Friday, May 1, 2026

ہیومن ملک بنک: قسط II

ہیومن ملک بنک: کیوں ، کیا اور کیسے کام کرتا ہے۔

اصولی طور پر نوزائیدہ بچے کے لیے اس کی اپنی ماں کا دودھ سب سے بہترین اور صحت بخش غذا ہے۔ لیکن ہر بچے کو ماں کا دودھ ملے یہ ضروری نہیں ہے۔ آج بھی پاکستان سمیت دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں بچوں کی پیدائش کے دوران یا زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث مرنے والی خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ ایسی مرحوم ماؤں کے بچوں کے اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرجانے کے امکانات زندہ ماؤں کے بچوں کی نسبت پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان بچوں کو ماں کے دودھ کے بجائے گائے بھینس یا بکری کا دودھ بطور غذا دیا جاتا ہے جو ان کے لیے ناقابل ہضم ہوتا ہے، اور معدے اور آنتوں کی بیماریوں، ڈائیریا کا باعث بنتا ہے۔ اور بیرونی غذاؤں میں بیکٹیریا اور جراثیم کی پرورش اور انفیکشن پھیلانے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے کم ترقی یافتہ معاشروں میں بچیوں کی کم عمری میں شادی کردی جاتی ہے جس کے باعث ان میں خود غذائیت کی کمی ہوتی ہے ابھی ان کے اپنے جسم کی نشوونما مکمل نہیں ہو پاتی اور وہ اپنے اندر ایک اور زندگی کی پرورش کرنے لگتی ہیں لہذا ان کے بچوں میں بھی پیدائشی غذائیت کی کمی رہتی ہے جو ان کے دودھ سے پوری نہیں ہو پاتی۔ وقت سے[حمل کے 34 ہفتے مکمل ہونے سے] پہلے  اور [پانچ پاونڈ یا ڈھائی کلوگرام سے ] کم وزن  پیدا ہونے والے بچوں کو ان کی اپنی ماؤں کا دودھ پورا نہیں ہو پاتا اور انہیں اوپر کا دودھ یعنی بکری/گائے /بھینس یا فارمولہ ملک دیا جاتا ہے۔

قبل از وقت پیدا ہونے والے بچے ماں کا دودھ نہیں پی پاتے کیوں کہ دودھ پینے [suck کرنے ] کے لیے ان میں طاقت نہیں ہوتی۔ قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک استعمال ہوتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں مہنگا ہوتا ہے اور اس سے غذایت کے ساتھ ساتھ انفیکشن پھیلانے والے جراثیم اور بیکٹیریا بھی بچے کے پیٹ میں منتقل ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے معاشروں میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔ ایسے بچوں کی جان بچانے کے لیے ہیومن ملک بنک یا مدرز ملک بنک ایک اہم حل ہو سکتا ہے۔ جہاں ماؤں کا اضافی دودھ اسٹور کیا جائے اور ضرورت مند بچوں کو فراہم کیا جائے۔

ہیومن یا مدرز ملک بنک بنانے کا خیال سب سے پہلے ایک یورپی ملک میں بچوں کے ایک ڈاکٹر کو آیا۔ سب سے پہلا ہیومن ملک بنک ویانا آسٹریا میں 1909 میں قائم کیا گیا۔ اٹھارہویں صدی میں یورپ میں خواتین میں اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا رواج کم سے کم ہوتا گیا اور بچوں کو دودھ پلانا ایک دقیانوسی اور مضحکہ خیز عمل سمجھا جانے لگا۔ ایسے میں یورپ میں کرائے کی ماؤں یا آیاؤں کا رواج پڑا جو معاوضے پر بچوں کو دودھ پلاتی تھیں۔

