Showing posts with label Culture. Show all posts
Showing posts with label Culture. Show all posts

Wednesday, December 31, 2025

نکے نکے سے عظیم دکھ ورژن 3.0

ہماری برادری کافی روایتی ہے۔ جس میں شادی بیاہ وغیرہ پر بھات لینے دینے کا بڑا رواج تھا، کسی حد تک اب بھی ہے ۔ بھات ان کپڑوں/ ملبوسات چوڑیوں ، مہندی، مٹھائی وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر شادی والے گھر میں لڑکی یا لڑکے کے ماموں چچا وغیرہ ایک بڑی ساری پرات یا سینی میں سجا کر خوان پوش سے ڈھک کر تحفہ کے طور پر لاتے تھے اس میں دلہا / دلہن کے کپڑے، ان کے والدین کے کپڑے یا کم از کم والدہ کا دوپٹہ اور والد کا تولیہ صافہ یا کندھے پر ڈالنے کا رومال اور غیر شادی شدہ بھائی بہنوں، بھتیجیوں  اوربھتیجوں وغیرہ کے لیے تحائف جیسے دوپٹے چوڑیاں مہندی رومال وغیرہ ہوتے تھے۔

ہم بہت بچپن سے دیکھتے آئے تھے کہ جب خاندان میں کسی کی شادی ہوتی تو دلہا یا دلہن کی بھتیجیوں، پھپھیوں ، بھابھیوں وغیرہ کو ان کے اپنے خاندان کی طرف سے بھی اور دوسری پارٹی کی طرف سے بھی ہر رسم میں یاد رکھا جاتا جیسے ہمارے ماموں یا خالہ کی شادی ہوئی تو سسرال والوں کی طرف سے  میری خالاوں،  ممانیوں اور میری ماموں زاد بہنوں کے لیے جوڑے/ دوپٹے، چوڑیاں اور مہندی وغیرہ بھات یا نیگ میں ضرور آتے۔ اور مہندی مایوں کی رسومات میں جو پیسے جمع ہوتے ان میں سے بھی حصہ ملتا اورہماری ماموں زاد کزنز ہمارے سامنے اترا اترا کر ان چوڑیوں کی نمائش کرتیں۔ جوڑا سی کر شادی میں پہن لیتیں، شادی کی رسموں میں بھی انہیں آگے آگے رکھا جاتا۔

Tuesday, December 16, 2025

مشرقی پاکستان پر دو ناول

اللہ میگھ دے : طارق محمود

طارق محمود ایک بیوروکریٹ تھے۔ انہیں تعلیم اور افسری کے دوران کافی عرصہ مشرقی پاکستان میں گزارنے کا موقع ملا۔ ان کی بائیوگرافی بھی کافی دلچسپ ہے۔ عامر خاکوانی صاحب ان کی بائیوگرافی کے کچھ حصے اپنی وال پہ شئیر کررہے ہیں۔ ان ہی کے ایک کالم سے اس ناول کا سراغ ملا تھا۔

Thursday, November 20, 2025

Anna Karenina: Status of Women (A Review)

There are three ladies in the novel. First one is married to a man for years and mother of many kids from him. He cheats on her, and goes to many ladies including governess of his kids but the wife could not leave him, coz where would she go if she leaves him, there is no future for her economically and socially.

اخبارات میں بچوں کے صفحات


فاطمہ کو جنگ کا بچوں کا صفحہ بہت پسند تھا جنگ کے بچوں کے ایڈیشن میں آدھے صفحے پر چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہوتیں, اور بقیہ آدھے صفحے پر مختلف سرگرمیاں اور گیمز جیسے کہ کچھ پزل ٹائپ چیزیں , فرق تلاش کیجیے, نقطے ملا کر رنگ بھریے, تصویروں کے حصوں پر نمبر ہوتے جنہیں پہلے جمع تفریق کر کے حل کرنا ہوتا پھر حل کیے حصوں میں جفت اعداد میں ایک رنگ, طاق میں دوسرارنگ , پہلیاں ہوتیں, لطیفے ہوتے۔ ہفتے کا اخبار کھولتے ہی آجاتی اور اپنا صفحہ لے کر بیٹھ جاتی ، سارا دن اسی میں لگی رہتی ۔

لیکن چند سال پہلے کاغذ کی کمی یا قیمت کی وجہ سے جنگ نے بچوں کا صفحہ بند کردیا۔ تین ہفتوں تک فاطمہ نے صبر کیا اور تین ہفتوں بعد اخبار میں بچوں کا صفحہ نہ دیکھ کر اسے جلال آگیا۔"ان کو پتا نہیں ہے میں یہ صفحہ پڑھتی تھی, کیوں بند کیا ہے۔ بچوں کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔"