گزشتہ ویک اینڈ پاکستان کی سنہری موویز میں سے ایک سالگرہ دیکھی۔ بہت بچپن میں ٹی وی پر دیکھی تھی اور بس یہی یاد تھا کہ ایک پیاری سی لڑکی ایک محفل میں بہت دکھی سا گانا گار رہی تھی۔ اور کچھ یاد نہیں تھا۔
دوبارہ دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔گویا ایک نئی نکور مووی دیکھی ہو۔ شمیم آرا سانولی سلونی ہونے کے باوجود کس قدر خوبصورت تھیں کہ ان کا حسن بلیک اینڈ وائٹ مووی میں بھی ناقابل فراموش ہے۔ اور وحید مراد کی نوجوانی 



اب اتنی موویز دیکھ لی ہیں کہ ہر مووی کی کہانی، سچویشنز اور ڈائلاگز پریڈیکٹنگ لگنے لگے ہیں، ورنہ کہانی میں تجسس بھی ہے، رومینس بھی، ایکشن بھی اور میلو ڈرامہ بھی۔ ڈائلاگز بھی اچھے ہیں خاص طور پر طارق عزیز کے جنہوں نے شمیم آرا کے والد اور جج صاحب کا رول بہت عمدگی سے نبھایا ہے۔
سالگرہ مووی کے دو گانے بہت مشہور ہیں
میری زندگی ہے نغمہ میری زندگی ترانہ
میں صدائے زندگی ہوں مجھے ڈھونڈ لے زمانہ
اور
لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے
لیکن سالگرہ مووی میں ایک اور بہت ہی شاندار گانا بلکہ غزل ہے جسے وائرل ہونا چاہیے تھا لیکن جانے کیوں نہیں ہوئی ۔ مووی میں حسب روایت موویانِ پاک و ہند ایک موقع پر لڑکوں اور لڑکیوں میں بیت بازی قسم کا مقابلہ ہوتا ہے۔ جس میں شمع اور پروانے کے موضوع پر شمیم آرا اور وحید مراد کے مابین مناظرہ غزل کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ایک شعر پروانے کی طرف سے اور اس کے جواب میں ایک شعر شمع کی طرف سے ۔۔ بہت ہی خوبصورت اور سچویشنل شاعری
اس گیت/ غزل کا ٹرانسکرپٹ آپ سب کے ذوق کی نظر :
پروانہ
لذتِ سوز جگر پوچھ لے پروانے سے
شمع کا نام ہے روشن اسی دیوانے سے
شمع
حسن کے ساتھ مجھے سوز محبت نے دیا
شعلہ طور بنی عشق میں جل جانے سے
پروانہ
میری اور اپنی ملاقات کی تصویر تو دیکھ
جیسے دیوانہ لپٹ جائے ہے دیوانے سے
شمع
میں نہیں تھی تو یہ ہنگامہ محفل بھی نہ تھا
رونق بزم ہوئی ہے میرے آجانے سے
پروانہ
میرے ہی نام سے پہچانی ہے تجھ کو دنیا
تیرا افسانہ بنا ہے میرے افسانے سے
شمع
میں نہ جلتی تو بتا کون جلاتا تجھ کو
تونے سیکھا ہے یہ جلنا میرے جل جانے سے
پروانہ
میں جلا تیرے لیے تو جلی محفل کے لیے
تجھ سے شکوہ ہے یہ شکوہ نہیں بے گانے سے
شمع
جل کے جو خاک ہوا عشق میں وہ پاک ہوا
طور کو نور ملا خاک میں مل جانے سے
پروانہ
چوم کے شعلہ رخسار کو میں خاک ہوا
اڑ گئی خاک میری خاک کے پیمانے سے
شمع
بے کسی دیکھ کے تیری مجھے رونا آیا
اشک میرے نہ تھمے پر تیرے جل جانے سے
پروانہ
تیرے اشکوں سے وضو کر کے ادا کی جو نماز
روح سجدے میں جدا ہوگئی پروانے سے
شمع
موت کی نیند جو پہلو میں میرے تو سویا
رات بھر میں بھی نہ اٹھی تیرے سرہانےسے
پروانہ
بے کفن لاش جو اٹھی تیرے پروانے کی
زندگی روئی لپٹ کر تیرے دیوانے سے
جسے یہ منظوم طور سننی ہو وہ یوٹیوب پر سالگرہ مووی تلاش کر کے تقریباً تیس منٹ کے بعد کلک کر کے دیکھ اور سن سکتا ہے۔
🎥🎦🎫🎼📀📺📹📷📼📻