اس دور میں یورپ میں نچلے طبقے کی خواتین میں معاوضے پر دودھ پلانا سب سے منافع بخش پیشہ بن گیا تھا۔ انیسویں صدی میں ڈاکٹر تھیوڈور ایسکریج[Theodor Escherich] جو بچوں کے امراض معالج تھے ان کی تحقیق کے مطابق جو بچے [اپنی یا کرائے کی ]ماں کا دودھ پیتے تھے ان میں آنتوں اور پیٹ کی بیماریوں کی شرح ان بچوں سے واضح طور پر کم تھی جنہیں دیگر ذرائع سے دودھ / غذا دی جاتی تھی جیسے جانوروں کا دودھ وغیرہ۔ لہذا انہوں نے ویانا میں سب سے پہلا ہیومن ملک بنک قائم کیا۔ اس کے بعد امریکہ اور جرمنی میں بھی ہیومن ملک بنک قائم کیے گئے۔

1980 میں عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے ایک مشترکہ قرارداد کے تحت ہیومن ملک بنک کے تصور کو تقویت دی۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 66 ممالک میں 756 ملک بنک قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد برازیل میں 217 ملک بنک ہیں۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں انڈیا میں نوے ”90“ ہیومن ملک بنک ہیں اسلامی ممالک میں دیکھیں تو ایران میں 07، ملائشیا میں 01 ہیومن ملک بنک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد کم ہے امریکہ میں 28 اور برطانیہ میں اس قسم کے 17 بنک ہیں۔

ہیومن ملک بنک کے لیے درکار وسائل:

باوجود کہ وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ملک بنک سے دودھ مفت فراہم کیا جاتا ہے ہیومن ملک بنک ایک مہنگا اور محنت طلب پراجیکٹ ہے جس کے لیے فنڈز کے علاوہ انسانی وسائل بھی درکار ہوتے ہیں۔ ایسے انسانی وسائل جو مشن اورینٹڈ ہوں، جو اس کام کو محض کام سمجھ کے نہیں بلکہ ذمہ داری اور فرض سمجھ کر کام کریں۔ مطلوبہ معیار پر پوری اترنے والی ڈونر/ دودھ عطیہ کرنے والی خواتین کا انتخاب، کاونسلنگ اور اسکریننگ، دودھ جمع کرنا، اسٹور کرنا، دودھ کی اسکریننگ، پیسچرائزیشن، ٹرانسپورٹیشن، ڈسٹریبیوشن، دودھ عطیہ و وصول کرنے والی خواتین/ خاندان اور دودھ شریک بچوں کا ڈیٹا ریکارڈ اور محفوظ رکھنا، ان سب اقدامات کے لیے فنڈز اور محنت درکار ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ بنک کے قیام کے لیے پلاٹ، عمارت، دودھ کو محفوظ کرنے کے مختلف مراحل کے لیے مطلوبہ آلات، مشینری، لیبارٹری، تربیت یافتہ عملہ اور ان کی تنخواہیں بھی درکار ہوتی ہیں۔ بھارت میں پہلا ہیومن ملک بنک دس ہزار امریکی ڈالر کی فنڈنگ سے ممکن ہوسکا اور اس کی سالانہ آپریٹنگ کوسٹ اس وقت تین ہزار یو ایس ڈالر تھی۔

ہیومن ملک بنک کس طرح کام کرتا ہے:

1۔ رضا کارانہ طور پر دودھ عطیہ کرنے کے لیے مکمل طور پر صحت مند خواتین سے دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی قسم کا نشہ کرنے والی، سگریٹ، شراب یا تمباکو کی عادی، یا کسی مہلک بیماری یا انفیکشن جیسے کہ ایڈز یا ہیپٹائٹس میں مبتلا یا کسی وبائی بیماری میں مبتلا خواتین سے دودھ کا عطیہ نہ لیا جائے۔

2۔ ماؤں سے دودھ ان کے گھر پر بھی لیا جاسکتا ہے اور ہیومن ملک بنک میں بنے ملک کلیکشن رومز میں بھی۔ گھر پر لیے جانے کی صورت میں دودھ کو دو گھنٹے کے اندر اندر ملک بنک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔

3۔ تازہ حاصل کیے ہوئے ماؤں کے دودھ کو پراسیس کیا جاتا ہے۔ کہیں مختلف خواتین سے حاصل شدہ دودھ کو الگ الگ رکھا جاتا ہے اور کہیں مختلف ماؤں سے حاصل کیے گئے دودھ کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ دودھ کی مائیکرو بائیولوجیکل اسکریننگ ہوتی ہے۔

