Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک:قسط I

پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک

کچھ ماہ پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا ۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک ممخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔

مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماوں کی اکثریت خود غذایت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اوربغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضایع ہوجاتی ہے ۔ لہذہ ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذایت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کرسکتا ۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کرسکتا۔

ایسے بچوں کے لیےبشمول مسلم ممالک دنیا بھر میں مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک قائم ہیں۔ جہاں سےضرورت مند بچوں کو صحت مند ماوں کا دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا ہیومن ملک بنک ویانا آسٹریا میں 1909 میں قائم کیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 66 ممالک میں 756 ملک بنک قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد برازیل میں 217 ملک بنک ہیں ۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں انڈیا میں نوے ہیومن ملک بنک ہیں اسلامی ممالک میں دیکھیں تو ایران میں 13-14، ملائشیا میں 01 ہیومن ملک بنک کام کررہا ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد کم ہے امریکہ میں 28 اور برطانیہ میں اس قسم کے 17 بنک ہیں۔

سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی سندھ میں نوزائیدہ بچوں کے علاج کا ایک اعلیٰ ترین ادارہ ہے جہاں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں، کم وزن یا غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ بچوں کی صحت کے حوالے سے ریسرچ کی جاتی ہے اور ڈاکٹروں کو پیڈیاٹرکس میں اپ ٹو ڈیٹ ٹیکنالوجی، تعلیم اور علاج کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ہیومن ملک بنک کا قیام بھی بچوں کے علاج کے سلسلے میں چاروں صوبوں میں اولین اگلا قدم تھا۔

انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر کے مطابق انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہونے والے ہر پچاس بچوں میں سے 30-35 بچے وہ ہیں جو قبل از وقت پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ان بچوں کو ماں کے صحت مند اور غذایت سے بھرپور دودھ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جاسکے لیکن بدقسمتی سے ان کی ماوں کا دودھ کم ہوتا ہے یاپھر ان کی اپنی صحت اس قدر خراب ہوتی ہے کہ ان کا دودھ غذایت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔

یونیسیف کے ایک سروے کے مطابق ہر سات میں سے ایک [14 فیصد] خواتین غذایت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 18 فیصد خواتین آئرن کی کمی اور 42 فیصد خون کی کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان کے قومی غذائیت سروے 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد بچے غذایت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 28 فیصد بچے اپنی عمر کے مقابلے میں وزن کی کمی کا شکار ہیں۔ یہی وجوہات ہیں جو آج بھی پاکستان میں پیدا ہونےوالے ہر ایک ہزار زندہ بچوں میں سے 62 بچے پہلی سالگرہ سے پہلے مر جاتے ہیں جبکہ 74 بچے پانچویں سالگرہ منانےسے پہلے فوت ہوجاتےہیں۔

