیان کرنے کے لیے لکھے گئے ہیں۔ 

Monday, June 26, 2017

روڈ ٹو مکہ : علامہ محمد اسد

ایک یوروپین بدوکی کہانی

لیوپولڈ آف عربیہ
علامہ محمد اسد پیدائشی یہودی تھے جو آسٹریا کے ایک اچھے خاصے مذہبی یہودی خاندان میں بطور Leopold Weiss پیدا ہوئے، تعلیم پائی ، پھر روزگار کے سلسلوں میں یروشلم جاپہنچے۔ جہاں ان کا پہلی مرتبہ عربوں، مسلمانوں اور صیہونیوں سے واسطہ پڑا۔ بعد ازاں وہ مسلمان ہوگئے ۔ اور ان کی بقیہ زندگی مسلمان ممالک اور مسلمانوں کے درمیان اور اسلام کے لیے گزری ۔ 

Wednesday, June 21, 2017

مکہ : بی بی ہاجرہ کا شہر


اللہ تعالی کے ایک پیارے نبی تھے، حضرت ابراہیم علیہ سلام۔ ان کی دو بیویاں تھیں۔ ایک حضرت سارہ علیہ سلام اور ایک حضرت ہاجرہ علیہ سلام۔ حضرت سارہ کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسحاق علیہ سلام اور حضرت ہاجرہ علیہ سلام کے بیٹے کا نام تھا حضرت اسمعیل علیہ سلام۔

حضرت ابراہیم علیہ سلام اپنے بیٹوں سے بہت محبت کرتے تھے لیکن حضرت اسمعیل علیہ سلام سے زیادہ محبت کرتےتھے۔ حضرت سارہ علیہ سلام ،حضرت ہاجرہ علیہ سلام اور ان کے بیٹے کو پسند نہیں کرتی تھیں۔ انہوں نے کئی بار حضرت ابراہیم علیہ سلام سے کہا کہ وہ ہاجرہ علیہ سلام اور اسمعیل علیہ سلام کو کہیں اور چھوڑ آئیں۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ سلام ان کی بات نہیں مانتے تھے۔ 

Tuesday, February 14, 2017

سیون ائیرز ان تبت

ایک لو اسٹوری

سب سے پہلے تو اس کا سفر ہی کراچی سے اسٹارٹ ہوا ۔ ہمارا اپنا کراچی ، ہاں جی اور ہمارا اپنا نانگا پربت بھی ۔ بندے کی آنکھیں اور دل کھل نہ جائے تو اور کیا ہو بھلا ۔ چار کوہ نورد جو نانگا پربت کا دیا میر فیس اور ٹریک دریافت کرنے کی مہم سے فارغ ہوکر اپنے وطن واپس جانے کے لیے کراچی میں بحری جہاز کے انتظار میں تھےدوسری جنگ عظیم شروع ہونے پر سرکار انگلیشہ کے جنگی قیدی بنا لیے گئے کیونکہ انکا تعلق جرمنی سے تھا۔ اور جیل بھیج دئیے گئے جو تقریباً تبت کے بارڈر پر ہی سمجھیں ۔ اب بندہ اور وہ بھی کو ہ نورد,  انگریز کی جیل سے فرار ہوگا تو بھاگ کے اور کہاں جائے گا, تبت اور کہاں ۔ سو یہی ہوا۔

تبت اب تک ہمارے لیے بس اتنا ہی تھا کہ دنیا کا بلند ترین پلیٹو یعنی کہ سطح مرتفع ہے ، چین کا حصہ ہے، جو ذرا چین سے ناراض سا ہے اوروہاں کے حکمران ہندوستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں کیونکہ دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

Wednesday, December 21, 2016

کجھ مینوں مرن دا شوق وی سی

کوہِ حنیف مڈ والکینو مہم 


ایک معصوم سا پہاڑ: دور کے ڈھول سہانے
پکچر کریڈٹ: محمد حنیف بھٹی صاحب

کہتے ہیں کہ ایک کوہ نورد یا ایک ٹریکر پر ہر ٹریک کے دوران تین مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ ابتداء میں پرجوش یا ایکسائٹمنٹ، درمیان میں پچھتاوا یا ریگریٹ اور تیسری پھر سے کسی اور نئی مہم کے لیے تیاری۔ ہم اس وقت دوسرے مرحلے سے گزر رہے تھے۔ یعنی پچھتاوا۔ بھلا ہمیں کس نے کہا تھا کہ جان بوجھ کر جان جوکھم میں ڈالیں۔ 

Friday, December 16, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ نہم / اختتامیہ)

چلو اب گھر چلیں ساغر ، بہت آوارگی کرلی 


صبح سویرے ہی روشنی ہونے سے آنکھ کھل گئی۔ اکا دکا لوگ جاگ چکے تھے لیکن اپنے اپنے مقام استراحت پر "اینڈنے" میں مصروف تھے۔ "اینڈنا"یہ ہماری ذاتی ایجاد کردہ اصطلاح ہے، یعنی آنکھ کھلنے کے بعد کی نیند ، الارم بجنے یا امی کے جگانے کے بعد جو ایک نیند کا پیریڈ ہوتا ہے اسے ہم اینڈنا کہتے ہیں۔"ہاں بس پانچ منٹ اور" والی نیند، اور جو سواد اس نیند میں ہوتا ہے وہ ساری رات کی نیند میں نہیں ہوتا۔ پر ہر گزرتے منٹ کے ساتھ روشنی بڑھ رہی تھی اور ساتھ ہی گرمی بھی۔ چار و ناچار ہر ایک اٹھ بیٹھا، ناشتے کے لیے چائے چڑھا دی گئی۔ گرمی اور حبس اتنا تھا کہ دل کرتا تھا اٹھ کے بھاگ لو ۔ ابھی سات بھی نہیں بجے تھے۔ انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ ابھی سب دوبارہ آبشار کی طرف جائیں گے، واپس آکر ناشتہ کریں گے اور پھر نو بجے تک واپسی کے لیے نکلیں گے۔ 

Sunday, December 11, 2016

. . . Camel Tracks never end


It all started with a list of Travelling and Tracking movies shared on Facebook. Somebody just posted more than 50 travelling movie posters with a brief intro of all. One of the friends shared it on his/her profile and suddenly it got viral among the off-track-minds. Everyone was asking everyone: "How to download these movies", "if you please download, please do keep them save in your computer until I take from you", "Please keep them until I come to Lahore/ Karachi". The best happened with one of the friends who asked one of his friends to download those movies for him. His friend downloaded all those posters and handed over him the same evening and said why could he not download all those pictures himself 😉 😜

Tuesday, December 6, 2016

کراچی فوٹو واک : کراچی میں یہ گل کھلنے کا موسم ہے

نکتہ آغاز-  فوٹو: نسرین غوری 

ہم چاروں کی گاڑیاں ایمپریس مارکیٹ کی پارگنک میں موٹر سائیکلز کے درمیان ایسے خوشی خوشی محصور تھیں جیسے بھینیسیں کسی جوہڑ میں فرصت سے بیٹھی جگالی کر رہی ہوں۔ اور ہم چاروں حق دق کہ انہیں کیسے واگزار کرائیں۔ہم اتنا ہڑبڑائے کہ ،،، بس نہ پوچھیں۔ اور یہ سارا کیا کرایا ہمارا ہی تھا۔ ہم ہی ہیں جس کو یہ کراچی فوٹو واک کا وائرس لگا تھا۔ 

