Showing posts with label Independence Day. Show all posts
Showing posts with label Independence Day. Show all posts

Friday, August 14, 2026

تقسیم کے موقعے پر ہندو اور مسلم جائدادوں کا وٹہ سٹہ

رپورٹ : رابرٹ نیوائل، لائف میگزین۔ 11 اگست 1947
بہ راہ کرم: مبشر علی زیدی
ترجمہ: نسرین غوری

ایک ہندوستانی کرسچن جوزف اسیروادم نے نئی دہلی کے علاقے کناٹ پیلس میں ایک نئے کاروبار کی شروعات کیں۔ ایک میز اور دو کرسیاں ادھر ادھر سے مانگ کر اور اپنے ایک دوست سے ادھار لیے ہوئے آٹھ بائی دس کے کمرے میں سیٹ کر کے، مسٹر اسیروادم نے اخبار میں ایک اشتہار دیا جس کے مطابق " مسٹرجوزف اسیروام پراپرٹی ڈیلر نے نئی دہلی میں دفتر قائم کیا ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جائدادوں کے تبادلے کے لیے کام کرے گا۔ انہیں یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دس ملین روپے تک کے کاروبار یا جائداد کا تبادلہ کروا سکتے ہیں۔" اس اشتہار کے چھپتے ہی انہیں اتنے لوگوں نے رابطہ کیا کہ سر کھجانے کی فرصت نہ ملی۔ ان کے دفتر میں سائلین کا تانتا بندھ گیا ۔

Tuesday, May 5, 2026

تھینکیو ایوری ون

شہزاد کے بعد پہلا روڈ ٹرپ

شہزاد کی زندگی میں بہت لوگ ہمارے ساتھ ٹرپس پر جانا چاہتے تھے، اوربہت سے لوگ جاتے بھی تھے، ابا کے دوست، اس کے اپنے دوست اور ہمارے دوست بھی۔ وہ سیر و تفریح کا شوقین اور انتہا کا محنتی تھا۔ ٹرپ چاہے ابا کے دوستوں کا ہی ہوتا وہ اس میں شامل نہ بھی ہوتا تب بھی پورے دو دن سامان اکھٹا کرنے اور واپس ٹھکانے لگانے میں لگاتا۔ جب وہ بھی ساتھ جاتا تو ٹرپ کی ساری ذمہ داری اس کی ہوتی۔ کھانا پکانا، برتن دھونا اور سارا سامان ڈھونا گھر سے گاڑی، گاڑی سے کیمپ تک اور واپس گھر تک۔

فیملی ٹرپ ہوتا، ساتھ ہمارے دوست بھی شامل ہوتے تب بھی سارے کام خود کرتا اپنے شوق سے اور اپنی ذمہ داری پر۔ ہمارے ایک دوست کی بیگم کے بقول انہیں اپنے میاں سے زیادہ شہزاد پر بھروسہ تھا کہ شہزاد کی موجودگی میں سب کچھ ٹھیک رہے گا۔