مدرز ملک بنک حکومت سندھ کے محکمہ صحت کے پراجیکٹ کے تحت سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی میں قائم کیا گیا تھا جس کے لیے جامعہ دارالعلوم کراچی سے فتوی لیا گیا۔ روز نامہ ڈان بتاریخ 24 جون 2024 جامعہ دارلعلوم کراچی نےمندرجہ ذیل شقوں کی بنیاد پر اس پراجیکٹ کے حق میں فتویٰ جاری کیا کہ :
  1.  ماں کا دودھ ہدیہ کرنے والے خاندان اور دودھ کا ہدیہ وصول کرنے والے خاندان خصوصاً ماوں سے ایک دوسرے کے نام پتے اور شناختی دستاویز کا تبادلہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں رضاعی بہن بھائیوں کے درمیان رشتے کی حرمت قائم رکھی جاسکے۔
  2. ماں کے دودھ کی فراہمی مفت ہوگی اس میں کسی قسم کی خرید و فروخت نہیں ہوگی ۔
  3. مسلمان بچوں کو صرف اور صرف مسلمان ماوں کا دودھ فراہم کیا جائے گا۔
  4. دودھ جراثیم سے پاک صاف ہوگا اور صحت مند ماوں سے لیا جائے گا۔
  5. دودھ صرف قبل از وقت [34 ہفتوں سے قبل] پیدا ہونے والے ان بچوں کو دیا جائے گا جن کی ماوں کا دودھ کم ہوگا یا میڈیکل گراونڈز پر ماں کا دودھ انہیں نہیں دیا جاسکتا ہوگا ، مثلاً دودھ میں ضروری غذائی اجزا ء کی کمی ۔
  6. دودھ کی فراہمی کے ڈیٹا کا دوطرفہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔
ہم پچھلے بیس برس سے پبلک سیکٹر میں ایک ذمہ دار پوسٹ پر کام کررہے ہیں اور جانتے ہیں کہ کوئی بھی سرکاری پراجیکٹ الل ٹپ لانچ نہیں کردیا جاتا۔ کسی بھی پراجیکٹ یا منصوبے کو بنانے سے پہلے اس کی ضرورت ، مقاصد، اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ پیچیدگیاں، مسائل ، ان کا ممکنہ حل، فنڈز کی ضرورت اور فراہمی ، اس منصوبے سے کتنی جابز تخلیق ہونگی، اور اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فائدے تفصیل سے لسٹ ڈاون کیے جاتے ہیں جس کے لیے پلاننگ کمیشن کے مخصوص فارم پی سی ون پر اس پراجیکٹ کا پورا پلان تیار کیا یا لکھا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میں کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوسکتے ہیں ان کو بھی لسٹ ڈاون کیا جاتا ہے، اب تو اس سے ماحول پر کیا اثرات ہونگے یہ بھی ڈاکومنٹ کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہ مستقبل میں اس منصوبے کے جاری رہنے اور ڈپارٹمنٹ کے روٹین آپریشنز میں شامل ہونے کا کیا طریقہ کار ہوگا ۔

سینئیر افسران اس کی دوبارہ جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اور سارے لوپ ہولز نکال کر اسے پلاننگ اینڈ ڈیولپ منٹ ڈپارٹمنٹ میں جمع کروایا جاتا ہے۔ پھر پی این ڈی ڈپارٹمنٹ اس پلان کے ایک ایک بال کی کھال اتارتا ہے ایک ایک سطر ، ایک ایک آئٹم، اور ایک ایک روپیہ کی جانچ ہوتی ہے۔ کئی کئی مہینوں میں متعلقہ ڈپارٹمنٹ اور پی این ڈی ڈپارٹمنٹ کے درمیان پنگ پانگ میچ چلنے کے بعد پراجیکٹ منظور ہوتا ہے اور کام آگے بڑھتا ہے۔

یہ پراجیکٹ بنانے والے ، اس کا جائزہ لینے والے، جانچ پڑتال کرنے والے 98 فیصد افراد مسلمان ہی ہیں ۔ وہ رضاعت کے تصور اور حقیقت سے بہت اچھی طرح آشنا ہیں اور اپنی قوم کی مذہبی جنونیت اور جہالت سے بھی۔ اس لیے انہوں نے اس پراجیکٹ میں اس ضمن میں ضروری شقیں اور اقدامات شامل کیے تھے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے جہالت کے طوفان کے باعث یہ پراجیکٹ روک دیا گیا ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی نے بھی عوامی رد عمل کے خوف سے اپنا فتویٰ واپس لے لیا ہے۔ محکمہ صحت نے وزارت صحت کے ذریعے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے ہمیں تو کوئی امید نہیں کہ وہ کوئی لاجک یا کامن سینس استعمال کرسکتی ہے کون جانے کتنے بچے اس پراجیکٹ کے چلنے کی صورت میں فوت ہونے سے بچائے جاسکتے تھے اور جانے کتنی مائیں بچوں کو صحت مند دودھ نہ ملنے کے باعث اپنے بچوں سے محروم ہوتی رہیں گی۔

👼👼👼👼👼




ماں کا دودھ عطیہ کرنے کا عالمی دن 19 مئی کو منایا جاتا ہے۔