ونس اپان ٹو ائیرز ایک مرتبہ جب ہم ایک نامہ نیم ادبی جمع ادیبی فین گروپ کے منتظم تھے ہمیں شوق چڑھا کہ کراچی میں ریڈنگ اور فوٹو سیشن کے علاوہ بھی کوئی ایکٹیوٹی ہونی چاہیے۔ قدیم لاہور میں ہوئی واک کا نشہ بھی تازہ تھا۔ سو ہم نے گروپ کے کراچی کے ارکان کو کراچی میں بھی ایک ایسی ہی واک کروانے کا پلان بنایا۔ 

Tuesday, October 18, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ہشتم)

یہ ہوا، یہ رات، یہ چاندنی 


درہ مولہ کی منفرد ٹوپوگرافی
جاتے ہوئے ہمیں پیدل جانے میں اتنا مزہ آیا کہ واپسی پر جب ہمیں جیپ رائڈ آفر ہوئی تو ہم نے انکار کردیا اور پیدل واپس آنے کو ترجیح دی۔ ریسٹ ہاؤس پہنچے تو جھٹپٹے کا عالم تھا نہ مکمل روشنی نہ مکمل تاریکی۔ کچھ لوگ ہم سے پہلے کے واپس آچکے تھے، تمام مقامی اور ڈرائیور حضرات لنچ یا ڈنر میں مشغول تھے، ہم بھی منہ ہاتھ دھو کر لائن میں لگ گئے، ریسٹ ہاؤس کیونکہ چاروں جانب سے اونچے پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا ہوا کا نام و نشان نہیں تھا شدید حبس کی کیفیت تھی۔ اندھیرا بڑھنے کے ساتھ ساتھ مزید لوگ آبشار سے واپس آنا شروع ہوگئے، ریسٹ ہاؤس کے کمرے دن بھر کی گرمی جذب کر کے اب گرمی خارج کرنا شروع ہوگئے تھے، لہذہ کمپاؤنڈ میں دریاں بچھا کر بڑے کھانے کا انتظام کیا گیا، جس کے ساتھ ایک بڑی ایل ای ڈی فلیش لائیٹ لگا کر بظاہر روشنی کی گئی تھی مگر اس کے نتیجے میں باقی سارا جہان گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ، اور ارد گرد کی خلق خدا نابینا ، نابینا سا محسوس کرنے لگی۔

Sunday, October 16, 2016

تاک بندر، اورمارہ ایڈونچر

تاک بندر کیمپ سائیٹ

سالانہ فیملی ٹرپ کئی ماہ سے لڑھکتا آگے کھسکتا جارہا تھا، عید پر بننے والا پروگرام ٹلتے ٹلتے بقر عید پر پہنچا۔ بقر عید پر گورکھ ہلز یا تھر پارکر جانے کا سوچا لیکن موسم چیک کرنے پر پتا چلا کہ درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر رہے گا، بچوں کے ساتھ اتنی گرمی میں سفر نامناسب ہے ۔ پھر کنڈ ملیر ہی دھیان میں آتا ہے ۔ لیکن کنڈ ملیر اتنی بار جاچکے ہیں کہ اب دل کرتا ہے کہ کوئی نئی جگہ ایکسپلور کی جائے۔

Friday, October 7, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ہفتم)