4۔ دودھ میں پائے جانے والے بیکٹیریا کے لحاظ سے دودھ کی گریڈنگ کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ جراثیم آلود دودھ کو ضائع کر دیا جاتا ہے، پھر دودھ کو پیسچرائزیشن کے عمل سے گزارا جاتا ہے، جس کے بعد دودھ کی دوبارہ اسکریننگ کی جاتی ہے۔ دوبارہ اسکریننگ کے دوران اگر دودھ کے کسی سیمپل میں بیکٹیریا کی مقدار/ تعداد ایک خاص لمٹ سے زیادہ پائی جائے تو اس دودھ کا پورا بیچ ہی ضائع کر دیا جاتا ہے۔ پوسٹ پیسچرائزیشن اسکریننگ کے بعد دودھ کو فریز کر دیا جاتا ہے۔

5۔ فریز کرنے کے بعد بھی ہفتے کے ہفتے دودھ کی اسکریننگ رینڈم سیمپلنگ کے ذریعے کی جاتی ہے اور مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے دودھ کو ضائع کر دیا جاتا ہے۔

6۔ فروزن دودھ کے پیکٹس پر سیریل نمبر، بیچ نمبر، ڈونر ماں / ماؤں کی شناختی تفصیلات، دودھ عطیہ کرنے کی تاریخ، پیسچرائزیشن کی تاریخ، فریز کرنے کی تاریخ اور ایکسپائری درج کی جاتی ہیں۔ تاکہ پہلے وصول اور پراسس ہونے والا دودھ پہلے فراہم کیا جا سکے۔

6۔ ہیومن ملک بنک میں محفوظ کیا ہوا دودھ ڈاکٹر کے نسخے پر فراہم کیا جاتا ہے اور بچے تک دودھ کی فراہمی میں کولڈ چین برقرار رکھی جاتی ہے۔ یعنی دودھ کسی آئس باکس یا کولڈ باکس میں بچے تک پہنچایا جاتا ہے۔ پھر روم ٹمپریچر یا 37 ڈگری فارن ہائیٹ پر دودھ بچے کو دیا جاتا ہے۔

دستاویزی ضروریات:

انڈیا میں دودھ عطیہ کرنے والی خواتین سے ایک اجازت نامہ پر دستخط لیے جاتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر دودھ عطیہ کر رہی ہیں۔ اسی طرح ملک بنک سے دودھ فراہم کیے جانے کے لیے ڈاکٹر کا ایک فارم فل کرنا اور دستخط کرنا ضروری ہوتا ہے یہ فارم ملک بنک کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ رہتا ہے۔ بچے کے لیے پہلی بار دودھ کی درخواست کے لیے ڈاکٹر کے درخواست فارم کے ساتھ متاثرہ بچے کے والدین کا اجازت نامہ بھی جمع کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے ملک بنک سے دودھ کی فراہمی اور استعمال کی اجازت دے رہے ہیں۔

دودھ عطیہ کرنے اور وصول کرنے والوں کے اجازت نامے پر دو دو گواہوں کے دستخط لیے جاتے ہیں۔

دودھ جمع کرنے سے لے کر پراسیسنگ، اسٹوریج، فراہمی ہر مرحلے پر دودھ کی پراپر لیبلنگ کی جاتی ہے اور ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

مدرز ملک بنک سے کن بچوں کو دودھ فراہم کیا جاتا ہے:

1۔ قبل از وقت یا کم وزن پیدا ہونے والے بچے جن کی ماؤں کا دودھ ان کے لیے ناکافی ہوتا ہے یا ماں کے دودھ میں مطلوبہ غذائیت کی کمی ہوتی ہے۔

2۔ معدے اور آنتوں کی مختلف بیماریوں مثلاً نیکروٹائزنگ اینٹیرو کو لائٹس یعنی آنتوں کے شدید مرض میں مبتلا نوزائیدہ بچے۔ یہ بیماری پری ٹرم پیدا ہونے والے بچوں میں پائی جاتی ہے ان بچوں کی آنتوں میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انہیں ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی غذا ہضم نہیں ہو پاتی اور ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

