مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکی کہ ہیلن کو آئٹم گرل کے طور پر کیوں ضایع کیا گیا۔ آپ نے اکثر و بیشتر ہیلن کے رنگین اور ننگے پنگے گانے ہی دیکھیں ہونگے۔ لباس ایسا کہ صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں۔ وی سی آر کے زمانوں میں جب سارا محلہ ایک ساتھ بیٹھ کر ڈان، شعلے اور اسی قسم کی مووی دیکھا کرتا تھا، اور چاچا، خالہ، گڈو، پپو، بےبی، منا،، ان آئٹم سانگز کو دیکھتے ہوئےسب ایک دوسرے سے نظر کا پردہ فرما لیا کرتے تھے، ہیلن کے ہر اسٹیپ پر جیا دھڑک دھڑک جاتا تھا کہ ہائے بس اب چلمن اٹھنے کو ہے۔ لیکن ، ، ، ،
لیکن ان ننگے پنگے گانوں سے پہلے ہیلن بھی یقیناً ہیروئن بننے کے خواب لے کر ہی انڈسٹری میں آئی ہونگی۔ ان بلیک اینڈ وائٹ گانوں میں ان کی اداکاری، رقص اور ایکسپریشنز دیکھنے کے لائق ہیں۔
ہمارے فیورٹ کچھ گانے جن میں ہیلن کے حسن کا جادو بندے کو محصور کردیتا ہے۔ پہلا اور آخری گانا ہمارے پرسنل فیورٹس میں شامل ہیں۔
کاجل فلم کا گیت
"یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا"
یہ رات پھر نہ آئے گی کا گیت
حضور والا اگر اجازت ہو
فلم اناڑی کا یہ گانا
پارس منی فلم کا یہ نغمہ
اوئی ماں اوئی ماں یہ کیا ہوگیا
شکاری فلم کا گیت
تم کو پیا دل دیا اتنے ناز سے ہوو
ہلاکو مووی کا یہ گانا کون بھول سکتا ہے
دل کا نہ کرنا اعتبار کوئی
🎼🎷🎵🎻🎺🎤🎹🎸🎷🎶🎼