Sunday, May 24, 2026

ورک پلیس ہراسمنٹ سے متعلق چند اہم باتیں

باعثِ تحریر

 اس تحریر کا باعث بننے والا بی بی سی اردو کا مضمون اس لنک پرموجود ہے:


PC: BBC Urdu

اس پر ہماری رائے


اس پورے واقعے سے خواتین کو کچھ باتیں نوٹ کرنا چاہئیں کہ کسی مرد کی کوئی غلط بات خواہ مذاق میں ہی کیوں نہ کہی گئی ہو اسے اسی وقت غلط کہنا چاہیے اور اس پر آواز اٹھانی چاہیے خواہ پہلی بار ہو، دوسری یا تیسری اور ایسے آّواز اٹھانی چاہیے کہ دو چار لوگ اسے نوٹ کریں۔

ایک بار میرے ایک نسبتاً جونیر مرد کولیگ نے دفتر کے کوریڈور میں میرے لباس کی تعریف میں کچھ کہنا چاہا میں نے اسے اسی وقت باآواز بلند روک دیا کہ آپ کو اس ضمن میں کچھ بھی فرمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ دن اور آج کا دن کوئی خاتون بھی مشکل ہی میرے لباس پر تبصرہ کرتی ہوگی۔ کم از کم میرے سامنے

جب بھی ایسا کچھ ہو اپنے ساتھ یا دوسری کسی خاتون کے ساتھ۔ اپنے ساتھ موجود کولیگز کو یہ بات واضح الفاظ میں سنائیں اور بتائیں مطلب اسے رجسٹر کریں لوگوں کے ذہن میں کہ یہ غلط ہوا ہے۔ ان میں کوئی وقت پر آپ کا گواہ بن سکتا ہے ، نہیں تو کم از کم لوگ آپ سے بدتمیزی کرنے سے بچیں گے۔ کہ یہ تو ہر بات کو کھل کر کہ دیتی ہے سب کے سامنے۔

اگر دفتر میں یا ورک پلیس پر کیمرے لگے ہیں تو ان کی پکچر یا ویڈیو اپنے موبائل میں بھی بنا کر محفوظ کرلیں اور کسی اعتبار کے بندے/بندی کو بھی واٹس ایپ کردیں کہ بعد میں ایمپلائر انکار نہ کرسکے کہ سی سی ٹی وی کیمرا نہیں لگا۔

کوئی دفتر میں باآواز بلند خواتین مخالف/ گالم گلوچ یا اسی قسم کی دیگر حرکتیں کررہا ہو تو اس کی اگر ویڈیو نہیں تو آڈیو ضرور ریکارڈ کریں خاموشی سے۔

کسی مخصوص شخص سے اگر بار بار شکایت ہو تو اس کی حرکتوں کو باقاعدہ ڈائری میں تاریخ اور تفصیل کے ساتھ نوٹ کریں۔ اور دفتر میں یہ ڈائری کبھی کبھی سب کے یا کچھ لوگوں کے سامنے بھی کھول کر شکایت درج کریں ارد گرد لوگوں کو یہ سناتے/ جتاتے ہوئے کہ میں یہ کررہی ہوں لاگ بک تیار ہورہی ہے۔ یہ لاگ بک آپ کے موبائل میں با تصویر اور با آواز بھی بن سکتی ہے۔

کسی دوسری خاتون کے ساتھ کوئی بدتمیزی کرے تو اس کا ساتھ دیں تاکہ خواتین ایک دوسرے کے ساتھ پر خود کو پراعتماد اور محفوظ محسوس کریں ۔اکھٹا ہونے، کسی کے ساتھ ہونے کے احساس سے انسان کی ہمت بڑھتی ہے جبکہ  جتھہ کے سامنے اگلے کی ہمت کمزور پڑتی ہے۔

اور آخری بات: جب ہم خواتین کسی جگہ مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں تو خود بھی خیال کریں اپنی ڈریسنگ کا۔ یہ وکٹم بلیمنگ نہیں بلکہ پری وینشن / حفظ ماتقدم کے خیال سے مشورہ ہے۔ اگر آپ کسی جنگل میں ہوں جہاں بھیڑیے ہوں تو آپ جان بوجھ کر ان کے سامنے آئیں گی یا ان سے بچ کر راستہ نکالیں گی۔ دفتر اور باہر کی دنیا ایسا ہی جنگل ہے، اور ساتھ کام کرنے والے بھیڑیا نما۔ ان سے بچ کر رہیں۔ یہاں پورے پردے اور نقاب میں ڈھکی اور چھپی ہوئی خاتون محفوظ نہیں ہے بھیڑیوں سے ۔ تو آپ کو ان کے سامنے ہی ٹائٹس اور سی تھرو کپڑے پہن کے شو مارنی ہے۔

ایک مرتبہ مکران کوسٹل ہائی وےپر میں ڈرائیو کررہی تھی ابا ساتھ بیٹھے تھے۔ سامنے میری لین میں ایک بڑا ٹینکر آرہا تھا۔ میں ضد میں کہ یہ میرا راستہ ہے میرا حق ہے اس سائیڈ پر ، یہ ہٹے میں کیوں راستہ چھوڑوں۔ اسے ڈمر اور ہارن دیے لیکن وہ سر پر چڑھا آرہا تھا، ابا نے میرا اسٹیرنگ پکڑ کر گاڑی موڑی اور کہا کہ تمہیں اپنی اور بچوں کی زندگی بچانی ہے تو راستہ چھوڑنا پڑے گا کیوں کہ اس نے نہیں ہٹنا اسے پتا ہے کہ وہ ایک ٹکر مار کے تمہاری گاڑی اور تمہارے پرخچے اڑا دے گا۔ گاڑی اس کی اپنی نہیں ہے اس لیے اسےاپنی گاڑی کی فکر تو ہے نہیں ، وہ جیل جائے گا تو اس کا سیٹھ اس کے خاندان کو پالتا رہے گا ۔ ۔ تم سوچو تمہارا اور بچوں کا کیا بنے گا اس حادثے کے بعد

سو آپ خواتین یہ سوچیں کہ سی تھرو اور ٹائٹس کے بعد آپ کس خطرے میں ہیں۔ یہ سب خواتین اونلی محفلوں میں انجوائے کرلیں۔ لازمی ہے کہ بھیڑیوں کے سامنے شکار پیش کریں۔

24th May : International Day against Harassment and for inclusion in the world of work



Say No to as well
to