3۔ سروگیسی سے پیدا ہونے والے یا گود لیے جانے والے نوزائیدگان

4۔ یتیم خانوں میں بے سہارا چھوڑ دیے جانے والے یا پائے جانے والے نوزائیدہ بچے

5۔ ماں کی کسی بیماری کے باعث دودھ پلانے کے عمل میں رکاوٹ کا شکار بچے

6۔ ڈیلیوری کے دوران یا بچے کی پیدائش کے چھ ماہ کے اندر فوت ہو جانے والی ماؤں کے بچے

7۔ پری ٹرم یا وقت سے پہلے پیدا ہو جانے والے بچوں کو ان ماؤں کا دودھ فراہم کیا جاتا ہے جن کے اپنے بچے بھی پری ٹرم پیدا ہوئے ہوں۔

قانونی اور اخلاقی تقاضے:

ہیومن ملک بنک قائم کرنے کے لیے مختلف ممالک میں مختلف طریقہ ہائے کار ہیں کہیں وفاقی یا ریاستی/ صوبائی حکومت کی نگرانی میں یہ بنک قائم کیے جاتے ہیں اور کسی ملک میں بچوں کے علاج کا کوئی بھی ادارہ حکومت کی اجازت سے حکومت کے منظور شدہ معیارات کے مطابق ہیومن ملک بنک قائم کر سکتا ہے۔

دنیا بھر میں دودھ کا عطیہ عمومی طور پر رضاکارانہ طور پر دیا جاتا ہے تاہم عطیہ کنندہ کو سفر اور اسکریننگ چارجز کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ البتہ کہیں کہیں ڈونرز کو معاوضے کی ادائیگی بھی کی جاتی ہے۔ اسی طرح وصول کنندہ کو دودھ مفت فراہم کیا جاتا ہے تاہم ان سے بھی سفری اخراجات وصول کیے جا سکتے ہیں۔

کاروباری یا کمرشل پیمانے پر ہیومن ملک بنک بنا کر دودھ فروخت کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی ہر کوشش کا قلع قمع کرے اور مختلف ممالک میں حکومتیں یہ کرچکی ہیں۔

ہیومن ملک بنک بچوں میں وبائی امراض پھیلنے کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں جس سے بچاؤ کے لیے دودھ کی کلیکشن سے لے کر فراہمی تک ہر مرحلے پر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز [SOPs] پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔

دودھ عطیہ کرنے اور وصول کرنے والوں کا ریکارڈ مختلف ممالک میں مختلف مدت تک محفوظ رکھا جاتا ہے جیسے انڈیا میں 21 سال، برطانیہ میں 30 سال

مذہبی تقاضے :

مختلف مذاہب ہیومن ملک بنک کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں، مسلم ممالک میں ہیومن ملک بنک کن شرائط پر کام کر رہے ہیں اور پاکستان میں یہ بنک کس طرح اسلامی تعلیمات کے عین مطابق چلایا جاسکتا ہے اس بارے میں اگلے آرٹیکل میں بات کی جائے گی۔

🧒🧒🧒🧒🧒🧒



حوالہ جات:
  1. https://europeanmilkbanking.com/iran-opens-first-human-milk-bank/
  2. https://www.newbornjournal.org/abstractArticleContentBrowse/JNB/31210/JPJ/fullText
  3. https://www.who.int/news-room/events/detail/2022/12/12/default-calendar/who-donor-human-milk-banking-guidelines-development-meeting
  4. https://jag.journalagent.com/ejm/pdfs/EJM_15_4_163_167.pdf
  5. https://www.nice.org.uk/guidance/cg93
  6. https://www.liebertpub.com/doi/full/10.1089/bfm.2018.29077.gem
  7. https://www.iycfchapteriap.org/pdf/guidlines/Human-Milk-Banking.pdf
  8. https://reproductive-health-journal.biomedcentral.com/articles/10.1186/1742-4755-12-S1-S4#:~:text=Children%20whose%20mothers%20died%20during,within%20one%20year%20of%20childbirth.
  9. Consequences of maternal mortality on infant and child survival: a 25-year longitudinal analysis in Butajira Ethiopia (1987-2011)