Friday, May 8, 2026

قرار لوٹنے والے ~~

انتقامی فلمی گیتوں پر ایک تبصرہ

خدا کرے تجھے آدھی چھٹانک گھی نہ ملے
تیری پکی ہوئی ہانڈی بگھار کو ترسے

ایسے ہی پرانے گانے سنتے سنتے خیال آیا کہ فلمی گیتوں کی ایک فارم انتقامی گانوں کی بھی ہے ۔ گو کہ فلموں میں زیادہ تر رومینٹک گانے ہوتے ہیں، آئٹم سانگ ہوتےہیں یا پھر دکھی پریم نگری لیکن کبھی کبھی ہیرو یا ہیروئن انتقام پر بھی تو اتر آتےہیں، زیادہ تر ہیرو جیسے کہ

جس نے میرے دل کو درد دیا
اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں

علاوالدین اور مہدی حسن کا حسین کامبی نیشن فلم سسرال کا گانا ۔ "گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے " کے بعد ایک اور بہترین گانا جس میں علاوالدین اداکاری اور مہدی حسن گلوکاری کے عروج پر نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ گانا ہمیں مہدی حسن سے زیادہ سجاد علی کی آواز میں پسند ہے، کیونکہ پہلی بار سجاد علی کی آواز میں سنا تھا اوراس نے اتنا جم کر گا یا ہے کہ بس سواد آجائے۔ مکتوب الیہ تو آواز کی ٹون سن کر ہی پتلی گلی سے نکل لے۔
قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے

فلم سات لاکھ میں سنتوش ، منیر حسین کی آواز میں صبیحہ خانم کو بددعائیں دینے پر اترے ہوئے ہیں ۔ ویسے یہ ایک انتہائی خوفناک گانا ہے، ایسی ایسی بددعائیں کہ بندہ سن کے کانپ جائے۔ جیسے کہ
خدا کرے تیرا رنگین شباب چھن جائے
توروئے رات کی تنہائیوں میں اٹھ اٹھ کر
خدا کرے ترے دل کی کلی کبھی نہ کھلے وغیرہ وغیرہ

تیرا کسی پہ آئے دل ، تیرا کوئی دکھائے دل
تو بھی تڑپ تڑپ کر مجھے سے کہے کہ ہائے دل

رنگیلا اس گانے کے ذریعے سنگیتا کو بتا رہے ہیں کہ وقت پلٹ بھی سکتا ہے، آج تم ہمارے دل سے کھیلتی ہو، لیکن میری آہ نہ لگ جائے تمہیں کہ تم پہ بھی یہ وقت نہ آپڑے کہ تم بھی میری طرح تڑپتی پھرو ۔

آج تو غیر سہی، پیار سے بیر سہی
تیری آنکھوں میں کوئی پیار کا پیغام نہیں
تجھ کو اپنا نہ بنایا تو میرا نام نہیں

ارے ارے ارے یہ کیا ندیم تو بہت ہی غصے میں ہیں اور شبنم کو چیلنج دے رہے ہیں کہ آج میں تمہارے پیچھے خوار ہوں لیکن تم دم نہیں مارنے دیتیں، لیکن میں تمہیں رام کر کے رہوں گا۔ اب وہ اس چیلنج میں کتنے کامیاب رہے اس کےلیے تو آپ کو اسی کی دہائی کی کامیاب فلم دہلیز دیکھنی پڑے گی۔

ویسے یہی گانا دوسال بعد ایسے کا ایسے ہی ایک انڈین فلم میں راجیش کھنہ پر بھی فلمایا گیا ہے۔ لیکن اس میں وہ گھن گرج نہیں جو ندیم اور مہدی حسن والے گانے میں ہے.

بے وفا کون ہے کون ہرجائی ہے
فیصلہ آج محفل میں ہوجائے گا

اور فلم شبانہ میں وحید مراد بزبان مہدی حسن بابرہ شریف کو نتائج سے آگاہ کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں بابرہ حسن ان کے بڑَے بھائی شاہد سے پینگیں بڑھا رہی ہوتی ہیں۔ جبکہ شاہد بابرہ کی ہم شکل جڑواں بہن کی زندگی برباد کرنے کے بعد بابرہ کو ہی ایک بدلے ہوئے روپ میں اپنی بھابھی کے طور دیکھ کر توبہ تائب ہوچکے ہیں۔


مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے

ہائے۔ اس کے بارے میں بھی کچھ لکھنے کی ضرورت ہے کیا۔ بس سنیے اور سر دھنیے   


سرحد پار بھی ایسے ہی حالات ہیں۔

میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے

گزرے ہیں آج عشق میں ہم اس مقام سے 
نفرت سی ہوگئی ہے محبت کے نام سے 

ٹھکرا کے مجھے میرا انتقام دیکھے گی

تصویر محبت تھی جس میں ہم نے وہ شیشہ توڑ دیا توڑ دیا

میں طوائف ہوں مجرا کروں گی

🎵🎼🎻🎺🎹🎸🎷🎶🎤