لنگ آجا پتن چناں دا یار


مولہ چٹوک کی سیال چاندی
فوٹوکریڈٹ: آلموسٹ فوٹوگرافی - ماجد حسین
مولہ آبشار کی سمت سے پانی آنے کا بس یہی ایک راستہ تھا۔ سارے پانی ہمارے سامنے سے ہماری طرف آتے تھے۔ جہاں جیپ نے آگے بڑھنے سے انکار کیا تھا وہاں ایک تنگ درہ ہے جس سے راستہ اندر جاتا ہے یعنی پانی جس راستے سے باہر آتا ہے، دونوں جانب اونچے پہاڑ ہیں۔ اگر پیچھے کہیں دو چار روز پہلے بارش ہوئی ہو تو اچانک فلیش فلڈ آنے کی صورت میں لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ لیکن لاعلمی بڑی نعمت ہے، اسی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہم کبھی پانیوں پر اور کبھی پانیوں میں اٹھکیلیاں کرتے چل رہے تھے۔ پانی اپنی فطری زگ زیگ روش پر رواں دواں تھا ہم کبھی پانی کراس کر کے دائیں ہوجاتے، کبھی بائیں، اور کبھی درمیان میں پانی میں چھپا چھپ کرتے ایک دوسرے پر چھینٹے اڑاتے۔ کبھی ہمارے ٹیبلٹ سے نورجہاں تانیں اڑاتیں اور کبھی ہمسفر اپنی آواز کا جادو جگاتے جس میں ہم دونوں اپنی بھونڈی آواز ملانے کی کوشش کرتے اور پھر اپنی ہی آواز سے گھبرا کر چپ ہوجاتے۔ یا ہنس پڑتے۔ ہماری جیپ خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ ہماری جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔

Saturday, September 24, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ ششم)

"مجھے آرزو تھی جس کی"


اور پھر وادی مولہ کا آغازہوگیا، جس کا علم مزید بے سمت ، مزید صحتمند اور مزید گول گول پتھروں سے پر راستے سے ہوا، راستہ جیسے ایک قلعہ کی جانب بڑھا جارہا تھا، جیپ نے ایک پہاڑ کے گرد کسی قوس قزاح کی طرح بڑا سا چکر کاٹا، اس چکرکاٹنے میں جیپ کے اندر والوں پہ جو گزری ، نہ پوچھیں، ہم پہلے ہی گرل فرینڈ اور ہم سفر کے درمیان سینڈوچ بنے بیٹھے تھے جنہیں کم از کم ایک ایک سائیڈ ہینڈل خود کو سنبھالنے کے لیے مہیا تھا، لیکن ہم بے پیندے کے لوٹے، خود کو لڑھکنے سے بچانے کےلیے سامنے کی دونوں سیٹوں کی پشت کو سختی سے تھامے بیٹھے تھے اور خیال رہے کہ دوپہر سے بیٹھے تھے اور اب شام ہوچلی تھی۔ اور ہمارے ہاتھ تقریباً اسی پوزیشن میں اکڑ گئے تھے۔ جیپ چکر کھا کر ایک مزید درے کے اندر داخل ہوگئی، جہاں سے دور سے ہی ایک سطح مرتفع پر ایک پیلے رنگ کی چپٹی سی لکیر نظر آرہی تھی، جو بقول گائیڈ ریسٹ ہاؤس تھا۔ جب تک اس لکیرنے ایک باقاعدہ عمارت کی صورت اختیار کی ہم تینوں بشمول گائیڈ جیپ میں ایسے اچھلتے رہے جیسے آگ پر رکھے برتن میں مکئی کے دانے نچلے نہیں بیٹھ سکتے اور شرارتیں کرتے رہتے ہیں۔ 

Friday, September 16, 2016

مولہ چٹوک : سفرنامہ (حصہ پنجم)

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے


اورپھر جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائ ویسے ہی اچانک سے ایک پھولوں بھری راہ گزر سامنے آگئی، حد نظر تک گلابی پھول ہی پھول۔ رہ نما نے بتایا کہ دور مشرف میں ہی اس پودے کی باقاعدہ کاشت کی گئی تھی ، پنیری لگائی گئی تھی اور وادی میں متعدد جگہوں پر یہ جنگلی گلاب نما پودا کاشت کیا گیا تھا ۔ جو اب بھی کہیں کہیں وادی کے حسن میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق وادی میں زیتون کی کاشت بھی کئ گئی تھی لیکن ٹمبر مافیا زیتون کے درختوں کو غیر قانونی طور پر اسمگل کر رہی ہے۔ ہمارے راستے میں بھی ایک ٹویوٹا ہائی لکس پر زیتون کی لکڑیاں لادی جارہی تھیں۔ 
فوٹوکریڈٹ: مصنف